پاکستان میں مسیحوں کے وراثتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی ملک کی پہلی اسمبلی بن گئی ہے۔ پنجاب میں 101 سال پرانے اقلیتی وراثتی قانون کو مسیحی برادری کے لیے تبدیل کرنے کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ مجوزہ بل قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فیلبوس کرسٹوفر نے جمع کروایا۔ ملک بھر میں مسیحیوں کی وراثتی تقسیم کے لیے سال 1925 کے اقلیتوں کے قانون وراثت کا اطلاق کیا جا رہا ہے، جس کا اطلاق جین، پارسی اور بدھ مت ماننے والوں پر بھی ہوتا ہے، جبکہ مجوزہ نئے مسیحی قانون وراثت کا اطلاق صرف مسیحی برادری پر ہوگا۔
بل کے متن کے مطابق کسی بھی مسیحی مرد یا عورت کی جائیداد اس کے لڑکوں اور لڑکیوں میں برابر تقسیم کی جائے گی، دوسری شادی کی صورت میں سوتیلے بہن بھائیوں میں بھی جائیداد برابر حصوں میں تقسیم ہوگی۔ مجوزہ قانون کے تحت مسیحی مرد کے انتقال کی صورت میں جائیداد میں سے بیوہ کو ایک تہائی حصہ دیا جائے گا اور مسیحی عورت کے انتقال پر خاوند کو ایک تہائی حصہ ملے گا۔ مرحوم مرد یا عورت اپنی جائیداد کا 25 فیصد بطور وصیت کسی کو دے سکے گا جبکہ بقیہ 75 فیصد وارثان میں مجوزہ قانون کے مطابق تقسیم ہوگا۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرحوم کے وارثان پنجاب سکسیشن ایکٹ 2025 کے تحت نادرا میں رجسٹرڈ ہوں گے اور وراثت کی تقسیم کے تحائف اور ہبہ کو بھی رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ فیلبوس کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سے پنجاب میں بسنے والے 25 لاکھ مسیحی اپنے بنیادی وراثتی حق سے مستفید ہوں گے، یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے لیے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے دیگر صوبوں کو بھی اقلیتوں کے لیے مثبت قانون سازی کا موقع ملے گا۔
