وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے یانگسی پر واقع دنیا کے معروف تھری گورجز ڈیم کا دورہ کیا، جہاں انہیں پن بجلی کی پیداوار، سیلاب پر قابو پانے، پانی ذخیرہ کرنے اور دریا کے انتظام کے حوالے سے چین کے تجربات پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزراء؛ شرجیل انعام میمن، جام خان شورو، محمد بخش خان مہر، معاونِ خصوصی سید قاسم نوید اور سینئر افسران پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چینی حکام نے دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی گھر کی منصوبہ بندی، تعمیر اور آپریشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام نے وفد کو بتایا کہ تھری گورجز ڈیم کی تعمیر تقریباً دو دہائیوں میں مکمل ہوئی اور اسے 2012ء میں مکمل کیا گیا۔ اس ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 22,500 میگاواٹ ہے، جبکہ یہ سالانہ 100 ٹیراواٹ گھنٹے سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ صاف توانائی کی پیداوار کے علاوہ یہ منصوبہ دریائے یانگسی کے ساتھ سیلاب پر قابو پانے اور اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے پانی ذخیرہ کرنے، سیلابی صورتِ حال کو منظم کرنے اور آبی حالات کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کے مربوط نظام میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں مون سون کے موسم میں تباہ کن سیلاب اور خشک ادوار میں پانی کی قلت شامل ہیں۔ ان حالات میں پانی کے مؤثر انتظام کو صوبے کی ایک اہم اسٹریٹجک ترجیح بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھری گورجز ڈیم کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ
جدید انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے آبی وسائل کو معاشی ترقی، توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ دریائے سندھ کے نظام کے ذریعے مختلف موسموں میں پانی کی خاطر خواہ مقدار دستیاب ہوتی ہے، تاہم مستقبل میں زرعی، شہری اور صنعتی ضروریات کے لیے اضافی پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب کے نقصانات کم کرنے اور آب پاشی کے انتظام کے لیے جدید اور مؤثر حل تلاش کرنا ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی اور پانی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت چین کے آبی انتظام کے ماڈل کے متعلقہ پہلوؤں کو سندھ میں اپنانے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔ ان میں بالخصوص آبی ذخائر کو چلانے اور ان کا انتظام کرنے، سیلاب کی پیش گوئی، پانی کے ساتھ آنے والی مٹی اور گاد کے انتظام اور میٹھے پانی کو ذخیرہ کرنے کے طریقے شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کو خشکی کی جانب بڑھنے سے روکنے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے آبی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ترقیاتی ضروریات اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے تحفظ سے متعلق کسی بھی حکمتِ عملی میں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی ماحولیاتی ضروریات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور سیلاب و خشک سالی سے متاثر ہونے والی کمزور آبادیوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے ہمراہ موجود افسران کو ہدایت کی کہ وہ آبی حالات کی نگرانی، جدید اور خودکار آبی ذخائر کے انتظام اور دریا کے پورے طاس کے مربوط انتظام کے حوالے سے چین کے بہترین طریقوں کا مطالعہ کریں تاکہ انہیں سندھ کی ضروریات کے مطابق اپنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ دورہ وزیراعلیٰ سندھ کے چین کے ایک ہفتے پر مشتمل سرکاری دورے کا حصہ تھا، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ چینی حکام نے آبی وسائل کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے حوالے سے تکنیکی مہارت اور تجربات کا تبادلہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے ان شعبوں میں مستقبل میں ادارہ جاتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ بریفنگ کے بعد وفد نے ڈیم اور اس کے آبی نقل و حمل کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے مختلف مقامات کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ سرکاری دورے کے اگلے مرحلے کے لیے ووہان روانہ ہوگیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تھری گورجز ڈیم میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ اس فلم میں ڈیم کی تعمیر، مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت اور دیگر بحری نقل و حمل کے مناظر پیش کیے گئے تھے۔ پیشہ ورانہ طور پر انجینئر ہونے کے ناتے سید مراد علی شاہ نے تھری گورجز ڈیم کو انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز شاہکار قرار دیا۔






