وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیر صدارت صحت کے شعبے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیر صدارت صحت کے شعبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مارچ 2027 تک میڈیکل کالج کی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کرنے اور دیگر اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ، سیکریٹری صحت، سیکریٹری قانون اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے نمائندے سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔​اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ میڈیکل کالج کی کلاسز شروع کرنے کے لیے سیکریٹری صحت اور سیکریٹری قانون ایک ہفتے کے اندر ضروری قانون سازی کا مسودہ تیار کریں۔ انہوں نے سیکریٹری صحت کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) سے رابطہ کر کے تمام ضروری تقاضے پورے کرنے اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اشتراک سے فوری طور پر مفاہمتی یادداشت (MoU) تیار کرنے کے احکامات دیے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لیے درکار تمام وسائل کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

​وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان میڈیکل کالج2009 کے ٹرانزیشنل پلان کا حصہ تھا جسے تاحال فعال نہیں بنایا جا سکا۔ خطے کے ہونہار طلبہ میرٹ پر آنے کے باوجود ملک کے دیگر میڈیکل کالجز میں محدود نشستوں کے باعث داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں، جبکہ صوبے کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ صحت کا شعبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔

​بعد ازیں، وزیراعلیٰ نے کارڈیک ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ریکروٹمنٹ رولز کا ازسرنو جائزہ لینے اور کنٹریکٹ پر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ اس کے علاوہ، گلگت میں مینٹل ہیلتھ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر نہ ہونے کے باعث مریضوں کو علاج کے لیے دیگر علاقوں کا رخ کرنے کرتے ہیں جہاں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے گلگت کی اولڈ جیل کی عمارت میں مینٹل ہیلتھ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس منصوبے کو فوری فعال بنانے کے لیے سیکریٹری صحت، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات، سیکریٹری سوشل ویلفیئر اور آئی جی جیل خانہ جات پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو آئندہ سات دنوں میں اپنی سفارشات منظوری کے لیے پیش کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button