برصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں خواجہ خورشید انور ایک ایسا نام ہیں جنہوں نے سازوں کے بغیر بھی سروں کی ایسی دنیا آباد کی جو آج تک دلوں میں گونج رہی ہے۔ ان کی 30 اکتوبر 2026 کو 42ویں برسی ہے۔ خواجہ خورشید انور کوئی باقاعدہ ساز بجانا نہیں جانتے تھے، مگر ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر دھن کا آغاز کر دیتے اور پھر وہی معمولی سی آواز ایک لازوال نغمے کی بنیاد بن جاتی۔ ’’دل کا دیا جلایا‘‘، ’’مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے‘‘، ’’رم جھم رم جھم پڑے پھوار‘‘، ’’جس دن سے پیا دل لے گئے‘‘، ’’آ گئے گھر آ گئے بلم پردیسی‘‘، ’’او جانے والے رے‘‘، ’’چھن چھن ناچوں گی‘‘ اور ’’سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے‘‘ جیسی دھنیں ان کے تخلیقی کمال کی روشن مثالیں ہیں۔خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912ء کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق کسی موسیقی کے گھرانے سے نہیں تھا، تاہم گھر کا ماحول موسیقی سے لبریز تھا۔ ان کے والد فیروزالدین لاہور کے معروف بیرسٹر تھے اور کلاسیکی موسیقی کے شیدائی تھے۔ گھر میں ہزاروں ریکارڈ موجود تھے اور استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں، استاد عاشق علی خاں اور دیگر بڑے فن کار محفلوں میں شریک ہوتے۔ انہی محفلوں نے خورشید انور کے اندر چھپے موسیقار کو بیدار کیا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاہور سے 1935ء میں فلسفہ میں ایم اے کیا اور اول آئے، مگر گولڈ میڈل لینے کی تقریب میں جانا بھی گوارا نہ کیا۔ اگلے برس مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی، لیکن آزادی کی تحریک اور انقلابی نوجوانوں سے روابط کے باعث انٹرویو میں نااہل قرار دے دیے گئے۔ یہی ’’ناکامی‘‘ آگے چل کر برصغیر کی فلمی موسیقی کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئی۔

1939ء میں آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوئے اور 1941ء میں ’’کڑمائی‘‘ سے فلمی موسیقی کا آغاز کیا۔ 1943ء کی ’’اشارہ‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 1947ء میں کے ایل سہگل نے بھی ان کی بنائی ہوئی دھن پر اپنی زندگی کا آخری فلمی گیت گایا۔
1952ء میں پاکستان آنے کے بعد انہوں نے فلمی موسیقی کو نئی شناخت دی۔ 1956ء کی ’’انتظار‘‘ نے نورجہاں کے فن کو نئی زندگی بخشی اور خواجہ صاحب کو پاکستان کے صفِ اول کے موسیقاروں میں پہنچا دیا۔ ’’کوئل‘‘، ’’جھومر‘‘، ’’حویلی‘‘، ’’زہرِ عشق‘‘، ’’ہیر رانجھا‘‘، ’’شیریں فرہاد‘‘، ’’مرزا صاحباں‘‘ اور ’’سلام محبت‘‘ سمیت متعدد فلمیں ان کی لازوال موسیقی سے یادگار بنیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 18 فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور بعض فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔فیض احمد فیضؔ ان کی موسیقی سے بے حد متاثر تھے اور کہا کرتے تھے کہ ان کی شاعری میں خورشید انور کا جذب موجود ہے۔ خواجہ صاحب کا ایک عظیم ثقافتی کارنامہ ’’آہنگِ خسروی‘‘ بھی ہے، جس میں برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے 90 راگ محفوظ کیے گئے۔ان کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور کے مطابق موسیقی کے لیے ساز بجانا لازمی نہیں، کیونکہ ہماری موسیقی بنیادی طور پر صوتی موسیقی ہے۔ خورشید انور اس حقیقت کے جیتے جاگتے ثبوت تھے۔ 1980ء میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کی بنائی ہوئی دھن ریڈیو پاکستان کی ابتدائی شناخت بھی بنی۔30 اکتوبر 1984ء کو خواجہ خورشید انور دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کے سُر آج بھی زندہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف فلمی موسیقار نہیں تھے، وہ برصغیر کی تہذیبی، کلاسیکی اور فلمی موسیقی کے ایسے معمار تھے جنہوں نے ناکامیوں کو بھی فن کی کامیابی میں بدل دیا۔
