وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے متنازعہ نہری منصوبے کے خلاف سڑکوں پر اس لیے احتجاج کیا کیونکہ بالائی سطح سے لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور نہر کا جھوٹا افتتاح کیا گیا۔ اسی وجہ سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام سے براہِ راست رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اصل حقائق واضح کیے جا سکیں۔انہوں نے یہ بات منگل کے روز کارڈینل ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ پوپ فرانسس کے انتقال پر تعزیت کے لیے پہنچے تھے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دریائے سندھ پر مجوزہ نئی نہروں کے خلاف خود کو اپوزیشن کی قیادت کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں اور خود کو قوم پرست کہنے والے افراد کی جانب سے شروع کیے گئے احتجاج پی پی پی کے احتجاج کے کافی بعد شروع ہوئے۔ ’’انہوں نے ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2024 میں ان نہروں کی مخالفت شروع کی جبکہ پی پی پی کی سندھ حکومت نے جون 2024 میں مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) میں اپنا مؤقف پیش کیا اور وفاقی حکومت سے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) میں اس منصوبے کو روکنے پر بات چیت شروع کی جس کے نتیجے میں منصوبہ مؤثر طور پر رک گیا۔‘‘

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ہم تمام جماعتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو اس منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ یہ ہمارا مشترکہ مقصد ہے۔ یہ ایک متنازعہ منصوبہ ہے جو نہ صرف صوبے کے مفاد کے خلاف ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہے۔ میں عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی میں وکلا برادری کے کردار کا احترام کرتا ہوں لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ پی پی پی نے آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج کریں لیکن سڑکیں بند نہ کریں اور عوام کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
مراد علی شاہ نے ان ویڈیوز پر تشویش کا اظہار کیا جن میں مظاہرین کو سڑکیں بند کرتے ہوئے دکھایا گیا جس کے نتیجے میں ایمبولینسیں پھنس گئیں اور شہروں کے درمیان مویشی لے جانے والے افراد کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ غیر مناسب ہے۔ ہمیں آپ کے احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عوام کےلیے مسائل پیدا کیے بغیر آپ کا ساتھ دیں اور اس مقصد پر متحد ہوں۔ انہوں نے سڑکوں کے بجائے متبادل مقامات پر احتجاج کرنے کی تجویز دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی حمایت سے ان نہری منصوبوں کی تعمیر کو روک دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی 2024 سے ان نہروں پر کوئی کام نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے متنازعہ نہری منصوبے کے خلاف احتجاج کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ اپر ریپیرین (دریا کے بالائی حصے کی انتظامیہ) نے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کیں اور جھوٹے طور پر نہر کا افتتاح کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی لیے چیئرمین بلاول بھٹو نے عوام سے براہِ راست رابطہ کرنے اور حقیقت واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔ مراد علی شاہ نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ایسی غلط معلومات پھیلانے سے گریز کرے جو صوبے کے عوام میں مزید اشتعال پیدا کر سکتی ہوں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یہ منصوبہ جولائی 2024 سے معطل ہے اور ایکنک میں اس کی منظوری نومبر 2024 سے رکی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ایکنک میں اس نہری منصوبے کی منظوری کو آگے نہیں بڑھایا لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ منصوبہ ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ ہم وفاقی حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس منصوبے کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کرے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم پانی کے مسائل اور خوراک کی سلامتی پر وفاقی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ان مسائل کا حل نئی نہریں تعمیر کرنا نہیں ہے۔ ان مسائل کا حل پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافے سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں رانا ثناءاللہ نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے انہیں پیپلز پارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور ہم نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے پارٹی قیادت کی جانب سے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس کے بعد فون پر بات چیت بھی ہوئی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے جولائی 2024 میں ان نہروں پر کام رکوادیا دیا تھا جبکہ ان میں سے ایک شخص جو خود کو اس معاملے کا چیمپیئن کہتے ہیں، پہلی بار نومبر 2024 میں بولے یعنی اس وقت سے دس ماہ بعد جب سندھ حکومت نے یہ منصوبہ رکوادیا دیا تھا۔ دسمبر اور جنوری میں بیانات آئے پھر وکلا کی جانب سے احتجاج ہوا جسے ہم نے خوش آمدید کہا کیونکہ یہ ایک مشترکہ مقصد کا معاملہ ہے۔ تاہم ذاتی طور پر ضبط کے باوجود مجھے افسوس ہے کہ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ کسی اور کے اشاروں پر کھیل رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ اگر ہم یہ منصوبہ نہ روک پاتے تو ہم خود ہڑتالوں کی کال دیتے کیونکہ ہمیں احتجاج کرنا آتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے پہلے بھی آمروں کے خلاف لڑائی لڑی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ لڑ سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب نہر پر کام بند ہو چکا ہے اور ہم نے اس منصوبے کو متعلقہ فورم پر منظور نہیں ہونے دیا تو پھر سڑکیں کیوں بند کی جا رہی ہیں اور عوام کو تکلیف کیوں دی جا رہی ہے؟۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ وزیراعظم آج ترکی جا رہے ہیں اور ان کی واپسی پر توقع ہے کہ منصوبے کو روکنے کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب نچلی سطح کے علاقوں کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تو برطانوی حکومت نے بالائی سطح کے منصوبوں کو مسترد کر دیا تھا تو اب اس اصول پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم نچلے دریائی علاقوں کے عوام کے جائز تحفظات کو مدنظر رکھیں گے کیونکہ اس معاملے کے نتائج سب پر عیاں ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر کا اختتام وزیراعظم سے سندھ کے جائز تحفظات پر توجہ دینے کی اپیل کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم انصاف سے کام لیں گے اور عدل کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے برطانوی دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت بھی بالائی علاقوں کے نہری منصوبے نچلے علاقوں کے لیے خطرناک سمجھے جانے کی بنیاد پر مسترد کیے گئے تھے۔ انہوں نے عالمی سطح کی بہترین مثالوں کی جانب بھی اشارہ کیا، خاص طور پر بھارت کی اندرا نہر کا حوالہ دیا اور میڈیا و عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مفاد کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں۔
این ایف سی
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے حالیہ سیاسی پیش رفت اور وفاقی سطح پر فیصلوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جو سندھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 19 اپریل کو وفاقی وزیر خزانہ نے ایک خط کے ذریعے سندھ سے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے لیے نمائندہ تجویز کرنے کا کہا جبکہ یہ عمل 14 ماہ پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم سے این ایف سی کے لیے نمائندہ نامزد کرنے کو کہا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہمارے تحفظات کا احترام کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ پنجاب کے کسانوں نے خود آئندہ سال گندم کی پیداوار پر خدشات کا اظہار کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمیں جدید زرعی حل کی ضرورت ہے نہ کہ بے مقصد آبی منصوبوں کی۔
تعلیمی بورڈز
مراد علی شاہ نے تعلیمی اصلاحات پر بھی بات کی اور بتایا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کو شفاف سرچ کمیٹی کے ذریعے میرٹ پر تعینات کیا گیا۔ تاہم کچھ امیدواروں نے تقرری کے بعد چارج سنبھالنے سے انکار کر دیا جسے انہوں نے افسوسناک قرار دیا۔
پوپ فرانسس کے انتقال پر تعزیت
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پوپ فرانسس (جورج ماریو بیروگلیو) کے انتقال پر تعزیت کے لیے کارڈینل ہاؤس کا دورہ کیا اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پوپ فرانسس کو عالمی روحانی رہنما اور انسانیت کا سفیر قرار دیا، ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔وزیراعلیٰ نے ویٹی کن اور عالمی کیتھولک برادری سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پوپ فرانسس کا بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور خدمت کا پیغام انسانیت کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا انتقال دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پوپ فرانسس نے اتحاد، ہمدردی اور امن کا علم بلند کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ ہمیشہ وہ صوبہ رہا ہے جو ہر مذہب، قوم اور برادری کو گلے لگاتا ہے۔ ہم اس غم کی گھڑی میں اپنے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے سے متعلق پوپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف اور امن کے لیے ایک جرات مند آواز تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک عظیم انسان سے محروم ہو گئی ہے۔






