گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی اور گلاف ٹو پراجیکٹ کے اشتراک سے قدرتی آفات سے بچاؤ کے عالمی دن کی مناسب سے جی بی ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا مقصد آٹھ اکتوبر 2005کے خوفناک زلزلے سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی سے متعلق عوام الناس میں شعور اجاگر کرنا تھا۔

تقریب میں سرکاری وغیرسرکاری اداروں کے عہدیداران، میڈیا کے نمائندے، سول سوسائٹی کے افراد اور طلبا وطالبات کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے معاون خصوصی برائے ڈیزاسٹرمنیجمنٹ محمدعلی قائد نے کہا کہ آٹھ اکتوبر 2005کا خوفناک زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ اور ناقابل فراموش باب ہے جس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے اور لاکھوں خاندان بے گھر ہوئے، تاہم اس آفت سے ہمیں مستقبل کے چیلنجوں بالخصوص قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی کا سبق دیا جس کی روشنی آج جی بی ڈی ایم جیسے ادارے کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات کے تدارک کے سلسلے میں ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران استور اور غذر کے مختلف علاقوں میں متاثرین کی فوری امداد اور انفراسٹیکچر کی بحالی کا کام حکومتی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی شجاع عالم، کمشنر گلگت ڈویژن کمال خان، ڈائریکٹر گرین پاکستان آصف اللہ خان، ڈائریکٹر جنرل سکولز فیض اللہ لون، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تحفظ ماحولیات خادم حسین،کوارڈینیٹر گلاف ٹو رشید الدین، سکریٹری پاکستان ریڈکریسنٹ عمران رانا، پروگرام منیجر آغاخان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ پرویز احمدو دیگر نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے سلسلے میں تمام امدادی اداروں کو مل کر ایک مربوط اور منعظم منصوبہ بندی سے کام کرنے اور اس موضوع کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے پرزور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق شعور اجاگر کیا جاسکے۔






