کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور کراچی سسٹم کے کرتا دھرتاؤں کی ملی بھگت سے نیو ملیر سکیم مین کوریڈور کی 20 ارب روپے مالیت کی قیمتی زمین کے 8 ایکٹر کمرشل پلاٹس پر قبضہ ہوگیا ہے۔ زمین واگزار کرانے کیلئے آپریشن کے بجائے آئی واش کیلئے تین افسران کو معطل کرکے پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے

جو قبضہ کی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی میں شامل بعض افسران پر اتھارٹی کی سرکاری زمین پر قبضہ کرانے پر متعدد مقدمات درج ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نجم الدین سہتو کے دستخط سے جاری حکمنامہ میں ڈائریکٹر فنانس وقار علی سومرو کو کمیٹی کا نگران اور ڈائریکٹر پلاننگ لائیق احمد، سپریٹنڈنٹ انجینئر سراج نذیر، ایگزیکٹو انجینئر شاہ لطیف ٹاؤن، رضوان احمد اور ایگزیکٹو انجینئر تیسر ٹاؤن محمد عارف کمیٹی میں شامل ہیں۔ کمیٹی نیو ملیر سکیم کے بلاک 3 نیشنل ہائی وے پر 300 فٹ چوڑی روڈ پر مین کوریڈر میں واقع کمرشل پلاٹ پر قبضہ کی تحقیقات کرکے 7 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گے۔ کمیٹی زمین پر قبضہ میں ملوث ان افسران و افراد کے نام کا بھی کھوج لگائے گی اور قبضے میں ملوث افسران و عملے اور غیر سرکاری افراد پر مقدمات درج کرنے کی سفارش کرے گی جبکہ ڈائریکٹر جنرل نجم الدین سہتو نے پہلے ہی نیو ملیر سکیم ون کے ایگزیکٹیو انجینئر ذیشان حسین، اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر خالد اقبال اور اینٹی انکروچمنٹ ڈائریکٹر علی اسد خان پر بلاک 3 نیو ملیر سکیم ون میں اربوں روپے مالیت کی زمین پر قبضہ کے جرم میں ملازمت سے معطل کر کے شاہ لطیف ٹاون کے ایگزیکٹیو انجینئر سید محمد رضوان کو نیو ملیر سکیم ون کا اضافی عہدہ دے دیا گیا ہے،جو کمیٹی میں بھی شامل ہیں۔ ڈائریکٹر پلاننگ لئیق احمد پر تیسر ٹاؤن میں سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کے الزام میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ سیل کے سابق ڈائریکٹر عرفان بیگ کراچی سسٹم کا نام استعمال کرکے اربوں روپے مالیت کی زمینوں کو ٹھکانے لگا چکے ہیں۔ نیو ملیر سکیم ون کے قبضہ کیس میں عرفان بیگ کا نام لیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا یہ پہلا واقع نہیں ہے۔ شاہ لطیف ٹاؤن، تیسر ٹاون کے ساتھ نیو ملیر سکیم کے متعدد بلاکس اور سیکٹرز میں افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ ہوچکا ہے۔ کراچی میں سرکاری اداروں کی سرپرستی میں زمینوں پر قبضہ کا گھناؤنا اور شرمناک کھیل کراچی سسٹم محمد علی شیخ کی نگرانی کے تحت جاری ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب)، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کے ساتھ دیگر تحقیقاتی ادارے مع ایم کیو ایم(پاکستان)دیگرسیاسی جماعتوں چمک کے زیر اثر مکمل خاموش ہیں۔پولیس کی سرپرستی میں لینڈ گریبرز اربوں روپے مالیت کی سرکاری و غیر سرکاری زمینوں کو ٹھکانے لگاتے جارہے ہیں۔اس گھناؤنے کھیل میں بورڈ آف ریونیو، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، مختیار کار،تپہ دار،سندھ کچی آبادی اتھارٹی، MDA کے افسران و عملہ بھی بل واسطہ یا بلاواسطہ ملوث بتایا جارہا ہے۔ اتھارٹی میں رشوت، کمیشن اور کک بیک کے گھناؤنے کاروبار کی وجہ چیئرمین و وزیر بلدیات سعید غنی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات، ڈائریکٹر جنرل اتھارٹی کے ساتھ تحقیقاتی اداروں نے بھی چمک کے آگے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ زمین پر قبضہ، روز بروز نئے نئے گوٹھ بن جانے، کچی آبادیوں کے قیام کے ساتھ اربوں روپے مالیت کی اراضی کو ٹھکانے لگانے کا کاروبار عروج پر ہے جبکہ کراچی سسٹم کے تحت چلنے والا ادارہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی برباد ہو چکا ہے جہاں صفائی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ فرنیچرز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن اس کو ریپیئر کرانے یا نیا فرنیچر خریدنے کی طرف وزیر سمیت کسی کو توفیق نہیں ہے۔ عملے کی اکثریت غیر حاضر رہتی ہے لیکن ان کو چیک کرنے والا سٹاف خود غیر حاضر رہتا ہے۔ 19 نومبر 2024 کو گیارہ بجے ڈائریکٹر جنرل نجم الدین سہتو کے اچانک دورے کے دوران 58 میں سے 20 ورک چارج کے ساتھ ہنگامی فرائض ادا کرنے والے افراد غائب تھے اور ادارہ میں اکثر سرکاری ملازم کو رخصت پر ہیں جبکہ کام کرنے والوں کی اکثریت ورک چارج پر ملازمین دفتر کے معاملات چلارہے ہیں۔ اتھارٹی کی بدانتظامی کا یہ حال ہے کہ ادارہ میں نظام ہی نہیں چل رہا ہے سب افسران دھندے میں ملوث ہیں اور وزیر بلدیات کی آنکھیں بھی چمک کے آگے خیرہ ہیں اور انہیں بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل نجم الدین سہتوکے دورے کے دوران جو لوگ موجود تھے وہ بغیر کام کے بے کار کھڑے تھے۔دفتر کا احاطہ بھی صاف صفا ی نہیں تھا۔ دفتر کے گراؤنڈ کی حالت بھی قابل دید نہیں تھی اس پر ایم ڈی کو ایکشن لینا چاہیئے تھا ۔تاہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔۔۔






