وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ اسٹریٹجک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (عوامی و نجی شراکت داری) کے ذریعے انفرااسٹرکچر، توانائی، جدت اور ماحولیاتی پائیداری کے شعبوں میں نئے معیارات قائم کر رہی ہے۔ صوبے نے منگل کے روز اینرٹیک ہولڈنگ کمپنی کے اشتراک سے تین بڑے سنگِ میل عبور کیے۔وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں نبیسر واجیہر واٹر سپلائی منصوبے کی کمرشل آپریشنز تاریخ کی تکمیل، این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے لیے کنسیشن معاہدے پر عمل درآمد اور ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ مجموعی طور پر یہ منصوبے 740 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تقریب میں صوبائی وزراء، سرمایہ کاری کے لیے وزیرِ اعلیٰ کے خصوصی معاون سید قاسم نوید، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کویت کی انرٹیک ہولڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبداللہ المطیری، سفارت کاروں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ان کے اقدامات انفرااسٹرکچر کی ترقی، توانائی کے تحفظ، جدت، ماحولیاتی پائیداری اور مؤثر عوامی و نجی تعاون کے لیے سندھ کے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
تھر کوئلہ کے لیے 215 ملین ڈالر کا پانی منصوبہ
وزیرِ اعلیٰ نے نبیسر وجیہر واٹر سپلائی منصوبے کو ایک تاریخی کامیابی اور سندھ کی تاریخ کے سب سے بڑے اور پیچیدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ تھر کوئلہ پاور پلانٹس کو پانی کی قابلِ اعتماد اور پائیدار فراہمی یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تھر کوئلہ پاور منصوبوں کو پانی کی مستقل اور پائیدار فراہمی کو یقینی بناتا ہے جس سے 1,650 میگاواٹ بجلی کی پیداوار براہِ راست ممکن ہو گی اور قومی سطح پر بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی۔215 ملین امریکی ڈالر کا یہ منصوبہ تھر بلاک اوّل کے پاور پلانٹس کو 45 کیوسک پانی فراہم کرے گا۔ حکومت سے حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ انتظام کے تحت بنائے گئے اس منصوبے میں حکومتِ سندھ اور حکومتِ کویت کے قریبی تعاون کے باعث نمایاں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر میں دنیا کے چھٹے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جو کئی دہائیوں تک استعمال میں نہیں لائے جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر نے اب سب کو حیران کر دیا ہے۔ آج دنیا کی سستی ترین بجلی تھر کے کوئلے سے پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تھر کوئلہ منصوبوں کے لیے پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ انہوں نے نبیسرواجیہر منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دانستہ طور پر دریا کے پانی کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ پہلے ہی محدود ہے۔ اس کے بجائے ہم نے ایک متبادل حل تیار کیا۔ مہنگائی، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بلند شرحِ سود جیسے عالمی معاشی دباؤ کے باوجود منصوبے نے کامیابی کے ساتھ کمرشل آپریشنز تاریخ حاصل کر لی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ تمام متعلقہ فریقین کی ثابت قدمی، پیشہ وارانہ مہارت اور عزم کا واضح ثبوت ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے انرٹیک واٹر پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبداللہ المطیری کو منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے اور سات ارب روپے سے زائد کی لاگت بچت حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک نے ایک بار پھر اہم عوامی انفرااسٹرکچر کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔
این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے لیے کنسیشن معاہدے پر عمل درآمد ایک اور تاریخی سنگِ میل ہے کیونکہ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (عوامی و نجی شراکت داری) ماڈل کے تحت پاکستان کا پہلا کسی جامعہ کے تحت چلنے
والا سائنس اور ٹیکنالوجی پارک ہو گا۔
125ملین امریکی ڈالر کی متوقع لاگت سے تیار ہونے والے اس منصوبے کا مقصد تجارتی تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی سے منسلک یہ منصوبہ سندھ کو نالج بیسڈ معیشت کے مرکز کے طور پر متعارف کرائے گا اور اعلیٰ قدر کی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا۔
سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومتِ کویت کے ذیلی ادارے انرٹیک کے اشتراک سے شروع کیے گئے اس منصوبے کو ماضی میں ضابطہ جاتی رکاوٹوں سمیت متعدد مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا کئی بار افتتاح کیا گیا مگر اب یہ حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آج ہم کنسیشن معاہدے پر عمل درآمد کر رہے ہیں اور انرٹیک پر زور دیا کہ منصوبہ تیز ترین رفتار سے مکمل کیا جائے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی پارک میں سلیکون ویلی جیسی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ انہوں ںے بتایا کہ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے بعد ہمارے نوجوان انجینئرز کو مواقع کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رسمی افتتاح کے فوراً بعد عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ
ماحولیاتی پائیداری کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 400 ملین امریکی ڈالر سے زائد لاگت کا ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ کراچی میں ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے ایک دیرینہ خلا کو پُر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق ویسٹ واٹر کی صفائی کو یقینی بنائے گا اور کراچی کی صنعتوں کو صنعتی معیار کا پانی فراہم کرے گا جو اب تک صوبائی اور وفاقی سطح پر حاصل نہیں ہو سکا۔وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور انرٹیک کے اشتراک سے بنایا جانے والا یہ منصوبہ شہر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ میں نمایاں بہتری کے ساتھ صنعتی ترقی کو سہارا دے گا۔وسیع تر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پورٹ فولیو
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سنگِ میل سندھ کے وسیع تر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پورٹ فولیو کا حصہ ہیں جس میں حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے، کراچی ٹھٹہ ڈوئل کیرج وے اور شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے جیسے اہم سڑک اور انفرااسٹرکچر منصوبے، نیز عوامی ٹرانسپورٹ، پانی، تعلیم، صحت اور شہری انفرااسٹرکچر کے بڑے اقدامات شامل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے اور سر آغا خان جھِرک ملا کٹیار پل جیسے منصوبوں نے اپنے کمرشل قرضے مکمل طور پر ادا کر دیے ہیں جبکہ کراچی ٹھٹہ ڈوئل کیرج وے نے بھی رواں سال قرضوں کی ادائیگی مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ پر 12 کلومیٹر طویل کشمور کندھ کوٹ پل تکمیل کے قریب ہے اور اس سے پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔وزیرِ اعلیٰ کے مطابق ایم نائن سے این فائیو لنک روڈ کی تکمیل سے علاقائی روابط میں بہتری آئی ہے جبکہ شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے اب مارچ 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس تاخیر پر اطمینان نہیں، مگر منصوبہ مکمل ہونے کے بعد کراچی میں ٹریفک دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ پورٹ سے قیوم آباد ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبہ بھی جلد شروع کیا جائے گا جسے ایک سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے بندرگاہ کے ٹریفک کا سفر ایک گھنٹے سے زائد وقت سے کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ جائے گا، بندرگاہ سے متعلق ٹریفک کی 24 گھنٹے آمد و رفت ممکن ہو گی اور آپریشنل صلاحیت دگنی ہو جائے گی۔
سیاسی قیادت، تنقید اور شہری چیلنجز
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے کامیاب ریکارڈ کا کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابیاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی دوراندیش قیادت کے بغیر ممکن نہ تھیں جن کی رہنمائی سندھ کی ترقی کی سمت متعین کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکا ہے اور عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر ہے جبکہ وفاقی حکومت نے بھی سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو سراہا ہے۔صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بعض لوگ اب بھی سندھ حکومت کی صلاحیتوں پر شک کرتے ہیں تاہم سندھ کے عوام نے بارہا پاکستان پیپلز پارٹی کو بڑھتے ہوئے مینڈیٹ کے ساتھ منتخب کر کے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم نے ڈیلیور کیا، ہم نے لوگوں کو حیران کیا ہے۔شہری مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے بالخصوص کراچی کے تناظر میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے تسلیم کیا کہ تیزی سے اور غیر منصوبہ بند آبادی میں اضافے کے باعث سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل میرے پیدا کردہ نہیں ہیں لیکن میں ان کے حل کی ذمہ داری لیتا ہوں اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔ وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جلد کورنگی میں انڈس اسپتال نیٹ ورک کی ایک سہولت کا افتتاح کریں گے جبکہ انہوں نے بتایا کہ کورنگی کاز وے پر تاج حیدر کے نام سے ایک نیا پل تعمیر کیا گیا ہے تاکہ بارشوں کے دوران آمد و رفت میں خلل نہ آئے۔حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت شفاف اور سرمایہ کار دوست انداز میں اپنے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پورٹ فولیو کو مزید وسعت دیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور اداروں کی مسلسل حمایت کے ساتھ سندھ جدید، مضبوط اور جامع انفرااسٹرکچر کی ترقی میں صفِ اوّل پر رہے گا۔وزیرِ اعلیٰ کے خصوصی معاون سید قاسم نوید نے آج شروع اور دستخط کیے گئے منصوبوں پر شرکاء کو بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کی حمایت اور پارٹی قیادت کی رہنمائی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی بدولت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ ملک کے نمایاں اداروں میں شامل ہوا ہے۔
انرٹیک سربراہ کی سندھ حکومت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کی تعریف
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انرٹیک ہولڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ المطیری نے سندھ حکومت کی مضبوط ادارہ جاتی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نبیسر وجیہر واٹر سپلائی منصوبہ صوبائی حکومت کے مکمل تعاون کے باعث بروقت مکمل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نبیسر وجیہر منصوبے کی بروقت تکمیل سندھ حکومت کی غیر متزلزل حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔انہوں نے سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو بہترین ادارہ جاتی فریم ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یونٹ بڑے اور پیچیدہ انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ عبداللہ المطیری نے کہا کہ تھر کوئلہ منصوبوں کو پانی کی فراہمی سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں نمایاں مدد ملے گی بلکہ خطے میں توانائی اور اس سے منسلک انفرااسٹرکچر کی مجموعی ترقی کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کوئلہ منصوبوں کو پانی کی فراہمی بجلی کی پیداوار اور مستقبل کی صنعتی ترقی کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو گی۔صوبائی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اینرٹیک کے سربراہ نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک دوراندیش رہنما قرار دیا جن کی قیادت میں متعدد اہم منصوبے شروع کیے گئے اور کامیابی سے آگے بڑھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت نے بلند ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے صوبے اور ملک کے مفاد میں پائیدار اور اعلیٰ اثر رکھنے والے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل کے لیے حکومتِ سندھ کے ساتھ شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔






