وزیراعلیٰ سندھ نے سی آرٹس سنٹر سکھر کے احاطے سے عدالتوں کی منتقلی کا حکم دے دیا ،کمشنر اپنا دفتر انہیں دے دیں یا وزیراعلیٰ ہاؤس آ جائیں لیکن آٹزم کا شکار بچوں کی جگہ خالی کریں، مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تمام چاروں صوبوں کو مل کر ملک کی ترقی کےلیے کام کرنا چاہیے، پہلے ملکی ترقی کا سوچیں نہ کہ کسی کو جیل میں ڈالنے کا۔

وہ سکھر میں نئے سی آرٹس سنٹر کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی کال دی ہے یا واپس لے لی ہے۔ ہماری توجہ اپنے کام پر ہے۔ تمام چاروں صوبوں کو مل کر ملک کی ترقی کےلیے کام کرنا چاہیے، پہلے ملکی ترقی کا سوچیں نہ کہ کسی کو جیل میں ڈالنے کا۔

مراد علی شاہ نے اس موقع پر آٹزم سینٹر سے اینٹی انکروچمنٹ کورٹ کو مناسب جگہ پر منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے ڈی اور کمشنر کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر کہیں جگہ نہیں ہے تو اپنے دفاتر خالی کرکے عدالت کو جگہ دیں لیکن آٹزم کا شکار بچوں کی جگہ کو خالی کرائیں اور اگر کہیں جگہ نہیں ملتی تو وزیراعلیٰ ہاؤس آ جائیں میں عدالت کو وہاں جگہ دے دوں گا۔

معذور افراد کے ملازمتی کوٹہ پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی غلط بھرتی ہوا ہے تو اسے نکال دیا جائےگا۔ شکایات پر سخت کارروائی کی جائےگی۔

کینالوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہے۔ فی الحال کسی کینال پر کام نہیں ہو رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بھرتیاں خالص میرٹ کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اس کے نیچے لکھا گیا ہے کہ میں ملازمت کی لائن میں کھڑا ہوں حالانکہ اس وقت میں ایم پی اے تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بھرتیوں میں میرٹ کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے شہید صحافی جان محمد مہر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے بھولے نہیں ہیں، شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button