خیبرپختونخوا امیونائزیشن پروگرام،دوسال میں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر

بچوں میں مختلف بیماریوں کی روک تھام کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کا اہم اقدام،گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت امیونائزیشن پروگرام کو موثر انداز میں چلانے کے لئے ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا گیا. وزیر اعلٰی علی امین خان گنڈاپور نے ایکشن پلان پر عمل درآمد کا اجراء کردیا۔یہ حال ہی میں جاری کرہ صوبائی حکومت گڈ گورننس روڈ میپ کا پہلا ایکشن پلان ہے جس پر باضابطہ عملدرآمد شروع کردیا گیا۔

پروگرام کے تحت اگلے دو سال میں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح کو 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ اس وقت صوبے میں حفاظتی ٹیکہ جات کے کوریج کی شرح 55 فیصد ہے۔ ایکشن پلان کے تحت ہر سال 2 سال سے کم عمر 14 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی۔ بارہ مختلف بیماریوں سے بچاو کے لئے ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ صوبہ بھر میں ویکسینیشن ٹیموں کی استعداد بڑھانے کےلئے اقدامات بھی پلان میں شامل ہیں۔ پلان پر عمل درآمد کے لئےٹرانسپورٹ بجٹ 8 کروڑ سے بڑھا کر 44 کروڑ 80 لاکھ روپے کر دیا جائے گا۔ صوبے میں 1800 سے زائد ویکسینیشن مراکز کو فعال بنایا جائے گا۔ ہر مرکز میں تربیت یافتہ عملہ، کولڈ چین اور ویکسینز کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ ویکسینیشن کی کم شرح والے شہری و دیہی علاقوں میں خصوصی ویکسینیشن مہمات کا اجراء کیا جائے گا۔ ایکشن پلان کے تحت اہداف کے حصول کے لیے مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کیا جائے گا۔ ہر 6 ماہ بعد ویکسینیشن کوریج کا آزادانہ تجزیہ ہوگا۔ویکسینیشن سے متعلق عوامی رویّوں پر سروے کرایا جائے گا۔ سروے نتائج کی بنیاد پر مؤثر آگاہی مہمات چلائی جائیں گی۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے، پولیو کے ساتھ ساتھ ہم بچوں کو دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ بنانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، اس مقصد کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کو مستحکم بنانے کے لئے ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے، یہ صرف ایکشن پلان نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی پولیو کے خاتمے کے لیے کمٹمنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے ، اصل کام ایکشن پلان پر ان گراونڈ عملدرآمد ہے، متعلقہ محکمے، ادارے اور ضلعی انتظامیہ اس پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ایکشن پلان کے اہداف کا حصول اگر چہ مشکل ہے لیکن یہ ناممکن نہیں، بہتر ٹیم ورک، عزم اور محنت کے ذریعے ہم یہ اہداف حاصل کریں گے، رواں مالی سال کے بجٹ میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے لیے 8 ارب روپے رکھے گئے ہیں ، بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے سلسلے میں تعاون کے لئے بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے تعاون کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم سب مل کر صوبے کو پولیو سمیت دیگر موذی امراض سے پاک کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button