یکم نومبر: یوم آزادی گلگت بلتستان یوم عہد تجدید وفاء

یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے باسیوں نے ڈوگرہ راج کو مستردکرتے ہوئے آزادی کی جنگ میں کامیابی حاصل کی اور مہینوں پر محیط جدوجہد کا ثمر بھی پالیا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے مجاہدین نے بے سروسامانی کی حالت میں ڈوگرہ راج کو شکست فاش دی اور ڈوگرہ مظالم اور استحصال کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ بھی کیا۔ گلگت بلتستان میں ڈوگرہ راج کے انتظامی سربراہ گورنر گھنسارا سنگھ کو جی بی سکاوٹس نے گرفتار کرکے خطے کی آزادی پر مہر ثبت کردی اور ریاست پاکستان کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی بنیاد بھی رکھی۔ آزادی کے ہیروز نے ناگفتہ بہ حالات اور بغیر کسی بیرونی امداد کے ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی باقاعدہ تربیت یافتہ ڈوگرہ افواج کو ناکوں چنے چبواتےہوئے ان پر غلبہ حاصل کیا ۔ یا درہے کہ اس خطے کی عوام اور جنگ آزادی کے ہیروز نے ڈوگرہ افواج کو سازو ساما ن اور اسلحہ کی برتری کے باوجود گلگت بلتستان کی سرحدوں سے مار بھگایا۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کی آزادی کا دن ہے، جو پاکستان کے ساتھ اس کے اٹوٹ انگ رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دن نہ صرف آزادی کے لئے کئے گئے مسلح جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس دن کی نسبت سے دنیا کو یہ بھی باور کرایا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کا اٹوٹ انگ کا رشتہ ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام نے پاکستان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑتے ہوئے غیر مشروط طور پر الحاق کا اعلان کیا اور عوامی جذبات کی بھرپور توثیق کی۔ اس دن کی یاد ہر سال تزک و احتشام سے منائی جاتی ہے اور خطے کے ہر شہر و قصبے میں جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ مجاہدین کی یاد میں گلگت بلتستان کے لوگ ان کی قربانیوں کو سلام کرتے ہیں اور ان کی بہادری کو یاد رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق ایک تاریخی فیصلہ تھا ، یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور اقتصادی سطح پر بھی اہم تھا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق نے گلگت بلتستان کو ایک مستحکم ملک کے ساتھ جوڑ دیا، جس سے خطے کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوا۔گلگت بلتستان اور پاکستان کے الحاق کا فیصلہ نہ صرف سیاسی بلکہ ثقافتی اور سماجی سطح پر بھی ایک اہم موڑ تھا، گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کو بہت عزیز رکھتے ہیں اور یہ رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ آزادی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں گلگت بلتستان کی تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔ ڈوگرہ راج کے تحت، گلگت بلتستان کے لوگوں کو بے شمار مظالم کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انہیں اپنی ثقافت، زبان، اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی نہیں تھی۔ آزادی کے بعد، گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنی زندگیوں کو اپنے مطابق گزارنے کی آزادی ملی، جو کہ مقامی آبادی کی ترقی اورخوشحالی کا بنیادی ستون ہے ۔ ڈوگرہ راج کے تحت گلگت بلتستان کے لوگوں کو بے شمار مظالم کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مقامی لوگوں سیاسی، سماجی، اور اقتصادی استحصال کا شکار تھے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے اس جبر اور مظالم کے خلاف جدوجہد کی اور اپنی آزادی کی جنگ لڑی۔ ان کی جدوجہد نے نہ صرف گلگت بلتستان کو آزاد کروایا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے خود فیصلے کر سکیں گے ۔ پاکستان کی اہمیت گلگت بلتستان کے لیے بہت زیادہ ہے۔ پاکستان نے گلگت بلتستان کو سیاسی، سماجی، اور اقتصادی استحکام فراہم کیا ہے۔ پاکستان کی سرپرستی میں، گلگت بلتستان نے اپنی ترقی کی راہ پر تیزی سے قدم بڑھائے ہیں۔ اس حقیقت سے کسی باشعور انسان کو انکار نہیں کہ حکومت پاکستان کے سول اور دفاعی اداروں نے گلگت بلتستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خطے میں بیروزگاری کی خاتمے کے لئے اقدامات، انفراسٹرکچر کی بہتری ، بجلی کی پیداوار کے منصوبے، سڑکوں کی تعمیر، مقامی سیاحت کی ترقی ، تعلیمی اداروں بشمول قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، خواتین اور مردوں کے لئے کالجز، سکولز کا قیام اس امر کی دلیل ہیں کی حکومت پاکستان نے اپنے وسائل سے گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں۔ صحت عامہ کے شعبے پر نظر ڈالی جائے تو خطے نے حال ہی میں اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت گلگت میں اولین کینسر ہسپتال کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور ہسپتال کو مکمل طور پر فعال کیا جا چکا ہے۔ گلگت شہر میں ہی خطے کا اولین امراض قلب کا ہسپتال بھی آپریشنل بنایا جا چکا ہے جہاں سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ دور افتادہ علاقہ ہونے کے سبب ماضی میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے کینسر اور امراض قلب کے مریضوں کو راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہروں میں موجود علاج گاہوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ صحت سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری اور سہولیات کی فراہمی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان نے روز اول سے گلگت بلتستان کی ترقی کو مقدم رکھا ہے۔ آئیے اس دن کی مناسبت سے ہم سب عہد کریں کہ اجتماعی اور انفرادی کوششوں سے پیارے وطن پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مملکت پاکستان کو معاشی و سیاسی سطح پر دنیا کی ایک اہم قوت بنا سکیں۔

 

تحریر : محمد سلیم خان۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان

جواب دیں

Back to top button