عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے
(Huawei)نے گلگت بلتستان میں اپنے ”اسمارٹ ولیج“ پروگرام کے آغاز میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے، جس کا مقصد دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ تجویز نگران وزیر اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی گلگت بلتستان غلام عباس اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اے آئی اینڈ کلاوڈ بزنس، ہواوے پاکستان احمد بلال مسعود کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران زیرِ غور آئی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات نے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی طویل عرصے سے جاری مشکلات پر روشنی ڈالی، خاص طور پر دور دراز اضلاع میں کم بینڈوڈتھ اور انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث تعلیمی، تجارتی اور فری لانسنگ کے مواقع محدود ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہواوے کو دعوت دی کہ وہ علاقائی حکومت کے ساتھ مل کر براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور علاقے کے جغرافیائی حالات کے مطابق جدید آئی ٹی حل متعارف کرانے میں تعاون کرے۔ احمد بلال مسعود نے مختلف شعبوں بشمول مائننگ، کاروباری ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ باضابطہ شراکت داری کی تجویز پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید آئی ٹی مہارتوں کی تربیت دینے پر زور دیا، جس میں مصنوعی ذہانت، کلاوڈ کمپیوٹنگ اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تجویز کے تحت گلگت بلتستان کے چھوٹے اضلاع میں آئی ٹی پارک کے قیام کی بھی سفارش کی گئی تاکہ اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے احمد بلال مسعود نے کسی مناسب عمارت، ترجیحاً سرکاری ملکیت، کی فراہمی کی درخواست کی تاکہ اسے ٹیکنالوجی انکیوبیشن اور تربیتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ہواوے کے ”اسمارٹ ولیج“ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے، جو ملک کے مختلف حصوں بشمول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نافذ کیا جا چکا ہے، انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کو گلگت بلتستان کے منفرد جغرافیے کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور عوامی مقامات پر تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ طلبہ اور مقامی کاروباری افراد آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای کامرس سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔تاہم انہوں نے پیشہ ورانہ خدمات مکمل طور پر مفت فراہم کرنے کے حوالے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل مفت خدمات سے پائیدار کاروباری ماڈل کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت مستحق افراد کو سہولت دینے کے لیے سبسڈی فراہم کرنے پر غور کر سکتی ہے تاکہ مارکیٹ پر مبنی نظام بھی برقرار رہے۔ ملاقات کے دوران وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی ماہرین کی سب سے بڑی تعداد ہواوے کی عمان برانچ میں خدمات انجام دے رہی ہے، جو خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں انسانی وسائل کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا مظہر ہے۔ نگران وزیر غلام عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت ڈیجیٹل ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے اور مقامی آئی ٹی ماہرین، فری لانسرز اور کاروباری نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ ترجیحی شعبوں کا تعین کیا جا سکے۔ ان سفارشات کو باقاعدہ طور پر ہواوے کی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ایک منظم تعاون کا فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق بہتر رابطہ کاری، منظم تربیت اور سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے گلگت بلتستان کو قومی ڈیجیٹل معیشت میں موثر انداز میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔





