بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی وزراء، سیکرٹریز اور وفاقی محکموں کے سربراہان کی ایک ساتھ کوئٹہ آمد،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اہم اجلاس

بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی وزراء، سیکرٹریز اور وفاقی محکموں کے سربراہان کی ایک ساتھ کوئٹہ آمد،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔وفاق سے متعلق بلوچستان کے قابل حل زیر التواء امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت پیٹرولیم، منسٹری آف میرین آفئیرز، ایف بی آر، انفارمیشن، وزارت توانائی، وزارت ریلوے، وزارت مواصلات نے بریفنگ دی۔ پلاننگ کمیشن، منسٹری آف فارن افئیرز ، وزارت اطلاعات و نشریات، پی ٹی اے ، وزارت قانون حکام کی بریفنگ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، وزارت خزانہ ، وزارت ہوائی بازی، وزارت مذہبی امور، وزارت تجارت ، وزارت قانون و انصاف کی جانب سے بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بلوچستان کی حدود میں چھ ہزار کے لگ بھگ فشنگ بوٹس کی ون ٹائم ایمنسٹی رجسٹریشن کی تجویز پیش کی گئی۔غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مربوط رابطہ کاری پر اتفاق ہوا۔

غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لیے ٹریکنگ سسٹم ، کنٹرول روم اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ وزرات پیٹرولیم کی جانب سے پی پی ایل کے ذمہ واجب الادا تین سالہ واجبات کی بلوچستان کو ادائیگی پر اتفاق کیا۔بلوچستان میں انسداد اسمگلنگ مہم کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔بلوچستان میں زمینداروں کو درپیش برقی مسائل پر گفتگو ہوئی۔زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزرات خزانہ ، اور وزارت توانائی نے شمسی ٹیوب ویلوں کی تنصیب کی مد میں زمینداروں کو باقی ماندہ رقم کی ادائیگی پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی کے منصوبے کو جلد پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا، وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری نے یقین دہانی کروائی۔بلوچستان میں ریلوے ٹریک اور سفری سہولیات کو محفوظ بنانے کیلئے آئی جی ریلوے پولیس رائے طاہر کی بریفنگ و تجاویز، ریلوے پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور جدید دفاعی سہولیات کی فراہمی کی تجویز پر غور کیا گیا۔وزارت مواصلات کی صوبے میں جاری شاہراہوں کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ ، پیش رفت سے آگاہ کیا گیا

۔ماشکیل پنجگور روڑ منسلکہ گوادر پورٹ ساتھ ریکوڈک اور سیندک پر پیش رفت میں تیزی پر اتفاق ،

3 سال سے زیر التواء کچھ ہرنائی سنجاوی روڑ اور وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت سبی ہرنائی روڑ پر کام شروع کرنے پر اتفاق، پلاننگ کمیشن کا ورلڈ بنک کے تحت بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روڑ انفراسٹرکچر کی بحالی کی یقین دہانی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کچھی کینال کی جلد تکمیل کے لیے سالانہ مختص وسائل میں اضافے کی یقین دہانی کروائی گئی۔وزیر اعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق ہر ڈویژن میں سوشیو اکنامکس چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے ایک بلین کے فنڈز کے جلد از جلد اجراء پر اتفاق ہوا۔پلاننگ کمیشن کا گودار سیف سٹی پروجیکٹ اور این ایچ اے کے منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کروائی گئی۔ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت میں ملوث ممالک کے خلاف سفارتی اقدامات کے لئے وزارت خارجہ کی بریفنگ،کوئٹہ میں بول ٹی وی اور جی این این کے بیورو آفسز کی بحالی سمیت تمام قومی میڈیا چینلز کے دفاتر فعال کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔بلوچستان حکومت کی جانب سے کوئٹہ، تربت اور نصیر آباد ڈویژن میں تمام ٹی وی چینلز کے بیورو آفس قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی موثر یقین دہانی کروائی۔بلوچستان میں دہشت گردی اور سب ورژن میں ملوث سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔سوشل میڈیا آوٹ لیٹس پاکستان کے ریجنل ہیڈ کوئٹہ کا دورہ کرکے ریاست مخالف پروپیگنڈوں میں ملوث اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کریں گے ۔وزیر اعظم آفس کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین مستقل رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔بلوچستان کے تناظر میں انٹر نیٹ سروسز کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔بلوچستان وائٹ کالر کرائم ، مالیاتی تبادلوں اور سائبر کرائم کے تدارک کے لیے ایف آئی اے کو متحرک کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے اور غیر قانونی ٹرالنگ سے نمٹنے کیلئے وسائل کی فراہمی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر سی ٹی ڈی کو فعال کیا جائے گا ۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے یکجا قومی بیانیے کے فروغ اور مفاد عامہ کے قومی ایشوز کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کرنے کا عزم کیا گیا۔مسنگ پرسن سے متعلق صوبائی سطح پر موثر قانون سازی کے لئے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔انٹر نیٹ ڈیٹا سروسز کی بہتری کیلئے اقدامات پر وزرات آئی ٹی کی یقین دہانی کروائی گئی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بلوچستان میں PAS شئیر کی گریڈ 17 تا 21 کی 108 خالی آسامیوں پر تقرری کی یقین دہانی کروائی۔بلوچستان میں پی ایس پی افسران کی کمی کو پورا کیا جائے گا، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی یقین دہانی اور ایران جانے والے زائرین کے محفوظ سفر و سہولیات کے لیے وزارت مذہبی امور کی جانب سے اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے بی آئی ایس پی کے تحت لغڑیوں کے گزر معاش کے لیے متعارف کردہ پیکج کے لیے فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کروائی گئی۔وزارت ہوا بازی کی جانب سے بلوچستان کے مجوزہ منصوبوں اور تجاویز کا خیر مقدم، اقدامات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کروائی۔ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق تجاویز پر وزارت تجارت کی سنجیدگی سے غور کی یقین دہانی، ہنڈی اور غیر قانونی ترسیلات زر کے لئے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 میں ترمیم پر اتفاق ہوا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے وزراء کی کوئٹہ آمد ایک خوش آئند اقدام ہے۔ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔وفاق سے متعلق مسائل حل ہونے سے بلوچستان کا بیانیہ مضبوط ہوگا۔ شمسی ٹیوب ویلوں کے منصوبے میں تاخیر سے زمینداروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ انسداد اسمگلنگ مہم میں کسٹم کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔بلوچستان میں کوئی موٹر وے نہیں، محکمہ مواصلات پانچ کلو میٹر موٹر وے ہی بنا دے۔بلوچستان کے لوگ بھی بتا سکیں گے کہ صوبے میں موٹر وے موجود ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو اسمگلنگ سے نکال کر ہارورڈ سمیت دنیا بھر کی ممتاز یونیورسٹیوں میں تعلیم دیں گے۔

بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل زمباد نہیں، تعلیم ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کچھی کینال منصوبے میں تاخیر پر اظہار تشویش ، 24 سالوں سے کینال مکمل نہیں ہوپائی۔کچھی کینال کمانڈ ایریا کے زراعت پیشہ افراد معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔امید ہے کہ اس اجلاس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button