وفاقی حکومت نے بینک ٹرانزیکشنز پر نئے ٹیکس نافذ کر دیئے، صارفین پریشان

وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لیے ہر قسم کی بینک ٹرانزیکشنز پر ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ فائلرز پر بھی روزانہ 50,000 روپے سے زائد کی نکلوائی پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔

نئے ٹیکس نظام کی تفصیلات

نئے ٹیکس نظام کے تحت، فائلرز سے روزانہ 50,000 روپے سے زائد کی نکلوائی پر 0.3% ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ نان فائلرز سے 0.6% وصول کیا جائے گا۔ مزید برآں، بینکوں نے بھی اپنے چارجز میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں اے ٹی ایم کارڈ فیس، ایس ایم ایس الرٹ فیس، اور دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم استعمال کرنے کی فیس شامل ہیں۔ ان اضافی چارجز کے باعث بینک صارفین اور عملے کے درمیان تنازعات بڑھ گئے ہیں، اور بہت سے لوگ بڑھتی ہوئی لاگت پر اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

بینک چارجز میں اضافہ

چونکہ بینکوں نے یکم جولائی سے اپنے چارجز کے شیڈول میں نظر ثانی کی ہے، صارفین کو بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے دوہرا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے بینکوں کے صارفین کے لیے اے ٹی ایم استعمال کرنے کی فیس 18 روپے سے بڑھا کر 34 روپے فی ٹرانزیکشن کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اے ٹی ایم کارڈ کی فیس میں 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اور ایس ایم ایس الرٹ سروس فیس 1,200 روپے سے بڑھا کر 2,000 روپے کر دی گئی ہے، جو کہ 800 روپے کا اضافہ ہے۔

نان فائلرز اور نکلوائی کی حدود

نان فائلرز کو 20,000 روپے یا اس سے زیادہ کی نقد نکلوائی چیک کے ذریعے کرنے پر 522 روپے کی کٹوتی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں، بینکوں نے اے ٹی ایم صارفین کے لیے روزانہ نکلوائی کی حدیں مقرر کر دی ہیں:

* معیاری ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز روزانہ 25,000 سے 50,000 روپے تک نکال سکتے ہیں۔

* پریمیم کارڈ ہولڈرز روزانہ 500,000 روپے تک نکال سکتے ہیں۔

* غیر ملکی ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز روزانہ 200 سے 500 ڈالر کے برابر رقم نکال سکتے ہیں۔

روزانہ 50,000 روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی کٹوتی خود بخود ہوگی۔

موجودہ چارجز کے علاوہ، بینک اب بین الاقوامی اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز کے لیے یا تو شرح مبادلہ کی بنیاد پر یا بینک کی طرف سے مقرر کردہ فکسڈ فیس پر چارجز کاٹیں گے۔

بینکوں کی پوزیشن اور صارفین کا ردعمل ان تنازعات کے بعد بینکوں نے چارجز کے شیڈول میں نظر ثانی کے لیے 1Link سے رابطہ کیا ہے۔ بینکوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلیاں بینکنگ ٹرانزیکشنز پر اثر انداز ہوں گی اور نقد معیشت کو فروغ دیں گی۔ بڑھتے ہوئے چارجز اور ٹیکس کی شرحوں نے بینک صارفین میں مایوسی پیدا کی ہے، جس سے بینک عملے کے ساتھ تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔

جواب دیں

Back to top button