مقامی حکومتوں کو جدید جمہوری ممالک میں بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ مقامی سطح کی حکومت خود اختیاری کی بہترین شکل بھی ہوتی ہے۔اورپھر ان کے دائرہ کار اور سکوپ میں ایسی روز مرہ کی معاشرت آتی ہے۔جن کا تعلق عوام کی روز مرہ زندگی ضروریات سے ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں وہ تمام مسائل،ایشوز،مضامین مقامی حکومتوں کے فنکشن میں شمار کئے جاتے ہیں۔جو ہماری جدید رہن سہن،رہائش،ضروریات زندگی کی دستیابی اور مینجمنٹ کرتے ہیں۔ایک اور زاویہ نظر سے بھی مقامی حکومتوں کو دیکھا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ملک کے شہری،ریاستی یعنی سیٹزن اپنی جمہوری مملکت سے مستفید ہی بہتر مقامی حکومتوں کے ذریعے ہوتے ہیں۔کیونکہ اعلی مرکزی اور اعلی ملکی حکومتیں پالیسی سازی کرتی ہیں۔ذرائع کا بندوبست کرتی ہیں۔مگر مقامی حکومتیں ان ذرائع یا فیصلوں کا عمل انجام دہی کرتی ہیں۔ہمارے ملک میں مقامی حکومتوں کی افادیت ایک اور پہلو سے بھی ہے۔کہ عوام کی سیاسی تربیت برائے حکمرانی کے لئے مقامی حکومتیں پرائمری سطح یا نرسری کی شکل میں تربیت گاہیں بھی ہوتی ہیں۔کہ عوام ان کا حصہ بن کر ان کے ذریعے اپنی معاشرت کو ریگولیٹ کرنے کی مہارت حاصل کرتے ہیں۔اگر ہم غور کریں توہمارے قانون ساز اداروں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے رہنماؤں کی ہے۔جو مرکزی اور سیاسی دھارے میں مقامی حکومتوں کے توسط سے ہی آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں دنیا بھر میں مقامی حکومتیں اور ان کے سربراہ عالمی منظر نامے میں بھی نمایاں ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ترکی کے موجود صدر مملکت،لندن کے میئر،فرانس میں پیرس کے میئر بہت شہرت حاصل کر چکے ہیں۔پاکستان میں بھی کئی ایک کلیدی ملکی سربراہ انہی مقامی حکومتوں سے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی مقامی حکومتوں کو اہم حکمرانی کا درجہ قرار دیتا ہے۔ان کی خصوصیات بیان کرتا ہے اور صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ منتخب با اختیار اور ان کے وسائل بھی متفقہ ہوں۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کا بہتر انتظام وضع نہیں کیا جا سکا۔اس کی وجوہات الگ ہیں۔مگر اس کے باوجود اہمیت مسلم ہے۔ہمارے سبھی پالیسی ساز اور قائدین،دانشور مضبوط،با اختیار مقامی حکومتوں کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔اور گاہے بگاے آواز بھی بلند کرتے ہیں۔کہ سب کچھ بہتر نہیں ہے۔اسے بہتر بنانا چاہیے۔اب تو ملک کی دو اسمبلیاں بھی ایسی متفقہ قرار دادیں منظور کر چکی ہیں۔مگر زیادہ تر عمومی باتیں ہی ہوتی ہیں۔اور مطالبات ہوتے ہیں۔کہ ہر جگہ ہر سطح پر منتخب مقامی حکومتیں فعال اور متحرک ہوں۔کیونکہ یہ بھی بہ آسانی یا تسلسل سے ممکن نہیں ہوتا۔بالخصوص جمہوری حکومتوں کے ادوار میں تو یہ تسلسل بلا رکاوٹ نظر نہیں آتا۔پاکستان کی پہلی دہائی میں تو منتخب مقامی حکومتوں کا سلسلہ ہی نہیں تھا۔کیونکہ ریاست پاکستان نے ہندوستان کی تقسیم سے جنم لیا تھا۔تو ماضی کا نو آبادیاتی وراثتی نظام حکومت میں محدود سطح پر محدود نوعیت کی مقامی حکومتیں تو موجود تھیں۔مگر ملک میں وفاقی اور اوپری سطح پر ریاستی اداروں کی از سر نو تشکیل نو یا تزین نو درکار تھی۔ملک کا آئین ہی نہیں تھا۔آئینی رپبلک تھی۔ملک کا آئین ہی نہیں تھا منتخب پارلیمنٹ بھی نہ تھی۔ملک کی آبادی بھی کم تھی۔مغربی حصے میں (موجودہ پاکستان میں تین کروڑ کی آبادی تھی)بڑے شہروں کی تعداد بھی 100سے کم تھی۔زندگی کو روایتی طریقوں سے منظم کیا جاتا تھا۔چنانچہ پہلی با ضابطہ جدید خطوط پر مقامی حکومتیں بنیادی جمہوریتوں کا نظام تھا۔جو پہلے فوجی حکمرانی کے زمانہ میں متعارف کرایا گیا۔ان بنیادی جمہوریتوں کے نقوش ہماری تاریخ میں بہت دیرپا اور مستحکم ثابت ہوتے ہیں۔کہ یونین کونسلوں کا تصور اور شہری/دیہی کی تمیز سے مختلف فرائض کی تقسیم آج تک وہی ہے۔جو بنیادی جمہوریتوں کے دور میں وضع کی گئیں۔بہت تھوڑی ترامیم ہیں مگر بنیادی فریم ورک وہی ہے۔جو66سال قبل متعارف کرائی گئیں۔استثنا صرف 2001ء تا2010ء مشرف حکومت کا ماڈل ہے۔جس کا فریم ورک پرانا تھا،مگر فارمیٹ میں تبدیلی تھی۔بعد میں پہلی منتخب حکومت(1972-1977) کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔دوسری فوجی حکومت(1979-1988) میں دو دفعہ منتخب مقامی حکومتیں فعال رہی ہیں۔مگر تنظیمی فریم ورک بنیادی جمہوریتوں کی طرح ہی رہا (1988-1999) کا گیارہ سالہ دور جمہوری حکومتیں برسراقتدار رہی ہیں،بلکہ 6حکومتیں بار بار اقتدار میں آئیں مگر کوئی منفرد پیش رفت نظر نہیں آئیں۔بعد از مشرف(2025-2013) آج کا دور ہے۔مگر منتخب مقامی حکومتیں لگا تار تسلسل کے ساتھ فعال نظر نہیں آئیں۔بلکہ ان کی با اختیاری کا شور و غل نمایاں ہے۔بعض سیاسی جماعتیں تو زیادہ متحرک ہیں یا زیادہ آواز بلند کرتی ہیں۔مگر کسی ایک نے بھی کسی بہتر ماڈل مقامی حکومت کا تصور پیش نہیں کیا گیا۔عمران خان کی حکومت کے اولین ایام میں ایک مثالی خاکہ جہانگیر ترین نے پیش کیا تھا،جس کے مطابق اس حکومت نے بھی عمل نہیں کیا اور محترم جناب جہانگیر ترین نے جب اپنی پارٹی بنا لی تو پھر اپنے پرانے بیانیہ کو نہیں دہرایا۔یہ تو ہماری تاریخ کا المیہ پہلو ہے کہ ہم جدیدتقاضوں کے مطابق کوئی بہتر مقامی حکومتوں کا تصور سامنے نہیں لائے۔اور زیادہ زور ایک پہلو یعنی منتخب کونسلوں تک ہی مرکوز رہتا ہے۔کم از کم تحریری طور پر کسی جماعت کے منشور یا بیانیے میں ایک بہتر منضبط اور با اختیار مقامی حکومتی کا نقشہ دستیاب نہیں ہے عمومی باتیں ہی بار بار دھرائی جاتی ہیں۔پنجاب کی مثال لیں صوبائی وزیر اعلی ایک مقامی ثقافتی تہوار کو منظم کر رہی ہیں۔جو مقامی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔کیا بسنت کا تہوار ہو یا جشن بہاراں۔ادبی یا کلچرل محاذ پر تقریبات۔یہ مقامی حکومتوں کا دائرہ کار نہیں ہے۔مارکیٹیں لگانا اور وہ بھی لوکل مارکیٹس،اتوار بازار،جمعہ بازار وغیرہ کیا صوبائی یا وفاقی حکومت کا دائرہ کار ہے یا مقامی حکومتوں کا فنکشن ہے۔یعنی جوں جوں وقت گزرتا گیا۔ہمارے مذہبی،ثقافتی تہوار مرکزی بنیادوں پر منظم ہوتے چلے گئے۔یہ رجحان مقامی حکمرانی کو ماند کرتا ہے۔اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ سارے محصولات،ٹیکس وغیرہ مرکزی یا صوبائی ہو گئے ہیں۔مقامی سطح سے وصولی بھی مرکز اور صوبہ کرتے ہیں۔سڑکوں،شاہراہوں،پلوں وغیرہ پر ٹول جو ماضی میں مقامی حکومت کا اہم ذریعہ آمدن ہوتا تھا۔اب ریاستی اداروں وفاقی یا صوبائی حکومت کے تحت اکٹھا کرتے ہیں۔اور پھر خرچ بھی انہی کی مرضی اور منشاء سے کیا جاتا ہے۔پنجاب میں موٹر سائیکلوں پر خفاظتی تار لگائے جا رہے ہیں۔مقامی حکومت کی ذمہ داری مگر صوبائی حکومت کے احکامات سے کئے جا رہے ہیں۔واٹر سپلائی۔ستھرا پنجاب پروگرام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ،مویشی منڈیاں۔شجرکاری،صحت، تعلیم،ترقی سماجی بہبود،انڈسٹریل اسٹیٹ،ٹاؤن پلاننگ سبھی کچھ مقامی حکومتوں سے نکال کرصوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں آ گیا ہے۔سیاسی اصطاع میں اختیارات کی نیچے منتقلی کو ریورس گئیر لگ گیا ہے۔یعنی نیچے سے اوپر کی طرف مرجعت،مقامی حکومتوں کےسکوپ،فرائض،فنکشنز کو روز بروز کم اور محدود کیا جا رہا ہے اور کوئی نوٹس بھی نہیں لیتا کہ آپ کو اختیارات نیچے کی طرف منتقل کرنا ہیں۔یا الٹ واپسی،یعنی جو پہلے تھے وہ بھی اب نہیں ہیں۔یا روز بروز کم ہو رہے ہیں۔اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ آپ آج کی پچیدہ اور گھمسان کی معاشرت کا جائزہ لیں۔کہ آپ بہتر مینجمنٹ کیسے کر سکتے ہیں۔اختیارات کو اوپر چند افراد کے ہاتھوں میں مرتکز کر کے یا بہت سارے مراکز میں پھیلا کر اور مقامی لوگوں کو شریک کار بنا کر بہتر مینجمنٹ کی جا سکتی ہے
Read Next
2 گھنٹے ago
*پنجاب اور اسلام آباد،مقامی حکومتوں کے انتخابات* تحریر:زاہد اسلام
3 گھنٹے ago
بلدیاتی انتخابات،پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2025 کے حوالے سے قائم کمیٹی کا اجلاس
18 گھنٹے ago
چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ حیدر علی چھٹہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا،احمد بلال مخدوم کی تقرری
2 دن ago
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو 4 ارب 74 کروڑ 62 لاکھ روپے کا پی ایف سی شیئر اور ماہانہ گرانٹ جاری
4 دن ago
چیف آفیسر ایم سی آلہ آباد وقاص حمید معطل،پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری،سی او منکیرہ سید سروش اقبال کو او ایس ڈی بنا دیا گیا
Related Articles
With the establishment of PSPA, the way for environment-friendly constructions has been paved, says Zeeshan Rafiq
6 دن ago
ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کا تمام عمل آن لائن ممکن،پی ایس پی اے منظوری کے بغیر بننے والی سکیموں کو ریگولرائز کرنے کا بھی جائزہ لے گی،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
6 دن ago
سُتھرا پنجاب اہم مرحلے میں داخل،ویسٹ ٹو ویلیو میں انرجی، بائیوگیس، فیڈ سٹاک کی پیداوار شامل ہے،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
1 ہفتہ ago



