"مریم نواز کا سوہنا پنجاب پروگرام” کے تحت محکمہ بلدیات نے51 شہروں میں ترقیاتی سکیموں کا آغاز کر دیا ہے۔ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام(پی ڈی پی) کے تحت پہلے مرحلے کے تمام شہروں کیلئے ورک ایوارڈ کیا جاچکا ہے۔ اس پیشرفت کی تفصیل وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ایک اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر احمر سہیل کیفی نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گُل، پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی)، نیسپاک کے ماہرین بھی موجود تھے جبکہ متعلقہ شہروں کے میونسپل آفیسرز (انفراسٹرکچر) نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ محکمہ بلدیات کو پی ڈی پی کے 52 شہروں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ایک شہر کھاریاں کی فزیبلٹی محکمہ آبپاشی کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ دیگر 51 شہروں میں ترقیاتی کام شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 324 روڈ سائیڈ اور 34 انڈر گرائونڈ سٹوریج ٹینکس کی تعمیر وزیراعلٰی کا فوکس ہے۔ ان ٹینکوں کی تعمیر سے اربن فلڈنگ پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ استعمال کیلئے پانی کا وافر ذخیرہ بھی ممکن ہوگا۔

ذیشان رفیق نے کہا کہ روڈ سائیڈ ٹینکس سے 62 جبکہ دیگر ٹینکس میں 32 ملین گیلن پانی ذخیرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹینک خاص تکنیک اور ڈیزائن کے ساتھ تعمیر کئے جا رہے ہیں جن سے برساتی پانی کے نکاس کے علاوہ زیرزمین آبی ذخائر کو ری چارج کیا جاسکے گا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پی ڈی پی کی سکیموں میں صرف لائننگ پائپوں کے استعمال کا حکم دیا ہے۔ لائننگ والے پائپ کی ٹیکنالوجی پہلی بار پاکستان منتقل کی گئی ہے۔ مقررہ مقامات پر لائننگ پائپس کے پلانٹس کی تنصیب کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مون سون سے قبل ٹینکوں کا کام مکمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔
پی ڈی پی کے تحت برساتی پانی کی نکاسی کیلئے 181 کلومیٹر لمبی ڈرینز بن رہی ہیں۔ سیور کی مجموعی لمبائی 3500 جبکہ سڑکوں گلیوں کی طوالت 2600 کلومیٹر ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پی ڈی پی کے تحت پہلی بار شہروں کی جامع ماسٹر پلاننگ کی گئی ہے تاہم انہوں نے ہدایت کی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں سُتھرا پنجاب کا ڈیٹا بھی استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کی ہدایت پر سائٹس پر موثر سیفٹی اقدامات کئے گئے ہیں۔ متعلقہ ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ باقاعدگی سے بھجوائیں۔






