بالآخر پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کے حوالہ سے نشاندہی کا اعلان کر دیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لیے رولز بھی فراہم کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر اعداد و شمار اور متعلقہ نقشہ جات بھی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایک دوسرے حکم کے ذریعے سارے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی پابند کیا گیا ہے۔کہ وہ حلقہ بندیوں کے حوالہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مکمل تعاون کریں۔اسی اثناء میں الیکشن کمیشن نے بھی پنجاب اور اسلام آباد میں انتخابات میں مسلسل تاخیر پر بھی نوٹس لیا اور اب وزیر داخلہ کو اسلام آباد کے حوالہ سے اگلی پیشی پر طلب کیا ہے۔دیکھیں کیا بنتا ہے۔ جبکہ پنجاب کے اعلی حکام نے خود پیش ہو کر بیان دیا ہے۔ کہ انہوں نے الیکشن رولز اور دیگر ضروری امور بارے سمری پنجاب حکومت کابینہ کو فراہم کر دی ہے۔ جو عنقریب نوٹیفائی ہو جائے گا۔بہرحال یہ خوش آئند قدم ہے۔ انتخابات کا انعقادکے مراحل آسان ہو جائیں گے۔حلقہ بندیوں کے رولز مجریہ 11 فروری 2026 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان سرکاری افسران پر مشتمل حلقہ بندی کمیٹیاں تشکیل دیں گے جو ڈیمار کیشن کے مطابق یونین کونسلوں کی حلقہ بندیاں تجویز کریں گی کوشش کی جائے گی۔ کہ ایک یونین کونسل کا حلقہ یکجا کمپیکٹ ہو۔ کسی ایک یا زائد آدم شماری بلاک یا موضعہ جات پر مشتمل نشاندہی ہو مگر اس طرح کے وہ ٹاؤن یا تحصیل میونسپل کارپوریشن کی حدود سے باہر نہ جائیں۔حلقہ بندی کمیٹیاں مقررہ تاریخ کے اندر اندر ابتدائی مجوزہ حلقہ بندی تفصیلات مشتہر کریں گی۔ ان کے 30 دنوں کے اندر اندر مقررہ فارم پرلو کل ایریاز کا رجسٹرڈ ووٹرز اپنے اعتراضات داخل کر سکیں گے۔ رولز کے مطابق الیکشن کمیشن حلقہ بندی اتھارٹیاں مقررکریں گے۔ جو اعتراضات وصول اور سماعت کریں گی۔اور فائنل اعلان کریں گے ووٹرز اعتراضات داخل کرنے کے لیے فارم ii استعمال کریں گے۔ ابتدائی فہرست اور حتمی فہرست حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی ووٹر ضلعی الیکشن کمیشن آفس سے 10 روپے فی صفحہ کے حساب سے کورٹ پیس لگا کر فہرستوں کی نقو ل حاصل کر سکے گا۔ادارے رولز کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیاں اور حتمی اشاعت حلقہ بندیوں کے بعد اعتراضات شنوائی اور حتمی فیصلہ جات کے بعد نظر ثانی فہرستیں بھی حلقہ بندی کمیٹیاں ہی شائع کریں گے۔ جبکہ حلقہ بندی اتھارٹیاں اعتراضات وصول کریں گی۔ سماعت کریں گی۔اور حتمی فیصلہ کریں گی۔جو رجسٹرڈ ووٹرحلقہ بندی کی ابتدائی نشاندہی پر اعتراض دائر کرنا چاہتے ہیں وہ 100 روپیہ کورٹ فیس ٹکٹ فارم ii پر چسپاں کرے گا اور اپنے شناختی کارڈ نقل منسلک کر کے اعتراض داخل دفتر کرے گا۔ جبکہ اپنی ووٹ کا سیریل نمبر حلقہ کا شماریاتی کوڈ بھی درج کرنا پڑے گا جسے معلوم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے8300 رجوع کریں۔پنجاب میں 2026ء میں کل 7004مقامی حکومتیں۔ٹاون کارپوریشن30۔میونسپل کارپوریشن33۔میونسپل کمیٹیاں 220 اور تحصیل کونسلیں 141،جبکہ اربن علاقوں میں 2514 یونین کونسلیں ہوں گی۔کل41اضلاع ہیں۔ تحصیل کونسلیں 141ہیں اور دیہی یونین کونسلیں 4056 ہیں۔بڑے اضلاع 9ہیں اور33میونسپل کارپوریشنز ہیں اور اربن یونین کونسلیں 565ہیں۔ میونسپل کارپوریشن سات شہروں میں میونسپل کمیٹیاں 60جگہوں پر ہیں۔ٹاؤن کارپوریشن30ہیں اور یونین کونسلیں 1049 ہیں۔ اور 220میونسپل کمیٹیاں ہیں اور اربن یونین کونسلیں 900 ہیں۔مقامی حکومتوں بارے صورتحال:یونین کونسلوں کا حلقہ آبادی کے لحاظ سے کم از کم ایک لاکھ سے زائد اور دو لاکھ فی یونین کونسل ہے۔مجموعی تعداد یونین کونسلوں کی چھ ہزار چار بنتی ہے۔ جبکہ پنجاب کی آبادی میں اضافہ ریکارڈ سطح پر ہو رہا ہے۔ 2013 میں کل یونین کونسلیں 36 اضلاع میں چار ہزار سے زائد تھیں۔ اب41اضلاع ہیں ایسے شہر جو میٹرو پولیٹن درجہ اختیار کر گئے ہیں۔ وہ نو شہر ہیں۔ جن میں 33 ٹاون کارپوریشنیں بنائی گئی ہیں۔ جن کے مابین کوئی باہمی رابطہ کی شکل نہیں ہے۔ اسی طرح تحصیل کونسلوں کے مابین ایک ضلع میں کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں ہوگا۔یعنی ایک شہر کی سبھی ٹاؤن کارپوریشن کسی سٹی کونسل میں نہیں یکجا ہوں گی۔ہر ضلع میں کوآرڈینیشن فورم بنایا گیا ہے جو مقامی حکومت اور ضلعی اتھارٹیوں کے مابین رابطہ کاری کرے گا دوسرے لفظوں میں سرکاری محکمہ اور ٹاؤنز۔ میونسپل کارپوریشن۔کمیٹیوں تحصیل کونسلوں میں رابطہ کی شکل ہے یہ پالیسی ساز ادارہ نہیں ہے۔جبکہ محض رابطہ کاری اور شراکت کا تبادلہ ہو سکے گا۔میونسپل کمیٹیوں کی تعداد تقریبا ماضی کے برابر ہے۔ کیونکہ زیادہ شہروں میں ٹاؤنز بنا دیے گئے ہیں۔ ماضی میں بھی میونسپل کمیٹیوں کے مابین ایک ضلع میں کوئی شکل نہیں تھی بلکہ ساری مثل کمیٹیاں اپنے بعض فنکشنز کے لیے ضلعے اتھارٹیوں کی محتاج ہوں گی۔ظاہر ہے ضلع اتھارٹی میں چیف ایگزیکٹو سرکاری افسران ہوں گے۔پنجاب میں 41 اضلاع میں تحصیل کونسلوں کی مجموعی تعداد 141 ہے۔ چھوٹے اضلاع میں کم از کم دو اور بڑے اضلاع میں 5یا6 تحصیل کونسلوں کو بنایا گیا۔ جن میں مجموعی طور پر1049 یونین کونسلیں ہوں گی۔ یعنی ایک ضلع میں دیہی یونین کونسلوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ماسوائے چند میگا شہروں کے جہاں ایریا زیادہ ہیں۔میونسپل کارپوریشن کی مجموعی تعداد ماضی کے مقابل بڑھ گئی ہے۔بلکہ کئی شہروں میں ایک سے زائد میونسپل کارپوریشن بنائی گئی ہیں۔ شہر ایسے ہیں جہاں دو یا زائد میونسپل کارپوریشنز ہوں گی۔ جبکہ ایک ضلع میں تحصیل کونسلیں ٹاؤنز کارپوریشن میونسپل کمیٹیاں اور میونسپل کارپوریشنز ہوں گی۔ جبکہ ضلع اتھارٹیاں 10 ہوں گی اور انکے مابین رابطہ کی صرف واحد شکل ضلعی رابطہ فورم ہوگا۔ڈیویلپمنٹ اتھارٹیاں اور اس کے تحت ذیلی ادارے جو انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ اور ٹاؤن پلاننگ کے ساتھ ساتھ واسا اور سینیٹیشن، مارکیٹ کمیٹاں وغیرہ کو ڈیل کرتے ہیں۔پہلے ہی صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ظاہر ہے جو خصوصی پراجیکٹ اور کمپنیاں بنا کر ترقیاتی کام جاری ہیں۔وہ بھی مقامی حکومتوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔یہ سب کمزور پہلوؤں ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے۔ماضی میں کبھی بھی 30 ہزار سے زائد آبادی پر یونین کونسل نہیں بنائی گئی۔ ایک لاکھ سے زائد کا مطلب 60 ہزار کے لگ بھگ ووٹرز ہوں گے۔ جن کی نمائندگی 13 اراکین کریں گے۔ فی کونسلر شرح نمائندگی بہت زیادہ بنتی ہے۔ اس طرح نہ نمائندگی کا اصول نا مناسب ہے۔کیونکہ مقامی حکومت میں فی کونسلر دو یاتین ہزار ووٹرز ہوں تو مناسب حق نمائندگی ادا ہو سکتا ہے۔ اس طرح یونین کونسلوں کی تعداد بھی زیادہ ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ مقامی حکومتی نظام میں لوکل کونسل ہی منتخب مقامی حکومتوں کی ابتدائی درجہ ہوتی ہے۔ نو شہروں میں اصولی طور پر سٹی گورنمنٹ یا میٹروپولیٹن بنائی جانا ضروری ہیں۔ کیونکہ ٹاونز کے مابین شہر کی سطح پر کوئی سٹرکچر برائے رابطہ نہیں ہوگا۔ تو لوکل گورنمنٹ با اختیار نہیں ہوگی۔صرف لاہور شہر میں فی یونین کونسل رجسٹرڈ ووٹرز کم ہیں جبکہ آبادی میں غیر رجسٹرڈ ووٹرز بھی تو ہیں۔ضلعی رابطہ فورم ایک ضلع میں ا تھار ٹیوں اور مقامی حکومت کے مابین محض رابطہ کاری کی شکل ہے۔وہ کسی شہر یا ضلع میں مقامی حکومت کا پالیسی سازہ دارا نہیں ہے۔ عملی طور پر سرکاری افسروں کو من مرضی اور زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔میونسپل کمیٹیوں میں وارڈ سسٹم نہیں ہے۔یہاں بھی شرح نمائندگی بہت زیادہ ہے۔ یونین کونسلوں میں بھی نمائندگی کی ذمہ داری کا تعین مشکل ہو جائے گا۔ پھر میونسپل کمیٹیوں کے فرائض کا ایک حصہ بذریعہ ضلعی اتھارٹیاں ادا ہوگا۔ تو میونسپل کمیٹیو ں کے مجموعی اختیارات کم ہو جائیں گے اور غیر منتخب اداروں کا رول بڑھ جائے گا۔یا پھر پرائیویٹ کمپنیاں زیادہ پاور فل ہو جائیں گی۔ہر ضلع میں دیہی مقامی حکومتوں کی باہمی رابطہ کی کوئی شکل نہیں ہے جو ماضی میں ضلع کونسل کی شکل میں موجود ہوا کرتی تھی۔ضلع رابطہ فورم دیہی یونین کونسلوں کے کی بذریعہ تحصیل کونسل محض رابطہ کاری ہوں کے لیے تو ہو سکتا ہے۔ مگر ان کے لیے سینٹرلائزڈ منصوبہ سازی نہیں ہو سکتی۔ ضلع کونسل کے فنکشن کو تحصیل کونسل کی سطح پر لے جانا تو درست ہے مگر عملی طور پر ڈسٹرکٹ کی اتھارٹی اور تحصیل کونسل کے مابین تحصیل کی سطح پر کوئی مشترکہ پالیسی منصوبہ سازی نہیں ہوگی۔یہاں بھی بنیادی سقم شہر میں مرکزیت پر مبنی منصوبہ سازی کا فقدان ہوگا اور صوبائی محکمے پرائیویٹ کمپنیاں اور ضلع تھاٹیاں ہی مقابلہ تر متحرک ہوں گی ا۔یک جیسے فنکشن کئی طرح کے اداروں میں منقسم ہوں گے۔ جن کی وجہ سے نہ تو بہتر منصوبہ سازی ہو سکے گی اور نہ ہی ذمہ داری کا معقول تعین اور جواب دہی تومفقود ہو گی۔ منتخب نمائندوں کی کونسلیں ہوں گی۔مگر عمل کام ان کی دسترس سے باہر ہوں گے۔ نئے انتخابات کے بعد پنجاب بھر میں منتخب نمائندوں کی تعداد 80 ہزار کے لگ بھگ ہو جائے گی جبکہ دائرہ اختیار محدود ہو جائے۔اب مستقبل کا خاکہ پر نظر ڈالیں تو بنیادی ضروریات زندگی بڑے شہروں میں اور مخصوص دیہی علاقوں میں پہلے کبھی صوبائی حکومت براہ راست عمل درآمد کر رہی ہے۔ لہذا مقامی حکومتوں کو بے اختیار بنانے کی ضرورت بھی کم کر دی گئی ہے۔مجموعی نمائندگی بڑھ گئی ہے مگر ابھی بھی شرح نمائندگی مناسب نہ ہے کل6570یونین کونسلوں میں 85410 منتخب کونسلرز ہوں گے۔ان میں 59130 جنرل نشستوں پر منتخب ہو کر آئیں گے۔جبکہ ان ڈائریکٹ طریقہ انتخاب دوسرے لفظوں میں سلیکشن کے ذریعہ ہاتھ اٹھا کر6570 خواتین کونسلرز جو بہت کم شرح نمائندگی ہے۔اتنے ہی نوجوان،2514مزدور کونسلرز اور 4051 کسان کونسلرز آئیں گے۔ییر مسلم نمائندگی بھی اسیغیر جمہوری انداز میں 6570 نمائندوں کو منتخب کریں گے۔اس طریقہ انتخاب کو براہ راست بالغ رائے دہی اور خفیہ ووٹ کے ذریعے کیا جانا ضروری ہے۔آئین بھی پابند کرتا ہے۔اور سبھی جمہوری حلقوں کا مطالبہ بھی ہے۔اسی طرح قانون میں ابہام کی الیکشن رولز میڈ وضاحت کر دی جائے۔سیاسی جماعتوں کو اپنے نشانات پر اپنے امیدوار لانے کی کھلی اجازت قواعد میں کرنا چاہتے تا کہ صاف اور شفاف انتخابی عمل آگے بڑھ سکے۔
Read Next
5 گھنٹے ago
Maryam Nawaz’s Sohna Punjab: Local Government Department launches schemes in 51 cities
5 گھنٹے ago
مریم نواز کا سوہنا پنجاب:محکمہ بلدیات نے51 شہروں میں سکیموں کا آغاز کردیا،کھاریاں کی فزیبلٹی محکمہ آبپاشی کے سپرد
17 گھنٹے ago
پنجاب میں یونین کونسلز کی تعداد 4015 سے بڑھ کر6570 ہو گئی،نوٹیفکیشن
1 دن ago
لکھوڈیر لینڈفِل سائٹ پر پائلٹ بائیو سی این جی پلانٹ پیداوار شروع کر چکا ہے،ویسٹ سے توانائی کے دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے،ذیشان رفیق
2 دن ago






