*پنجاب،کوئٹہ اور اسلام آباد کے لوکل گورنمنٹ انتخابات* تحریر:زاہد اسلام

اخباری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد جہاں گزشتہ پانچ سالوں سے انتخابات التواء کا شکار چلے آر ہے ہیں۔اب ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی بے بسی ملاحظہ ہو۔گزشتہ سماعت پر اس نے وزیر داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔عدم تعمیل کے بعد پھر کمیشنر صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دی ہے۔کہ وہ ٹاؤن کارپوریشن اور یونین کونسلوں بارے حلقہ بندیاں تجویز کر دے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ فروری2026ء میں جب انتخابات کا آخری مرحلہ امیدواروں کی حتمی فہرست(سیکروٹنی کے بعد) کی اشاعت ہونا تھی تو ایک آرڈیننس کے ذریعے لوکل گورنمنٹ کے قانون مجریہ2015ء میں ترمیم کر دی گئی۔جس کی رو سے تین ٹاؤن کارپوریشنیں بنا دی گئیں۔ جن کے تحت حلقہ بندیاں مفقود ہیں۔کیونکہ یونین کونسلوں کا تعین اب قانون کی رو سے نہیں ہو گا۔حکومت کرے گی۔ابھی تک اس ضمن میں کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔بلکہ آرڈیننس کو قومی اسمبلی میں بھی فی الحال پیش نہیں کیا گیا۔جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس ہو رہے ہیں،اور اگر یہ آرڈیننس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری حاصل نہیں کرے گا تو اپنی مقررو مدت کے بعد تحلیل ہو جائے گا۔تو انتخابات کا عمل جو ابھی شروع نہیں ہو سکا۔اس کا مستقبل کیا ہو گا۔یہی حال کوئٹہ کے انتخابات کا ہے جس کا شیڈول جاری ہو چکا تھا۔کہ عدالتی احکامات پر روکا گیا اور پھر پاکستان کی نئی تشکیل شدہ آئینی عدالت نے وہاں انتخابی مراحل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے۔مگر وہاں بھی پیش رفت نہیں ہو سکی۔جبکہ ملک جنگی ماحول کی وجہ سے ہنگامی صورتحال سے دو چار ہے۔افغان بارڈر پر بھی کشیدگی ہے۔مشرق وسطی کی جنگ بارے بھی تشویشناک خبریں ہیں۔وفاتر میں اوقات کار کم کر دئیے گئے ہیں۔کیونکہ انرجی بحران کے خدشات ہیں۔ایسے میں کوئٹہ شہر میں انتخابی مہم اور انتخابات خاصے دشوار مراحل میں ہیں۔پنجاب جو نسبتا بہتر حالات سے گزر رہا ہے۔یہاں بھی انتخابی عمل قدرے دھیما اور آہستگی سے رواں ہے۔تا ہم مقامی حکومتوں کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے۔اب حلقہ بندی شیڈول آئے گا اور قانون کے مطابق مقامی حکومتوں کی ٹرانس فارمیشن کا عمل شروع ہو گا اور اگر حالات پرامن رہے تو پھر بھی سال کے آخر تک انتخابات متوقع ہو سکتے ہیں کیونکہ موسم گرما اور برسات میں تو مشکلات زیادہ ہوتی ہیں۔اور پھر جون میں بجٹ اجلاس ہوتے ہیں۔تو اس کے بعد ہی امکانات ہو سکتے ہیں اگر مجموعی صورتحال بہتری کی طرف گئی تو ہی۔خیبر پختونخواہ جہاں چار سال کی مدت اس سال اختتام پزیر ہو گی،وہاں کامیابی سے دو عرصہ جات مکمل ہو رہے ہیں۔2019 کے بعد سے لیکر گو کہ پرفارمنس اور حکومتی دباؤ برقرار چلا آیا ہے۔مقامی حکومتوں کے ملازمین اور نمائندگان کی اکثریت صوبائی حکومت کے ناروا سلوک پر احتجاج کرتی نظر آئی ہے۔اب حکومت نئے انتخابات کی بجائے موجود مقامی حکومتوں کو توسیع دینے کی تجویز دی تھی۔جسے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر رد کر دیا ہے اور قانون میں ترامیم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈوں میں بھی اگلا سال نیا انتخابات کا ہو گا۔اس سارے جھنجٹ سے نکلنے کا راستہ تو باقاعدگی سے مناسب حالات میں انتخابات کا انعقاد ہے لیکن اب نئے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں۔مقامی حکومتوں کے تازہ انتخابات کے مراحل اور مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔یہ سارے مشکل حالات صرف مقامی حکومتوں کے انتخابات کے حوالہ سے ہی پیش آ رہے ہیں۔جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی دیگر سرگرمیاں باقاعدگی سے جاری ہیں۔نت نئے پروگرام سامنے آ رہے ہیں۔اور سبھی متعلقہ محکمے ما سوائے انتخابات کے ذمہ داران بہت متحرک اور سرگرم عمل ہیں۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں CDAکے بارے میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی ممبران اور چیئرپرسن کے کمینٹ تشویش ناک ہیں گہ کہ اس میں شہری سہولیات اور مقامی حکومتوں کا ذکر نہیں ہے۔ٹاؤن پلاننگ اور کرپشن کی بات کی گئی ہے مگر اصل مسئلہ یہی ہے۔کہCDA کے اختیارات اور فنکشنز بہت وسیع ہیں اور وہاں موجود ارباب اختیار ان میں سے سہولیات اور خدمات کی فراہمی کے حوالہ سے ذمہ داریاں مقامی حکومتوں کو دینے کے خواہاں بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ارلخلافہ کا علاقہ جو اب ایک ضلع اور کئی اہم تحصیل سطح کے اربن اور نیم دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔جہاں ماضی میں 125 یونین کونسلیں بھی رہی ہیں۔جن کی تعداد اب مزید بڑھ جانے کی توقع ہے۔وہاں میونسپل ذمہ داریاں جو طویل عرصہ تک CDA کے دائرہ اختیار میں رہی ہیں،جند سالوں کو چھوڑ کر جب وہاں مقامی حکومتیں رہی ہیں۔ان کی فراہمی تو ہو رہی ہے مگر کیسے یہ سوال بنیادی ہے۔اسی کا جواب منتخب مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔اور یہی ایشو غیر اہم قرار دیا جاتا ہے۔اور مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔جمہوریت اور مورثی بادشاہت میں یہی فرق ہوتا ہے۔جمہوریت عوام کی حکومت عوام میں سے عوام کے ذریعے ہوتی ہے۔جبکہ بادشاہت میں بھی نظم نسق اور انتظامی سہولیات تو فراہم ہو رہی ہوتی ہیں،اور کئی ممالک میں بہت اچھے انداز میں جاری ہوتی ہیں۔مگر پھر بھی فوقیت جمہوری معاشروں کو حاصل ہوتی ہے۔کوئی وجہ تو ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button