*پنجاب اور اسلام آباد،مقامی حکومتوں کے انتخابات* تحریر:زاہد اسلام

وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ ماہ مقامی حکومتوں کے حوالہ سے بڑی گرم بحث رہی ہے۔پہلے پنجاب اسمبلی نے پھر خیبر پختونخواہ اسمبلی نے مقامی حکومتوں کو آئین کے مطابق مضبوط اور مستحکم اور با اختیار بنانے پر شدت سے زور دیا گیا،بلکہ یہاں تک بھی چلے گئے کہ آئین کی18 ویں ترمیم کے ذریعہ صوبوں نے خود تو بہت زیادہ اختیارات حاصل کر لئے،جبکہ اپنے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے اختیارات سلب کر لئے۔دوسرے لفظوں میں اس طرح کی ساری بحث مباحثوں میں دراصل موجود بے اختیار مقامی حکومتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور شدت سے مطالبہ کیا گیا۔کہ مزید ترمیم کر کے مقامی حکومتوں کی موجودہ بے اختیاری کو ختم کیا جائے۔یہ شور غوغا ملک کی دو صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی برپا ہوا۔جبکہ ملک کی کئی سیاسی جماعتوں نے بھی کھل کر اس حوالہ سے اپنے موقف پیش کئے۔ایک اعلی سطحی مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا۔

یہ سارے اعلانات،تقاریر اور بیان بازیاں انہی صاحب اقتدار نے فرمائی ہیں جو خود بھی صوبوں اور وفاق میں برسر اقتدار ہیں۔اور مقامی حکومتوں کی بے اختیاری کے ذمہ داران بھی ہیں۔یعنی پنجاب میں گزشتہ دس سالوں سے انتخابات التوا کا شکار ہیں۔اب قانون بھی متنازعہ بنا لیا ہے۔مگر انتخابی عمل اب بھی شروع نہیں ہو سکا۔حتی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔بلکہ پنجاب حکومت کی طرف سے مسلسل التوائی حربوں کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ سماعت کا فیصلہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ابھی بھی الیکشن رولز کا حتمی نوٹیفیکیشن نہیں ہو سکا۔بلکہ ہلکا بندیوں کی نشاندہی کا عمل بھی مکمل نہیں ہوا۔اور نہ کوئی روڈ میپ سامنے آیا ہے۔اسی طرح اسلام آباد میں بھی انتخابی عمل غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا ہے۔جبکہ آرڈیننس کے ذریعے تنظیمی ڈھانچہ بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔دوسرے لفظوں میں پنجاب اور اسلام آباد میں انتخابی عمل کا با ضابطہ اعلان موخر ہوتا جا رہا ہے۔اور دوسری طرف یہی لوگ ہیں،جو بے اختیاری مقامی حکومتوں کی بے وقعتی کا ذکر کر رہے ہیں۔جو کافی حد تک درست بھی ہے۔مگر جو لولی لنگڑی مقامی حکومتیں چلی آ رہی ہیں ان کے انتخابات بھی منعقد ہوتے نظر نہیں آ رہے۔دس سالوں سے التوا کا شکار ہیں۔اصل سوال جو فوری حل طلب ہے وہ متعلقہ قوانین اور آین میں نئی ترامیم نہیں بلکہ جلد از جلد منتخب مقامی حکومتوں کا قیام ہے۔جو پہلا مرحلہ ہے پھر مقامی حکومتوں کو مزید با اختیار بنانے اور موجود خامیوں کو دور کرنے پر غور کریں۔ٹھوس اقدامات کریں۔مگر فی الفور منتخب کونسلوں کی تشکیل کا عمل تو یقینی بنائیں۔

جواب دیں

Back to top button