کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)اورنگی ٹاون میں ایک بار پھر تین ارب مالیت کے سرکاری رفاہی و فلاحی پلاٹس کو ٹھکانے لگانے کے گھناؤنے منصوبے پر عملدرآمد شروع ہو گیا،اس سلسلے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی کے عہدے پر نئی تعیناتی کو 80 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا مبینہ طور پر انکشاف ہوا ہے۔جس میں سرمایہ کاری کرنے والی تمام لینڈ مافیا کی گڈ جوڑ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں اورنگی کے بڑے لینڈ مافیا میں امتیاز بٹ، رانا گلزار تاج، برطرف ہونے والے ملازم عقیل احمد، سابق ڈائریکٹر کا دست راست منان قائم خانی کے ساتھ اورنگی ٹاون کے چیئرمین جمیل ضیاء ڈاہری شامل ہیں۔ میئر کراچی مرتضی وہاب کے ایک مشیر خاص اور چیئرمین جمیل ڈاہری کی سفارش پر آفاق مرزا کو پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی تعینات کیا گیا ہے تاکہ سابق برطرف پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان خان کے دور میں بچ جانے والی سرکاری زمینوں کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ اس بڑے منصوبے کے ساتھ لینڈ مافیا رانا گلزار تاج کی فیملی کے دو ارب سے زائد مالیت کے پلاٹس بھی شامل ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی وجہ سے پھنس گئے ہیں اسے موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی مدد سے فروخت کرنا ہے۔اسی طرح جمیل ڈاہری بھی 10 سے زائد کروڑوں روپے کے سرکاری پلاٹوں پر اپنے ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔اس سارے کھیل کا سرغنہ امتیاز بٹ کو بتایا جاتا ہے،جسے آفاق مرزا نے تعیناتی کے اگلے ہی دن غیر سرکاری طور پر(لینڈ مافیا کے کارندے امتیاز بٹ کو)اپنا فوکل پرسن قرار دیا ہے جو سرکاری ملازم بھی نہیں ہے،اس لیئے اس کا حکمنامہ غیر قانونی ہے اور ان کا یہ عمل نہ صرف پروجیکٹ ڈائریکٹر کے منصب کے خلاف ہے بلکہ اختیارات سے تجاوز قرار دیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں میئر کراچی کو ایک افسر نے اگاہ کیا تھا جس پر انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر آفاق مرزا کو فوری طور پر حکمنامہ واپس لینے کا حکم دیا تھا تاہم یہ حکم نامہ نہ واپس ہوا ہے نہ ہی حکمنامہ کو سرکلر کیا گیا ہے لیکن یہ آج بھی رجسٹرار اورنگی ٹاون کی ٹیبل پر موجود ہے جس کی کاپی امتیاز بٹ دوسرے کو دکھا اپنے کام کرا رہا ہے۔ تاہم آفاق مرزا نے میئر کو زبانی یقین دہانی کرا دی ہے کہ انہوں نے حکمنامہ واپس لے لیا ہے۔امتیاز بٹ کے بارے میں اورنگی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ لینڈ مافیا کا کارندہ ہے اور چائنہ کٹنگ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔وہ پروجیکٹ آفس میں مڈل مین(دلالی) اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کا فرنٹ مین ہونے کے ساتھ دو نمبر کام کے لئے افسران کے ہاتھ پاؤں جوڑنا اس کی عادت میں شامل ہے۔وہ اورنگی کی قیمتی زمینوں کو ٹھکانے لگانے میں پیش پیش ہوتا ہے،تمام پروجیکٹ ڈائریکٹرز سے دوستی کرنے اور اپنا کام نکالنے کا ماہر بتایا جاتا ہے۔ سیاسی، انتظامی اور عسکری ادارے کا بھرم بھی لوگوں کو ڈال کر گمراہ کرتا رہتا ہے۔ پہلی بار فرنٹ پر آنے اور اس گھناؤنے کھیل میں سرغنہ بن کر لوٹ مار کے منصوبے پر عملدرآمد کا اغاز کردیا گیا ہے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایس ایم جاوید کا کمرہ اس گھناؤنے کھیل کا مرکز بن گیا ہے جہاں عقیل احمد نے بھی اپنا ڈیرہ جما لیا ہے۔ دوسری جانب رانا گلزار بھی باقاعدہ آفس آرہے ہیں اور افسران سے ملاقاتیں اور صلاح مشورہ بھی کر رہے ہیں۔ اسی دوران میئر کراچی مرتضی وہاب نے سرکای زمینوں کو غیر قانونی طور پر الاٹمنٹ کرنے کے الزام میں عقیل احمد کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے،تاہم وہ آج بھی مسلسل دفتر آرہے ہیں اور اورنگی ٹاون کے سرکاری ریکارڈ نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ زبانی فیصلے بھی صادر کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ان سب مافیاز کی موجودگی میں ایک بار پھر پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی کے آٖفس پر عملی طور پر لینڈ مافیا اور سرکاری زمینوں کے فراڈ میں ملوث عناصر کا قبضہ ہو گیا ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر آفاق مرزا نے لینڈ مافیا کے لئے اپنا دفتر کھول دیا ہے۔اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ وہاں موجود تمام افراد ان سے صلاح مشورہ کریں اور وہ جو ہدایت دیں ان پر عملدرآمد کیا جائے۔اورنگی میں الخدمت کمیٹی کا پلاٹس،اورنگی نمبر 5 میں رفاہی پلاٹس میں دکانیں بنانے، الاٹمنٹ کرنے،سیکٹر فائیو، چھ، سیون، آٹھ، 10,،12،13،14 اور بنگلہ بازار ساڑھے گیارہ کی زمینیں اس پورے گھناؤنے دھندے میں شامل ہے۔ رضوان خان کے دست راست رانا گلزار تاج اور اس کے خاندان کے نام جاری ہونے والی زمینوں کے ریکارڈ اربوں روپے میں پہنچ گئے ہیں۔رانا گلزار تاج نے جعلی طریقے سے الاٹمنٹ ہونے والی کمرشل زمینوں کو تمام جگہوں سے کلیئر کرنے کا 20 سے 30 لاکھ روپے فی زمین متعدد افسران کو ادا کیئے ہیں۔ سرکاری ریکارڈز کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کچی آبادی کے نام پر رانا گلزار تاج کے نام پر 18 پلاٹس،ثمینہ کنول زوجہ رانا گلزار تاج کے نام پر 28 پلاٹس، سالی صنوبر گل کے نام پر 4 پلاٹس، اس کے ہم زلف رانا محمد اسماعیل کے نام پر 8 پلاٹس، اس کے بھائی رانا عمران تاج کے نام پر 28 پلاٹس،اس کی بھابی الماس عمران تاج کے نام پر 06 پلاٹس، اس کے کزن اسیس خان کے نام پر 10 پلاٹس،اس کے رشتہ دار محمد ناصر علی کے نام پر 8 پلاٹس، اس کے دوست شہریار کے نام پر 27 پلاٹس، اس کے ایک اور دوست محمد آصف کے نام پر 8 پلاٹس جو بیک وقت الاٹ اور لیز جعل سازی کے ذریعے ان کے نام ہوئے تھے۔بورڈ آف رجسٹرار آفس کے مطابق رانا گلزار تاج کے خاندان کو پہلے ہی پانچ ارب روپے مالیت کے 529 پلاٹس کی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس گھناؤنے کاموں کے ڈرامائی کرداروں میں راشد اور قیصر نامی اشخاص شامل ہیں جوکہ سوٹ نمبر 2051/2021، سوٹ نمبر 584/2023،سو ٹ نمبر 1825/2019میں، سو ٹ نمبر 1824/2019میں،سوٹ نمبر310/2021 میں سوٹ نمبر 815/2021 میں راشد مدعی علیہ ہے، سوٹ نمبر 1309/2023، سوٹ نمبر 640/2020 میں قیصر مدعی عالیہ ہے۔اس طرح کئی درجن کیسوں میں اپنے ڈرامائی کرداروں کو استعمال کرکے عدالت کو گمراہ کرکے اپنے حق میں فیصلہ لے چکا ہے جو گذشتہ 2013 سے 2020 تک سات سالوں کے دوران پروجیکٹ اورنگی کے بدعنوان افسران نے الاٹ کیا تھا جن میں سیکٹر 10 نمبر پر کچی مارکیٹ کی 259 دکانیں شامل ہیں۔ نیب کراچی کے افسران سابق پروجیکٹ اورنگی میں ہونے والی گھناؤنے جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے۔ نیب کراچی کا مقدمہ نمبرNABK2017060994484/IW-I/CO-A/NAB Karachi/2020/2017 بتاریخ 6 اکتوبر 2023ء میں میونسپل کمشنر کراچی کے ذریعے پروجیکٹ
ڈائریکٹر سے 49 رفاہی پلاٹوں پر الاٹمنٹ، لیز سب لیز اور ٹرانسفر ریکارڈز سمیت تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا گیا جو جمع کردیا گیا ہے۔رانا گلزار نے پانچ کروڑ روپے مالیت کے دو تجارتی پلاٹس بھی(پلاٹ نمبر SA-76 پلاٹ نمبر SA-77 سیکٹر 10-1اورنگی ٹاون)اپنے نام کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے جن پر جعلی رضوان خان، راؤ عمران، ایس ایم جاوید کے جعلی دستخط موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک ارب روپے مالیت کے 21 پلاٹس دیگر جعلی کاغذات کے ذریعے الاٹ کرنے کے کھیل میں رانا گلزار کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ رضوان خان نے سرکاری عہدے کی طاقت کے نشے میں اپنی ریاست قائم کر رکھی تھی۔ لینڈ مافیا رانا گلزار کے عدالتی معاونت ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل ارشاد احمد نے کی۔انہوں نے کئی کیسوں میں ردوبدل کر کے اور حقائق کے برخلاف جوابات جمع کرائے اور اس کام کیلیئے مالی فوائد لیکر معاونت کرنے کی کوشش کی ہے۔ چار کیسوں میں وہ پکڑے بھی گئے۔ ریکارڈ کے بغیر رانا گلزار کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پروجیکٹ میں زمینوں کے جعلی الاٹمنٹ، جعلی لیز، سب لیز کے ساتھ جعلی ٹرانسفر اور بڑے پیمانے پر ڈبل، ٹریل الاٹمنٹ کا سلسلہ گذشتہ 11سالوں سے جاری ہے۔ سینکڑوں الاٹمنٹ اور جعلی لیز کی فائلیں آج بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے کیونکہ ملزمان اور ان کے وکلا کیس ہی نہیں چلنے دیتے۔ سابق دور میں بدعنوان ریٹائرڈ رضوان خان اور اس کی مبینہ ٹیم کی لوٹ مار کا بازار گرم تھا جس کا ہر طرح کا ریکارڈ موجود ہے لیکن نیب سمیت تمام تحقیقاتی اداروں مع کورٹس بھی چمک کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔






