وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کی ملاقات، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروع اور صنعت و تجارت کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل پر تبادلہ خیال

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم، سیکرٹری صنعت اور دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ خیبرپختونخوا میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروع اور صنعت و تجارت کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیر اعلیٰ نے تجارتی و صنعتی شعبے کی بہتری کے لیے متعلقہ محکموں اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے درمیان قریبی روابط اور پالیسی سازی میں باہمی مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ۔

خیبر پختونخوا حکومت شعبہ صنعت و تجارت کو ترقی دینے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم ایک ایسا ٹھوس اور جامع نظام چاہتے ہیں جس میں تمام مسائل کا کل وقتی حل موجود ہو۔ ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ حتمی مراحل میں ہے جس میں ون ونڈو آپریشن کے تحت صنعت کاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات دستیاب ہونگی، اس مقصد کے لئے انڈسٹریل پالیسی 2025 پر بھی کام جاری ہے۔چیمبر آف کامرس سے منسلک ماہرین اپنی تجاویز دیں تاکہ ایک مضبوط اور قابل عمل نظام وضع کیا جا سکے، معیشت کے استحکام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں صنعتوں کا کلیدی کردار ہے۔صوبے میں نجی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، صوبائی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کے لئے نجی سرمایہ کاروں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرے گی بلکہ انہیں تمام سہولیات بھی فراہم کرے گی۔صوبائی حکومت اپنی بجلی کی پیداوار کو رعایتی نرخوں پر مقامی صنعتوں کو فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے، صنعت و تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق صوبائی حکومت کے بورڈز میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے شامل کئے جائیں گے، ہم بہتر نتائج اور پائیدار ترقی کے لئے نجی سیکٹر کے ماہرین کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

صوبائی حکومت صنعتکاروں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہے، ہم نے اپنے دائرہ اختیار میں موجود ٹیکسز کے سلسلے میں ہر ممکن ریلیف دیا ہے۔ہمارا حتمی مقصد صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانا ہے، صوبائی حکومت نے کاروبار کے فروغ کے لیے بلاسود قرضوں کے مختلف پروگرامز شروع کر رکھے ہیں۔ہم نے فنی تعلیم میں ڈگری ہولڈرز کو بلاسود قرض کی فراہمی کے پروگرام کا بھی اجراء کیا ہے، ہوم سٹے ٹورازم پراجیکٹ کے اجراء کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، یہ صوبائی حکومت کا منفرد اقدام ہے جس سے سیاحت اور روزگار دونوں کو فروغ ملے گا۔ صحت عامہ کے تحفظ کے لئے اشیاء خوردونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، صنعتوں کے مالکان وسیع تر عوامی مفاد کے پیش نظر اس سلسلے میں حکومت سے تعاون کریں، عوام کی صحت ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ضرورت پڑی تو ملاوٹ شدہ اشیاء تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف مہم بھی چلائیں گے۔ قومیں اخلاقیات پر کھڑی ہوتی ہیں، ہمیں بھی بطور قوم اپنا اخلاقی معیار بہتر بنانا ہو گا، جب تک ہم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح نہیں کہیں گے، حالات نہیں بدلیں گے، حکومت اپنی سطح پر کام کر رہی ہے مگر معاشرے کی مجموعی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ہمیں ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، جب ہم ایک ٹیم کے طور پر چلیں گے تو اس کے نتائج بہت بہتر ہوں گے۔وفد کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات کی تعریف۔ وفد نے صنعت کاروں اور تاجروں کے مسائل کے حل میں دلچسپی لینے پر وزیراعلٰی کا شکریہ ادا کیا ۔

جواب دیں

Back to top button