سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کی نو منتخب گورننگ باڈی کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرٹس کونسل کے لیے سندھ حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے برداشت، امن اور ثقافتی سفارت کاری کے فروغ میں آرٹس کونسل کے کردار کو اجاگر کیا۔
حلف برداری کی تقریب پیر کے روز آرٹس کونسل میں منعقد ہوئی، جس میں وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
مراد علی شاہ نے آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ اور ان کی ٹیم کی فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے بے مثال لگن کو سراہا جس کی بدولت ادارے نے عالمی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سندھ حکومت اور آرٹس کونسل کے درمیان طویل عرصے سے جاری شراکت داری کو اجاگر کیا اور جمہوریت اور عوامی خدمت کے لیے ان کے مشترکہ عزم پر زور دیا۔ انہوں کہا کہ ادب اور فنون کے ذریعے ثقافتی احیاء کو فروغ دینے ، مختلف تہواروں، ورکشاپس اور سیمینارز کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کا سہرا آرٹس کونسل کو جاتا ہے۔
مراد علی شاہ نے 17 بین الاقوامی اردو کانفرنسز کے کامیاب انعقاد اور زوال پذیر فنون جیسے قوالی اور تھیٹر کو دوبارہ زندہ کرنے سمیت آرٹس کونسل کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے فنکاروں کی معاونت اور ورلڈ کلچر فیسٹیول جیسے اقدامات کی تعریف کی جس میں 44 ممالک کے شرکاء نے شرکت کی اور پاکستان کے شاندار ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے آرٹس کونسل کے آئندہ منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے ورلڈ کلچر فیسٹیول کے اگلے ایڈیشن کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا، جس کا مقصد 100 سے زائد ممالک کے شرکاء کی میزبانی کرنا ہے۔ انہوں نے آرٹس کونسل کی جانب سے ایک عالمی سمٹ کے انعقاد کے اقدام کو بھی سراہا، جس میں ماحولیاتی تبدیلی، طرز حکمرانی، معاشی چیلنجز، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم مسائل پر توجہ دی جائے گی۔

مراد علی شاہ نے اس اقدام کو ایک انقلابی کوشش قرار دیا جو پاکستان کی بین الاقوامی شبیہ اور ثقافتی شناخت کو بہتر بنائے گی اور عالمی تعلقات اور خارجہ پالیسی کے لیے نئے راستے کھولے گی۔وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کے اختتام پر آرٹس کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ثقافتی اور سماجی انقلاب کی کوششیں جاری رکھے۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایسا ماحول فراہم کرے گی جس میں فنون اور ثقافت پروان چڑھ سکیں، تاکہ معاشرے کی بھلائی اور پاکستان کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا جا سکے۔






