وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کا اجلاس منعقدہوا. ایڈیشنل چیف سیکرٹریز ، ایس ایم بی آر، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس میں شرکت کی. گزشتہ چھ ماہ کے دوران وزیر اعلیٰ کے 99 نکاتی عوامی ایجنڈا پر عملدرآمد کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلی کو تمام اضلاع میں 99 نکاتی عوامی ایجنڈا کے تحت ضلعی انتظامیہ کو دی گئی خصوصی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ ان ذمہ داریوں میں گڈ گورننس، صفائی ستھرائی، کوالٹی کنٹرول، ریوینیو معاملات، فوڈ اینڈ پرائس کنٹرول، کھلی کچہریوں کا انعقاد، عوامی شکایات کا ازالہ، سروس ڈیلیوری اور دیگر شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے غیر تسلی بخش کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والے ڈپٹی کمشنرز کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگلے جائزہ اجلاس تک تمام ایسے ڈپٹی کمشنرز اپنی کارکردگی کو خاطر خواہ حد تک بہتر بنائیں۔ 99 نکاتی عوامی ایجنڈا پر عملدرآمد کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کے تصویری ثبوت بھی فراہم کیے جائیں ، عوام کو خدمات اور سہولیات کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ، انکے معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔علی امین گنڈاپور نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور دیگر مراکز کے چانک دورے کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی حکام سروس ڈیلیوری سنٹرز کے باقاعدگی سے دورے کریں اور وہاں کر عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کا جائزہ لیں۔ اضلاع کی سطح پر جو افسران سرکاری امور کی انجام دہی میں غفلت برتتے ہیں ان کی نشاندہی کی جائے۔سرکاری امور کی انجام دہی میں غفلت برتنے والوں کو فوری طور پر انکے عہدوں سے فارغ کیا جائے گا۔ عوام کو انکی دہلیز پر خدمات اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریاں باقاعدگی سے منعقد کی جائیں۔ حکومت اربوں روپے عوام کو سہولیات کی فراہمی ہر خرچ کر رہی ہے ، انکے ثمرات بھی عوام کو ملنے چاہئیں۔ سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات کی صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی مہمات چلائی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز کو قبضہ شدہ سرکاری اراضی کی نشاندھی کر کے اسے فوری طور پر واگزار کرانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے 99 نکاتی عوامی ایجنڈا کے تحت گزشتہ چھ ماہ کے دوران تمام اضلاع میں کل 816 کھلی کچہریاں منعقد کی گئی ہیں۔ تمام اضلاع میں 316754 میٹر بلاک نالوں کی صفائی، 76089 میٹر سیوج لائنز کی صفائی کی گئی جبکہ 16438 سیوج لائنز کی مرمت کی گئی ہے۔ 25 اضلاع میں کل 1024 میں سے 1018 غیر قانونی بل بورڈز ہٹا دیئے گئے ہیں۔
صوبے کے 29 اضلاع میں سڑکوں کے کنارے 1810 کھڈے بھرے گئے ، 352 کلورٹس کی مرمت کی گئی جبکہ 326 سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بحال کیا گیا ہے۔ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے دوران مردان میں 483 کنال ، سوات میں 641 کنال، بونیر میں 625 جبکہ ڈی آئی خان میں 578 کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میں حلقوں سے باہر 824 پٹوار خانوں میں سے 795 پٹوار خانوں کو اپنے حلقوں میں منتقل کر لیا گیا ہے، ریوینیو سے متعلق مجموعی طور پر 62301 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران سکولوں کے 11160، مراکز صحت کے 10321 جبکہ پٹوار خانوں کے 6318 معائنے کیے گئے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں عطائیوں، غیر رجسٹرڈ مراکز صحت اور سپوریس ڈرگز کے خلاف 659 کارروائیاں کی گئیں۔مختلف اضلاع میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 142 غیر قانونی کرش پلانٹس کو بند کیا گیا ہے۔ اختیار عوام کا پورٹل پر درج 1567 شکایتوں میں سے 990 شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے۔






