وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد نے ملاقات کی۔ صوبائی کابینہ اراکین مینا خان آفریدی، عبد الکریم تورڈھیر، محمد اسرار کے علاؤہ محکمہ صنعت کے حکام شریک ہوئے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو صوبے کے صنعتکاروں اور تاجروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ کی صوبے کے صنعتکاروں اور اور تاجر برادری کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

وزیر اعلیٰ نےمقامی صنعتکاروں کو مائننگ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ مائننگ کے شعبے کو جدید خطوط پر ترقی دینے کے لیے صوبائی حکومت نے اپنی مائننگ کمپنی بنا لی ہے، علی امین خان گنڈاپور نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے، سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کے ذریعے تمام تر سہولیات آن لائن فراہم کرنے اور کاروبار کو آسان بنانے کے لیے نیا قانون لا رہے ہیں۔صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے صوبائی ٹرانسمشن لائن بچھا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی بجلی کی پیداوار مقامی صنعتوں کو سستے نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ اگلے چند سالوں میں زیر تعمیر بجلی گھروں سے تقریباً 800 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔صنعت و تجارت کو ترقی دے کر ہی بے روزگاری ہر قابو پایا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول مکمل ساز گار، سرمایہ کار بلاجھجک سرمایہ کاری کریں، صوبے میں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ صوبائی حکومت تجارتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے نئی لیز پالیسی لا رہی ہے، پشاور میں بی آر ٹی کے کمرشل پلازے بھی رواں سال جون تک مکمل ہو جائیں گے۔ صنعتکاروں کو صوبائی ٹیکسوں کی مد میں بھی ریلیف دیا جائے گا تاکہ صوبے کی صنعتیں پھیلیں پھولیں، صنعتکاروں و تاجروں کے وفاق سے جڑے مسائل وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائے جائیں گے،پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے 7 نئے انڈر پاسز جلد تعمیر کیے جائیں گے۔ وفد نے صنعتکاروں و تاجروں کے مسائل حل کرنے لیے ہدایات جاری کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ صنعتکار صوبے کی تعمیر و ترقی میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔






