لاہور(راجہ محبوب صابر)وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں پختہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن ذور شور سے جاری ہے۔صوبائی دارالحکومت میں کارروائیاں صرف عارضی تجاوزات تک محدود ہیں۔سیاسی دباؤ، سیاسی مفاد یا کمزور حکومتی و انتظامی رٹ کے باعث لاہور میں پختہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع نہیں ہو سکا جس سے پنجاب کے دیگر اضلاع کے عوام میں بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے۔لاہور جہاں بلڈنگ کنٹرول کئی اداروں کے پاس ہے پنجاب حکومت اور متعلقہ صوبائی اداروں کی طرف سے گرینڈ آپریشن تو دور کوآرڈینیشن کا شدید بحران ہے۔شہری ادارے بھی اس حوالے سے ایک پیج پر نظر نہیں آتے۔ان میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی، لاہور و والٹن کنٹونمنٹ بورڈز، ڈی ایچ اے،کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ، ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی،پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی نمایاں ہیں۔ان تمام اداروں کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور پختہ تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن یا ایک ساتھ آپریشن کے حوالے سے کوئی اجلاس بھی نہیں ہوا نہ ہی کوئی کمیٹی بنی ہے جو اس پر کام کر سکے۔ایک برائے نام اتھارٹی کی بازگشت چل رہی ہے جس کی کامیابی کے امکانات اس حوالے سے بھی کم ہیں کہ بیشتر ادارے اس میں ضم کرنا حکومت کے لئے آسان نہ ہوگا۔ایل ڈی اے اور ایم سی ایل کی طرف سے تجاوزات اور عمارتوں کو سربمہر کرنے تک آپریشن محدود ہے۔مسماری کے کارروائیاں نہیں ہو رہی ہیں۔صرف اڈہ پلاٹ کو کشادہ اور خوب صورت بنانے کے لئے عمارتوں کو گرا کر حکمرانوں کو خوش کیا گیا ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور میں 95 فیصد تعمیرات بغیر نقشہ اور بلڈنگ بائی لاز کے خلاف بنی ہیں اور اب بھی بن رہی ہیں۔ایل ڈی اے میں اس کی نسبت بلڈنگ بائی لاز پر عمل درآمد بہتر ہے جہاں غیر قانونی تعمیرات 30 فیصد سے بھی کم ہیں۔ایل ڈی اے میں روزانہ کی بنیاد پر عمارتوں کو سربمہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد بائی لاز کی خلاف ورزی پر کارروائی کی بجائے ریونیو کو زیادہ سے زیادہ حصول ہے۔ایل ڈی اے بھی غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کی بجائے جرمانے وصول کر کے انھیں قانونی تحفظ دے رہا ہے۔پختہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات جس میں پنجاب میں لاہور نمبر ون ہے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔یہ بات اہم ہے کہ ماضی میں بھی لاہور میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا سروے کروایا گیا تھا۔اسی جماعت کی حکومت میں ہائی رائز بلڈنگ کے لئے کمیشن بھی فعال کیا گیا تاہم چند مخالف افراد کی عمارتوں کو مسمار کر کے باقی کو چھوڑ دیا گیا ۔جس کی تحقیقات بھی نہیں ہو سکیں۔اس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بھی 20 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔یہ بات اہم ہے کہ لاہور میں پختہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن میں چیف سیکرٹری اور متعلقہ صوبائی سیکرٹری بھی لاتعلق ہیں۔
Read Next
1 دن ago
سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی شہریار عارف خان کاعلامہ اقبال،نشتر ٹاؤن کا دورہ، ناقص کارکردگی پر یو سی 229 کا سینٹری سپروائزر نوکری سے برخاست
1 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور کے شعبہ ریگولیشن کا آپریشن،جی ٹی روڈ سے تجاوزات کا صفایا
2 دن ago
ڈپٹی کمشنر لاہور نے انفورسمنٹ انسپکٹرز کے نئے آرڈر جاری کر دیئے،تجاوزات کے خاتمے کیلئے عملہ رات 3 بجے تک پٹرولنگ پر مامور
2 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف واہگہ زون میں آپریشن،دو مسمار،تین سربمہر
3 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا داتا گنج بخش زون میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن،3 مسمار،دو سربمہر
Related Articles
ایم سی ایل کے شعبہ ریگولیشن کا اوور چارجنگ کے خلاف اندرون لاہور آپریشن،زائد پارکنگ فیس وصول کرنے پر10 افراد گرفتار
3 دن ago
قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا،محمد سہیل آفریدی
4 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سمن آباد زون میں آپریشن،7 سیل،دو جزوی مسمار
4 دن ago


