قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا،محمد سہیل آفریدی

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ میں آج دل کی گہرائیوں سے لاہوریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے تمام تر فسطائیت، جبر اور ظلم کا مقابلہ کیا اور عمران خان صاحب سے اپنی محبت کا اظہار کیا، میں آپ سب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔آج لاہور میں جس طرح کا کرفیو نافذ کیا گیا، جب قبائلی اضلاع میں فوجی آپریشن شروع ہوئے تھے تو ہمارے قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا تھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا۔نامعلوم افراد بھی سادہ لباس میں گھوم رہے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نامعلوم افراد کون ہوتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں۔ انہوں نے آج لاہور کی خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ لاہوریوں نے خوف کی بت توڑ دیے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آپ نے اپنے اس جذبے اور جنون کو 27 ستمبر تک، بلکہ اس کے بعد بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہ جذبہ کسی صورت کم نہیں ہونا چاہیے۔لاہوریوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اور آج کرفیو لگانے والوں اور عوام کو روکنے والوں کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ لاہور کس کے ساتھ ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کرفیو، پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کی پامالی اور اس طرح کے ظلم و جبر کے ذریعے خود کو دھوکہ دے رہے ہیں یا کسی اور کو؟پہلے میں کہا کرتا تھا کہ پنجاب کا ماحول دیکھتے ہوئے اگر ہمیں ایک دن پہلے بھی بتا دیا جائے کہ جلسے کی اجازت ہے اور کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی، راستوں پر کرفیو نہیں ہوگا، تو ہم جلسہ کریں گے۔ لیکن آج جو حالات میں لاہور میں دیکھ رہا ہوں، اگر صرف تین گھنٹے کے لیے جلسے کی اجازت دے دی جائے، کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو اور راستے بند نہ کیے جائیں، تو صرف تین گھنٹوں میں لاہور کی اتنی عوام نکلے گی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہی وہ آزادی ہے جو عمران خان صاحب اپنی قوم کو دے چکے ہیں، اور اسی آزادی کے جذبے کے تحت آج لاہور کے عوام نے خوف کی تمام زنجیریں توڑ دی ہیں۔میں ایک بار پھر تمام لاہوریوں کا دل سے شکر گزار ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آج کی اسٹریٹ موومنٹ یہاں لاہور میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہم ان شاء اللہ باقی روٹ کی جانب جائیں گے، ہمارے دو ہزار سے زائد ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کل جہاں ہمارے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا، وہاں پنجاب پولیس کی غیرت دیکھیے کہ انہوں نے ٹینٹ تک اکھاڑ دیے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ یہاں تک کہ مہمانوں کے لیے رکھا گیا کھانا بھی پنجاب پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔بہرحال، غیرت نام کی کوئی چیز ان میں باقی نہیں رہی۔ پنجاب کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ پنجاب کے عوام خود پنجاب پولیس کے رویے سے تنگ ہیں۔ پنجاب پولیس کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہی ادارے کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ یہ لاوا ایک دن ضرور پھٹے گا، اور جب یہ پھٹے گا تو ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ نہ کرے کہ وہ دن آئے۔ اللہ کرے کہ اس دن سے پہلے انہیں کچھ عقل آ جائے اور وہ ظلم و جبر کا راستہ چھوڑ دیں۔ان شاء اللہ تعالیٰ، کل ہمارا روٹ جہاں جہاں سے گزرے گا، وہاں کے عوام تیاری کریں۔ کل انشاءاللہ آپ سے وہیں ملاقات ہوگی۔لاہور اسٹریٹ موومنٹ! کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا مال روڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اس وقت شدید سول مارشل لاء، جمہوری اقدار کی پامالی اور گھٹن کا شکار ہے، مریم صفدر کی جعلی حکومت میں پنجاب مسلط اور کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے،موجودہ حکمران عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے نہیں آئے بلکہ پاکستانی عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں, مریم صفدر نے واضح کیا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے،پاکستان کے تین صوبوں کو خطرہ قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے، یہی ٹولہ پاکستان کے حقیقی دشمن ہیں، مسلط حکمران وفاقی اکائیوں کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں،پنجاب کے غیور عوام ایسے احمق اور غدار لوگوں کو کبھی اپنا حکمران منتخب نہیں کریں گے، وہ وقت قریب ہے جب ملک ایسے مسلط حکمرانوں سے پاک ہوگا،ان مسلط حکمرانوں کی سیاسی تدفین پہلے ہی ہو چکی ہے، پنجاب پولیس عوام کی نہیں بلکہ جاتی امرا کی درباری پولیس بن چکی ہے،پنجاب پولیس شہریوں پر تشدد، بچوں کے اغوا اور بے گناہ افراد کی گرفتاریوں میں ملوث ہے، گزشتہ دو روز میں دو ہزار سے زائد کارکنان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا،پنجاب پولیس کو تنخواہیں عام شہریوں کے ٹیکس سے ملتی ہیں مگر وہ شریف خاندان اور مافیا کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، پنجاب پولیس میں عزت، دیانت، شرم اور حیا نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی،پنجاب پولیس اپنے ہی شہریوں کو سرعام ہراساں اور ان پر ریاستی جبر کر رہی ہے، ایسی شرمناک ملازمت چھوڑ دیں جس میں اپنے ہی لوگوں پر ریاستی تشدد کرنا پڑے، رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے،اپنے ہی لوگوں پر ظلم و جبر اور ان کے گھروں کی حرمت پامال کرنے والے سب سے بڑے بے غیرت ہیں، گھروں کی حرمت اور ان میں موجود خواتین کی عزت پامال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، پنجاب کے عوام اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں، اب کوئی طاقت ان کے فیصلے کو نہیں بدل سکتی۔

جواب دیں

Back to top button