وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت پولیس سے متعلق اہم اجلاس،پولیس افسران کی تنخواہیں بلوچستان اور اہلکاروں کی پنجاب کے برابر کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت پولیس سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا ۔ چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے علاوہ محکمہ خزانہ اور پولیس کے اعلٰی حکام نے شرکت کی- صوبے میں پولیس کو مستحکم کرنے کے لئے وزیر اعلٰی کے اہم اقدامات۔ پولیس کی مختلف ضروریات پوری کرنے کے لئے ساڑھے پانچ ارب روپے فوری طور پر جاری کر دیئے گئے ۔ پولیس گاڑیوں کی بلٹ پروفنگ اور دیگر جدید آلات کی خریداری کے لئے تین ارب روپے جاری کئے گئے- اجلاس میں ہر ضلع کی سطح پر جدید آلات سے لیس اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکنیک ٹیمیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پولیس تھانوں اور چیک پوسٹوں کو محفوظ بنانے کے لئے 1.3 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے – سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تھانوں اور چیک پوسٹوں کی تعمیر کے باقی ماندہ منصوبوں کے لئے 500 ملین روپے اورپولیس کے لئے نائٹ ویژن گوگلز، سنائپرز اور دیگر آلات کے لئے 720 ملین روپے جاری کرنے کا حکم دیا ۔

وزیر اعلٰی نےپولیس اہلکاروں اور افسران کے لئے ایک اور اہم اقدام۔- پولیس افسران کی تنخواہیں بلوچستان پولیس افسران کی تنخواہوں کے برابر کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا – پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں پنجاب پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کے برابر کرنے کا بھی اصولی فیصلہ ہوا-بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں پولیس افسران کی تنخواہیں دیگر تمام صوبوں جبکہ پنجاب میں پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں دیگر تمام صوبوں سے زیادہ ہیں۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ امن و امان کا قیام موجود صوبائی حکومت کی سب سے اہم ترجیح ہے، صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پولیس کو ہر لحاظ سے مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔موجودہ صوبائی حکومت شروع دن ہی سے پولیس کو مستحکم بنانے کے لئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے، پولیس کی ضرورت کو پوری کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کئے جائیں گے- پولیس کو سکیورٹی کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانا ہمارے لئے سب سے مقدم ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، خیبر پختونخوا پولیس انتہائی جوانمردی سے دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے- ہمیں پولیس کی کارکردگی اور پولیس جوانوں کی قربانیوں پر فخر ہے، صوبائی حکومت پولیس کی ضرورت پوری کرنے میں وسائل کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔

جواب دیں

Back to top button