خوراک میں جعلسازی کرنے والوں کیخلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی زیرو ٹالرینس پالیسی کا عملی نفاظ کر دیا گیا ہے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے حکم پر لاہور سے راجن پور تک ملاوٹ مافیا کی شامت آگئی۔ماہ اکتوبر میں 1لاکھ 4ہزار 790 فوڈ یونٹس اور پوائنٹس کی چیکنگ کے دوران 9ہزار 778 فوڈ پوائنٹس، یونٹس کو 12کروڑ 63لاکھ 24ہزار سے زائد کے جرمانے عائد کر دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر 280 فوڈ پوائنٹس بند کر کے جعلسازی پر 87 کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت چیکنگ میں 89.1 فیصد اور جرمانوں میں 94.3 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور 1لاکھ 32ہزار لٹر سے زائد ملاوٹی دودھ اور 24ہزار کلو ناقص گوشت سمیت آئل، ایکسپائر اشیاء تلف کی گئی ہیں۔

مزید برآں علی الصبح ناکہ بندی کے دوران 41ہزار 926 دودھ بردار گاڑیوں اور 13ہزار 637 ڈیری شاپس پر 3کروڑ 34لاکھ لٹر سے زائد دودھ چیک کیا گیا جبکہ ٹولنٹن مارکیٹ اور صوبہ بھر میں 8ہزار 773 میٹ شاپس پر کریک ڈاؤن کے دوران 19لاکھ 40ہزار کلو سے زائد گوشت کی چیکنگ کی گئی۔ عاصم جاوید نے کہا کہ مزید بہتری کے لیے 41ہزار 722 کو اصلاحی نوٹس جبکہ 3ہزار 317 نئے فوڈ پوائنٹس کو لائسنس جاری کیے گئے۔حفضانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر 280 پوائنٹس کو بند کیا گیا۔ عاصم جاوید ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ خوراک کے نام پر بیماریاں فروخت کرنے 87یونٹس کیخلاف مقدمات درج کروائے گئے۔ فوڈ اتھارٹی لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے اور اشیاء پر غیر منظور شدہ لیبل لگانا سنگین جرم ہے۔ بارہا اصلاحی نوٹس دینے کے باوجود اصلاح نہ کرنے والے کاروبار کیخلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے بند کر دیا جائے گا۔ خوراک میں ممنوعہ ناقص ایکسپائر اشیاء کا استعمال متعدد موزی امراض کا باعث بنتا ہے۔پنجاب کے ہر کونے میں خوراک کا کاروبار کرنے والوں پر کڑی نظر ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ خوراک میں جعلسازی کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں،، پنجاب میں کاروبار کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملاوٹ کیخلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے، شہری شکایات کی صورت میں 1223 پر اطلاع دیں۔






