سندھ کے 25 اضلاع میں یکم ستمبر 2025 سے سات روزہ صوبائی سطح پر انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگا جس دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 90 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے تاکہ انہیں اس معذور کردینے والی بیماری سے محفوظ رکھا جاسکے۔ یہ فیصلہ انسداد پولیو ٹاسک فورس کے اجلاس میں کیا گیا

جس کی صدارت چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کی۔ اجلاس میں مہم کی تیاریوں، حکمت عملی، ویکسین کے انتظام اور پولیو ورکرز کی سیکیورٹی پر تفصیلی غور کیا گیا۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے ملک میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ رواں سال اب تک ملک بھر سے 23 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 6 کیسز سندھ میں سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ بدین سے 2 جبکہ ٹھٹھہ، لاڑکانہ، قمبر اور عمرکوٹ سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ چیف سیکریٹری نے زور دیا کہ ویکسینیشن کا عمل ہر حال میں یقینی بنایا جائے، بالخصوص سیلاب متاثرہ اور دشوار گزار علاقوں میں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ پوائنٹس، اسکولز اور دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے سرکاری ٹیموں، منتخب نمائندوں اور مقامی کونسلرز کو ہدایت دی کہ وہ قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو قائل کریں۔ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی کہ تمام سرکاری و نجی اسکولز میں ویکسینیشن یقینی بنائی جائے جبکہ ریونیو اور لوکل گورنمنٹ کا عملہ مہم کے دوران فیلڈ میں موجود رہے۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر کشتیوں سمیت خصوصی انتظامات کیے جائیں، اور مہم کے دوران موسمی حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے اجلاس کو بتایا کہ مہم میں ستر ہزار سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام انتظامات بشمول ورکرز کی ٹریننگ، لاجسٹکس، ویکسین سپلائی اور کولڈ چین مینجمنٹ مکمل کرلیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیو کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، سخت مانیٹرنگ اور احتساب کا نظام قائم کیا گیا ہے اور ویکسین مینجمنٹ یا کولڈ چین میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مہم کے دوران پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کے لیے 21 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، سیکریٹری صحت، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، ایڈیشنل آئی جی پولیس، ای او سی سندھ کے کوآرڈینیٹر ارشاد علی سوڈھر، تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے علاوہ عالمی صحت کے اداروں کے نمائندوں بشمول بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن، یونیسف، روٹری انٹرنیشنل اور ڈبلیو ایچ او نے شرکت کی۔بین الاقوامی شراکت داروں بشمول بل گیٹس فاؤنڈیشن، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، یونیسیف اور روٹری انٹرنیشنل نے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے حکومت سندھ کے بھرپور عزم کو سراہا۔ انہوں نے مشکل حالات خصوصاً سیلابی صورتحال میں بھی سندھ کی مستقل کاوشوں کو تسلیم کیا اور مہم کی کامیابی اور پولیو فری سندھ کے ہدف کے حصول کے لیے اپنی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں اور اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی کہ وہ سیلاب اور موسمی چیلنجز کے باوجود مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور عزم اور لگن کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو اس قابلِ انسداد بیماری سے بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور پولیو فری سندھ کے ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔






