کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے کا دو ماہ میں آغاز،حیدرآباد اور سکھر میں بھی سیف سٹی منصوبے شروع کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز دو ماہ کے اندر کیا جائے گا، کیونکہ ٹیکنالوجی کی تنصیبات مکمل ہو چکی ہیں اور آزمائشی مراحل جاری ہیں۔وزیراعلیٰ نے سندھ سیف سٹی اتھارٹی کو ہدایت کی کہ حیدرآباد اور سکھر کے لیے بھی سیف سٹی منصوبوں کی تیاری شروع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع منصوبہ ٹائم لائن کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ اس کی منظوری دی جا سکے۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے خصوصی معاون علی راشد، رکن صوبائی اسمبلی سمیتا افضل، پاکستان مرچنٹ نیوی کے سید سرفراز شاہ، حمیرا فراز، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت، سیکریٹری بلدیات رفیع قریشی، خصوصی سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، ڈائریکٹر جنرل سندھ سیف سٹیز اتھارٹیز سرفراز نواز، ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سلمان شاہ نے شرکت کی جبکہ رازی سید ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ماہر عملے کی فوری بھرتی کی جائے تاکہ اربوں روپے کے اس منصوبے کو آئندہ دو ماہ میں فعال بنایا جا سکے۔ اجلاس میں منصوبے کے تعمیراتی مرحلے سے فعال نگرانی اور قانون نافذ کرنے کے مرحلے میں داخل ہونے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

*عملی تیاری:*

کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 300 پول سائٹس پر 1,300 کیمرے، 18 پوائنٹ آف پریزینس سائٹس اور 23 ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں شامل ہیں جو اس وقت قبولیت کے آزمائشی مرحلے میں ہیں۔عملی جمود سے بچنے کے لیے وزیراعلیٰ نے 34 خصوصی تکنیکی اور انتظامی ماہرین کی عارضی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرری کی منظوری دی، جن میں لیڈ سسٹمز آرکیٹیکٹس، بیک اینڈ ڈیولپرز اور سرویلنس افسران شامل ہیں۔

*بجٹ کی از سرِ نو ترتیب:*

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے 20 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ کی منظوری دی۔ اگرچہ مجموعی بجٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم فوری عملی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کو انسانی وسائل اور ٹرانسپورٹ و پیٹرولنگ کے شعبوں میں منتقل کیا گیا۔سندھ سیف سٹی اتھارٹی عارضی طور پر سینٹرل پولیس آفس سے کام کرے گی جہاں انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اوڈھو نے قریبی رابطے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے موجودہ نظام سے ہم آہنگی کے لیے ایک مکمل فلور فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ڈائریکٹر جنرل سندھ سیف سٹی اتھارٹی سرفراز نواز نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا تکنیکی حصہ جس میں سرورز، ویڈیو والز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک شامل ہیں، 17 دسمبر 2025 تک شیڈول کے مطابق مکمل کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹر ایڈیڈ ڈسپیچ سسٹم کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے اور دو ہفتوں کے اندر فیشل ریکگنیشن اور آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن نظام کی لائیو ڈیمانسٹریشن کے لیے تیار ہوگا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اب منصوبہ جاتی مرحلے سے مکمل فعال اتھارٹی کی جانب پیش رفت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سندھ سیف سٹی اتھارٹی کو ضرورت کی بنیاد پر بھرتیاں کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے اوپن مارکیٹ سے سخت میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر تکنیکی ماہرین کی بھرتی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حیدرآباد اور سکھر میں سیف سٹی منصوبوں کے سروے، نیز صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر اسمارٹ کیمروں کی تنصیب کے سروے، نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی جانب سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button