ڈائریکٹر جنرل گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی ذاکر حسین اور ان کی ٹیم بھی ہمراہ تھی ۔نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں نگران وزراء کے وفد نے ہنزہ کی بالائی وادی چپورسن میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی ، نگران وزراء جن میں وزیر داخلہ گلگت بلتستان ساجد بیگ، وزیر جنگلات حافظ شراف الدین ، تعمیرات و مواصلات راجہ شہباز خان شامل تھے ، نے وادی چپورسن کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں متاثرین سے ملاقات کی اور امدادی اشیاء کمیونٹی کے حوالے کردیں۔ امدادی اشیاء میں 150 سردی سے بچاؤ کے لئے خصوصی خیمے ، مٹی کے تیل سے چلنے والے 150 ہیٹرز، 200 سے زائد خوارک کے پیکٹس، 150 گرم کمبل، 50 مردانہ شال ، 50 زنانہ شال، 100 گرم جیکٹس، اور کچن کے استعمال کا سامان شامل ہے۔ متاثرین نے صوبائی حکومت کی جانب سے امداد کی فوری فراہمی پر شکریہ ادا کیا ۔ نگران صوبائی وزراء نے زلزلہ متاثرین کی شکایات سنیں اور انہیں اعلیٰ سطح پر ترجیح دینے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر جی بی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین ، ڈپٹی کمشنر ہنزہ اور ان کا فیلڈ سٹاف بھی موجودتھا۔ ڈی جی جی بی ڈی ایم اے اور ڈی سی ہنزہ نے وزراء کو جاری ریلیف سرگرمیوں کے بارے میں بریف کیا جبکہ وزراء نے مقامی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) کی 48 گھنٹوں کے اندر سڑک کی رسائی بحال کرنے میں کردار کی قدر کی۔ یاد رہے کہ زلزلے سے چپورسن کی جانب جانےو الی سڑک بند ہو گئی تھی جس کو جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے مشینری کا استعمال کرتے ہوئے ٹریفک کے لیے فوری طور پر کھول دیا۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق زلزلے سے وادی کے دس دیہات میں سے آخری چار دیہات شدید متاثر ہوئے جن کی آبادی تقریباً 500 گھرانوں پر مشتمل ہے۔ دو افراد بشمول ایک بچہ زخمی ہوئے جبکہ تقریباً تمام گھر یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے یا جزوی طور پر نقصان پہنچا، جس کی تفصیلی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی جانب سے زلزلے کے متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیئے فوری طور پر احکامات جاری کیئے گئے اور جی بی ڈی ایم اے نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پارٹنرز کے ساتھ مل کر ریلیف سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ جائیداد، عمارتوں اور آبپاشی کے نہروں سمیت نقصان کی نوعیت اور مقدار کا جائزہ جاری ہے۔ متاثرہ آبادی نے ہیٹنگ مواد، پریفب شیلٹرز اور صحت کی سہولیات کا مطالبہ کیا ہے جس پر جی بی ڈی ایم اے نے اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے بھرپور ریلیف مہم شروع کر دی ہے۔






