خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے،وزیر اعلٰی محمد سہیل آفریدی

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 46ویں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عمران خان اور بشرا بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت کرتی ہے، عمران خان کو 90 دن سے زائد تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، فیملی اور دوستوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، بشرا بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا گیا ہے، فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں۔عمران خان اور بشرا بی بی کو سردی کا سامان فراہم نہ کرنا ظلم ہے، جعلی حکومت آمریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے، خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث واپس لینے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپسی سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ وفاق کی جانب سے اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینا غلط ہے، شیڈول فور میں شامل سیاسی کارکنان کی فہرست ری وزٹ کر کے ریلیف دینے کی وزیراعلی نے ہدایت کردی۔وفاق کی جانب سے نادرن بائی پاس منصوبہ 2010 سے تاخیر کا شکار ہے، لاگت 3 ارب سے 31 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، صوبائی حکومت نے 5 ارب روپے دے کر اس منصوبہ کو تیز کیا ہے۔8 فروری انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں اسپیشل کمیٹی قائم کر رہے ہیں، صوبائی ملازمین کو طلب کر کے انتخابی دھاندلی پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔سیکیورٹی فورسز ہمارے محافظ ہیں، گلہ اپنوں سے ہوتا ہے، ایک طرف سے دہشتگرد مارتے ہیں تو دوسری طرف سے کولیٹرل ڈیمیج میں سویلین شہادتیں ہوتی ہیں۔ ڈرون اور فضائی حملوں میں شہریوں کی شہادتوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ وفاق ٹی ڈی پیز کے لیے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، صوبائی حکومت اب تک 7.5 ارب روپے اپنی جیب سے خرچ کر چکی ہے، آپریشنز کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے لوگوں کو بے گھر کر کے صوبے کے ذمہ چھوڑ دیا ہے جس سے صوبائی وسائل پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے، اب تک صوبے کے 10 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، مزید 100 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے۔بند کمروں کے فیصلوں سے جی ڈی پی 6.1 فیصد سے 3-2 فیصد تک گر گیا، قرضے 43 ہزار ارب سے بڑھ کر 80 ہزار ارب روپے ہو گئے، بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشنز صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، قبائلی مشران اور سیاسی و مذہبی قیادت کو بٹھایا جائے، 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ ریڈیو پاکستان واقعہ پی ٹی آئی کے خلاف سازش تھا، ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا ایک اجلاس ہو چکا ہے۔

جواب دیں

Back to top button