وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئےصوبہ بھر میں تمام سرکاری، نجی اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کی ہدایت دی۔ابتدا ء میں 2,368 عمارتوں کا انسپکشن کیا جائے گا،جس کی تکمیل کے لیے سخت ٹائم لائنز کے ساتھ ساتھ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے واضح احکامات جاری کیے جائیں گے، خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے بھر میں اہم سرکاری اور غیر سرکاری و کمرشل عمارتوں کے جامع فائر سیفٹی آڈٹ کی منظوری دی۔اس اقدام کا مقصد حفاظتی پروٹوکول کو ادارہ جاتی بنانا اور عوامی جان و مال کی بہتر حفاظت کرنا ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن اور ناصر حسین شاہ، مشیر گیان چند اسرانی، میئرکراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ایڈیشنل آئی جی ذوالفقارلاڑک،سیکریٹری بحالی نثار میمن، ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوٹو، ڈی جی پی اینڈ ڈی الطاف ساریو، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، چیف فائر آفیسر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ تمام اہم اور بڑی عمارتوں کا مکمل آڈٹ اب اختیاری نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تجارتی، نجی اور سرکاری عمارتوں کو آگ سے بچاؤ کے جدید نظام سے لیس ہونا چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عمارتوں میں واضح علامات کے ساتھ ساتھ بنا کسی رکاوٹ کے داخلی اور خارجی راستے لازمی ہونے چاہئیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد ضلع اور تعلقہ دونوں سطحوں پر ہنگامی تیاریوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ غیر متوقع واقعات سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مختلف رپورٹس اور انسپکشنز کے ذریعے حکومت نے صوبے بھر میں ابتدائی آڈٹ مرحلے کے لیے مجموعی طورپر 2,368 عمارتوں کی نشاندہی کی ہے۔
ابتدائی آڈٹ میں شناخت شدہ 2,368 عمارتوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
سکھر کی 898، کراچی کی 562، حیدرآباد کی 540، شہید بینظیر آباد کی 171، لاڑکانو کی 143 اور میرپورخاص کی 54 عمارتیں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تعمیل کے لیے مرحلہ وار ٹائم لائن کے ساتھ تین مرحلوں پر مشتمل عمل درآمد کے منصوبے کی منظوری دی۔فائر الارم پینلز، پورٹیبل آلات اور ہنگامی اشاروں کا معائنہ فوری اقدامات کے طور پر کیا جائے گا۔ ا سموک ڈیٹیکٹر، سنٹرل الارم سسٹم اور ہائیڈرنٹس کی تنصیب اور آپریشنلائزیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔جبکہ بجلی کے بہتر تار اور خودکار فائر سپریشن سسٹم کی تنصیب بھی ضروری ہے۔ مراد علی شاہ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ SBCA اور PDMA ٹیموں کی اہم اور بڑی عمارتوں کی انتظامیہ سے ملاقات کو یقینی بنائیں اور انہیں فوری، قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی فائر سیفٹی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ایک مخصوص ٹائم فریم دیں۔ عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔مراد علی شاہ نے یہ بھی ہدایت دی کہ منظور شدہ بیسمنٹ اور میزانائن کو صرف پارکنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا نہ کہ دکانوں ، گوداموں یا کسی اور ضرورت کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمرشل عمارتوں کے سالانہ حفاظتی معائنہ کو دوبارہ شروع کرنے کی بھی منظوری دی جو برسوں پہلے بند کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ برقی اور دیگر بشمول ایمرجنسی ایگزٹ اور انٹری پوائنٹس وغیرہ کو معائنہ کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ عملدرآمد نہ کرنے والی عمارتوں کو سخت نوٹس جاری کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حفاظتی معیارات پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔






