وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کاہاؤسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن سے متعلق پیشرفت پر عدم اطمینان،سرکاری عمارتوں کے احاطوں میں پھل دار پودے لازمی قرار

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت انوائرمنٹ پروٹیکشن کونسل کا تیسرا اجلاس منعقدہوا. وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی مصور خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور کونسل کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں کونسل کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا ۔خیبر پختونخوا میں پھل دار پودے لگانے کے لیے وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کا ایک اور بڑا فیصلہ،وزیراعلیٰ نے تمام سرکاری گھروں، دفاتر، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری عمارتوں کے احاطوں میں پھل دار پودے لازمی قرار دینے کی ہدایت کر دی۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آنے والے شجرکاری مہم کے دوران سرکاری عمارتوں کے احاطوں اور سڑکوں کے اطراف پھل دار پودے لازمی لگائے جائیں۔ اس سلسلے میں تمام حکام کو تحریری ہدایت نامہ جاری کیا جائے، پھل دار درخت لگانے کا عمل معدوم ہوتا جا رہا ہے اسے فروع دینے کی ضرورت ہے، پھل دار درختوں کی موجودہ انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندوں کے بقا کے لئے ضروری ہیں، محکمہ زراعت کو پھلدار پودوں لگانے کے لئے خصوصی ذمہ داری دی جائے، نوجوانوں نسل میں پھلدار درخت لگانے کے رحجان کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ کے لئے کونسل کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ۔ وزیر اعلیٰ کی صوبے میں موجود اینٹ کے بھٹوں کو زگ زیک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے 15 دنوں مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت،

وزیر اعلیٰ نے انوائرمنٹ پروٹیکشن کونسل کے گزشتہ اجلاس کے کیے گئے بعض فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر اور حائل رکاوٹوں سے متعلق رپورٹ طلب لی۔انہوں نے کہا کہ جن محکموں کو کونسل کی جانب سے جو جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں ان ذمہ داریوں کو ایک مہینے میں پوری کرکے کونسل کے اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس میں صوبے میں بغیر این او سی اور منظوری کے قائم پرانے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ریگولر کرنے کے فیصلے پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

وزیر اعلیٰ نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن سے متعلق پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار کا اظہار کیا ۔ وزیراعلیٰ کی ہاؤسنگ کی سائٹیز کی ریگولرائزیشن سے متعلق 15 دنوں میں واضح پیشرفت یقینی بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں اسپتالوں کے ویسٹ منیجمنٹ سے متعلق فیصلے پر بھی پیشرفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں میڈیکل ویسٹ منیجمنٹ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے، وزیر اعلٰی کی ہدایت جاری کی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت اسپتالوں کے ویسٹ منیجمنٹ کے لیے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔اجلاس میں بی ٹی ایس ٹاورز اور منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی ریگولیشن کے لیے گائیڈ لائنز کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے والے 32 مختلف شعبوں کی ریگولیشن کے لیے گائیڈ لائنز کی بھی اصولی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں کونسل کے لئے ٹیکنیکل کمیٹی، لیگل کمیٹی اور کلائمیٹ چینج کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دے دی گئی۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے جو دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے بروقت اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، تمام متعلقہ محکمے اور ادارے مل کر اس سلسلے میں ایک جامع اور مربوط حکمت کے تحت اقدامات اٹھائیں۔

جواب دیں

Back to top button