کراچی وااٹر سیوریج کارپوریشن نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کے لئے 70 سے زائد درخواستیں موصول

کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ)کراچی وااٹر سیوریج کارپوریشن نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کے لئے 70 سے زائد درخواستیں موصول، تمام درخواستیں ایچ ار ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کردی گئیں جلد ایک کمیٹی بنایا جائے گا جو امیدواروں کے تعلیمی قابلیت، عمر، تجربہ کے ساتھ پانی سیوریج کے ماہر کراچی اور ملک بھر سے موصول ہونے والی درخواستیں الگ الگ کی جائے گی۔ ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کی بھی بڑی فہرست مرتب کی جائے گی۔ اس کے بعد کارپوریشن کے ایچ آر کے سربراہ قاضی کبیر احمد تمام درخواستیں بورڈ کو ارسال کریں گے، بورڈ کی کمیٹی میں ان امیدواروں کا الگ الگ انٹرویو کیا جائے گا، انٹرویو میں چار یا سات کامیاب امیدوار کا نام حتمی فائنل ہوگا۔ ان امیدواروں کا بورڈ براہ راست انٹرویو کرے گا۔ سند ھ ہائی کورٹ نے ایک حکمنامہ کے تحت کارپوریشن کو دو ماہ کے دوران نئے CEO کی تقرری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نئے CEO کی عمر کی حد 65 سال مقرر ہے۔کارپوریشن کے بورڈ میں نئے CEO کے تقرری کی منظوری دی جائے گی۔ اس سے پہلے اخبار میں اشتہار کے ذریعے پیشکش طلب کیاگیا ہے مقررہ مدت میں درخواستیں طلب کی تھیں۔ موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر احمد علی صدیقی KWSC میں نئی تقرری تک عارضی طور پر تعینات رہیں گے، اور COO کی تقرری 30 ستمبر 2025ء تک ہے جبکہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر صلاح الدین احمد کے استعفی سے یہ عہدہ خالی تھا۔ان کی معاہدہ کے تحت تقرری 30 ستمبر 2026ء تک تھی۔ سندھ حکومت نے عارضی طور پر ڈپٹی کمشنر شرقی احمد علی صدیقی کو تعینات کر دیا ہے وہ بھی ادارے کے افسران کو باور کراتے ہیں کہ ان کی تقرری عارضی ہے وہ مستقل معاملہ کو حل نہیں کر سکتے ہیں۔ کراچی واٹر سیوریج کارپوریشن ایکٹ NO.PAS/LEGIS-B-06/2023 بتاریخ 5 جولائی 2023 کو جاری کیا تھا،اس قانون سے ادارہ کو خود مختار بنایا گیا ہے، سیاسی، انتظامی مداخلت بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا بظاہر اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ سندھ حکومت کی مداخلت جاری ہے۔ایکٹ کے تحت چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور چیف آپریشن آفیسر کی میرٹ پر تقرری و تعیناتی کا اختیار بورڈ کو حاصل ہے،اس کے علاوہ چیف فنانس آفیسر، چیف انٹرنل آڈٹ، چیف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی، ہیومین ریسورسز کے افسران کی تقرری ہوچکی ہیں،۔ یہ جولائی سے اپنے فرائض ادا کریں گے اس کے علاوہ چارٹر اکاونٹنٹ، لیگل ایڈوائزر کی تقرری بھی آزادنہ طور پر میرٹ پر کی جائے گی۔ ایکٹ کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری بورڈ پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر سے اکرے گا جو انتظامی امور کا ماہر ہوگا،اس کی عمر کی حد 65 سال مقرر کی گئی ہے۔ ادارے میں مشیر خاص یا دیگر عہدوں پر تقرری کی اجازت بورڈ سے لینا لازمی ہے۔ کارپوریشن کے ایکٹ 2023ء کے تحت چیف ایگزیکٹوز آفیسر کو عہدے سے ہٹانے یا مستعفی ہونے پر 30 دن قبل نوٹس دینے کی مدت رکھی گئی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کا قواعد و ضوابط بورڈ تیار کرے گا۔اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے تقرری کا ایک نجی کمپنی کو حدف دیا گیا تھا جس نے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے برخلاف دو بڑے عہدے پر سفارشی بھرتی کیئے تھے جو اپنی مدت پوری نہ کرسکے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور چیف آپریشن آفیسر کی تقرری قانون کے برخلاف کی گئی تھی،، کراچی کے بڑے ترقیاتی منصوبے پر چیف ایگزیکٹیو افیسر کی تقرری کی شرائط مشروط کر رکھی ہے، مصدقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے میں عالمی مالیاتی ادارے کے مقامی دو افسران کے ساتھ سندھ حکومت کے بعض افسران اس سازش میں براہ راست ملوث تھے۔ بورڈ نے تجربہ کار اعلی تعلیم یافتہ، انتظامی امور پر کنٹرول کرنے، مارکیٹ بیس عالمی معیار کا افسر کے بجائے منظور نظر من پسند مفاد عامہ کے خلاف مالیاتی ادارے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید صلاح الدین (سول انجینیئر ڈگری)،سابق ایم ڈی اسد اللہ خان (الیکٹریکل ڈگری کے ساتھ(ریٹائرڈ ملازم) ہیں تین سال قبل تقرری کے لئے کراچی سمیت ملک اور بیرون ملک سے 93 حاضر و ریٹائرڈ افسران نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے پر تعیناتی کی درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں صرف 13 افسران کا انٹرویو کیا گیا۔ CEO/MD اس بارے میں کراچی، لاہور اور پشاور بلدیاتی و شہری ادارے کے افسران کا تین نام حتمی فہرست میں سامنے آنے کے بعد سید ذاہد عزیر(پنجاب صاف پانی پروجیکٹ)نے تحریری طور پر معذرت کرلی(لیکن حقیقت میں انہوں نے قریبی دوستوں کو یہی بتایا کہ سندھ میں جو کرپشن ہے وہ یہ سب نہیں کر سکتے) اور ناصر غفورخان(پشاور واسا) کا نام بورڈ نے مسترد کردیا تھا۔ اب سید صلاح الدین(کراچی KWSSIIP-PD) کے نام حتمی فہرست میں میرٹ کے خلاف شامل کیا گیا تھا،سول سروسز (تقرری تبادلہ اور ترقی)رولز 1973ء ایسے ادارے میں ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر تقرری سیکشن 14(1)کو ملازمت پر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوامی مفاد عمامہ کے تحت بھی کسی ملازم کو ریٹائرڈ ہونے کے بعد ازسر نو ملازمت نہیں دی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے متعدد فیصلے واضح ہیں۔ ایک افسر اپنی پنشن کے ساتھ تنخواہ اور مراعات بھی نہیں لے سکتا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مینیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کا سیکشن (1)5 کے تحت سندھ حکومت کے سپرد ہے۔بورڈکے ایکٹ 1996 میں ترامیم کے بغیر اس کی افادیت ختم نہیں ہوسکتی۔ بیرون ملک اور مقامی اخبارات میں جاری ہونے والے اشتہار میں سول، الیکٹریکل، میکنکل انجینئر ،ماسٹر ڈگری بزنس مینجمنٹ، فنانس،کامرس مقامی یا انٹرنیشنل یونیورسٹیز،یا پروفیشنل اکاونٹنٹ کی ICAP/AP/CMAPD ڈگری یافتہ اہل ہوگا۔ 20 سالہ تجربہ رکھنے والے کو سرکاری، ریٹائرڈ،تجربہ کار افراد اپنی درخواستیں دے سکیں گے۔ ان کی عمر کی حد 62 سال تک ہے۔ چار سال ملازم ہونے اور تین سال ملازمت میں توسیع ہونے کی توقع ہے۔

جواب دیں

Back to top button