کراچی (بلدیات ٹائمز) بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کا عام اجلاس کونسل ہال صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیرصدارت منعقد ہوا، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد اور میونسپل کمشنر ایس ایم افضل زیدی نے بھی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کے دوران مجموعی طورپر پانچ قراردادیں پیش کی گئیں، اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے چیئرمین یوسی 7 لیاقت آباد شہاب الدین کے انتقالِ پرُملال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا، قرارداد میں کہا گیا کہ آج کا اجلاس شہاب الدین کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے کے ماہ و سال اللہ کے دین کے سربلندی اور عوام کے لئے وقف کردیئے تھے، ایک اور قرارداد کے ذریعے خیبر پختونحوا کے لکی مروت سیکورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت سات جوانوں کے شہید ہونے کے واقعہ پر دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا جبکہ اسٹریٹ کرائم کی شدید مذمت کی گئی جس کے نتیجے میں ارتقاء معین، عبدالباسط اور محمد فیاض جاں بحق ہوگئے تھے اس پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جمن دروان اور دل محمد کی قرارداد کے ذریعے ممبر سٹی کونسل یاسمین بٹ کے بھائی اور یوسی 2 مومن آباد کے چیئرمین ممتاز تنولی کے بھائی کے انتقال پر بھی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تمام مرحومین کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہاب الدین سٹی کونسل کے رکن تھے کونسل کی روایات کے مطابق جب کوئی کونسل کا رکن انتقال کر جاتا ہے تو اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے، میئر کراچی نے مزید کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں 24 لاکھ افراد نے گزشتہ سال علاج معالجے کی سہولیات سے استفادہ کیا، سہولیات فراہم کرنے کے لئے علاج کرانے والوں کا تعلق مختلف شہروں سے تھا،پیپلزپارٹی پورے پاکستان کی خدمت کررہی ہیں،انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال میں کینسر کا مفت علاج پیپلزپارٹی کی حکومت کر رہی ہے،پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مریض آتے ہیں،خیبرپختونخوا کے لوگ بھی جناح اسپتال آ کر علاج کرواتے ہیں،ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جمن دروان نے کہا کہ انسان جب جاتا ہے کوئی کردار چھوڑ کر جاتا ہے،شہاب الدین صاحب کے گھر پہنچے تو ان کے ساتھیوں نے ان کی تعریفیں کیں، شہاب الدین کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، قاضی صدر الدین نے کہا کہ سید شہاب الدین 2001 سے 2005 تک لیاقت آباد ٹاؤن کے نائب ناظم رہے،لیاقت آباد کی گلیوں میں رہنے والوں سے پتہ کیا جا سکتا ہے انہوں نے سادہ زندگی گزاری،جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سید سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ شہر میں سر عام لوگوں کو مارا جا رہا ہے،اسٹریٹ کرمنل شہریوں کی موبائل کے عوض جان لیتے ہیں گزشتہ سال شہر میں 90 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں، اس سلسلے میں آئی جی سندھ سے بھی جماعت اسلامی کے اراکین نے ملاقات کی،اس سال 73افراد اپنی جان سے محروم ہوئے ہیں،بعدازاں کونسل کا اجلاس منگل کے دن تین بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔







