وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی (ایس ایم آئی یو) جو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا مادرِ علمی ہے، آج بھی اپنی تاریخی وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کے رہنماؤں کی تیاری، تحقیق کے فروغ اور اعلیٰ ترین تعلیمی معیار کو قائم رکھنے میں مصروفِ عمل ہے۔انہوں نے یہ بات سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے کانووکیشن 2025 سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب میں گورنر محمد کامران ٹیسوری، چیئرمین سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع، چیئرمین چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی ڈاکٹر سروش لودھی، وائس چانسلر ایس ایم آئی یو ڈاکٹر مجیب الدین سحرائی میمن، اساتذہ، معززین، طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کے پہلے پی ایچ ڈی گریجویٹ، جناب عبداللہ ایوب، کو مبارکباد دیتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر صحرائی کی پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں بہتری کے لیے کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارے کے لیے ایک اہم تعلیمی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ سرکاری و نجی جامعات کو پی ایچ ڈی پروگرامز میں سخت معیارات کو یقینی بنانا چاہیے کیونکہ یہ ڈگریاں نہ صرف فرد کی صلاحیت بلکہ ادارے کی ساکھ کی بھی عکاس ہوتی ہیں۔مراد علی شاہ نے کانووکیشن کو طلبہ کی محنت اور کامیابی کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن طلبہ کا ہے۔ آپ نے محنت اور قربانی سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ آپ کا سفر قابلِ تقلید ہے اور میں ہر گریجویٹ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے ایس ایم آئی یو کی شاندار وراثت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ قومی فخر کی علامت ہے جس کے سابق طلبہ میں سر شاہنواز بھٹو، سر عبداللہ ہارون، علامہ آئی آئی قاضی اور حنیف محمد جیسی تاریخی شخصیات شامل ہیں۔ انہوں نے ادارے کے بانی خان بہادر حسن علی آفندی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 140 سالہ وراثت آج بھی پاکستان کے فکری اور شہری منظرنامے کو تشکیل دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی کی حالیہ کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی نے معاشی چیلنجز کے باوجود اپنے مالی خسارے کو سرپلس (فاضل رقم) میں تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مہنگائی زدہ دور میں یہ ایک غیرمعمولی کامیابی ہے۔ انہوں نے ادارے کی تیزی سے ترقی کی تعریف کی جس میں طلبہ کے داخلے میں تین گنا اضافہ اور جدید تعلیمی سہولیات جیسے ہائی ٹیک کمپیوٹر لیب، آرٹیفیشل انٹیلیجنس لیبارٹری، علامہ آئی آئی قاضی لائبریری اور پروفیسر سروش حشمت لودھی یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر کا قیام شامل ہے۔مراد علی شاہ نے ایس ایم آئی یو کی متحرک طلبہ سوسائٹیوں کو سراہا جو مباحثے، ادب، سائنس، فنون، کمیونٹی سروس اور ماحولیاتی شعور کے ذریعے قیادت، تخلیقی صلاحیت اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دیتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کے عالمی تعلیمی وژن کی بھی تعریف کی اور بتایا کہ اس ادارے نے دو گلوبل ریسرچ کانگریسز کے تحت گیارہ بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد کیا جن میں ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور تعلیمی اصلاحات جیسے اہم عالمی مسائل پر بات چیت کی گئی۔مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کا نیا ملیر کیمپس، جو ایجوکیشن سٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل ہے، 40,000 طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے کی گنجائش رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیمپس نہ صرف معیاری تعلیم تک رسائی کو بڑھائے گا بلکہ مقامی معیشت کو روزگار کے مواقع کے ذریعے مستحکم کرے گا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی ترقی کے لیے سندھ حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعلیٰ نے گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ جستجو، ہمدردی اور عوامی خدمت کے جذبے کو زندہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی کامیابی سندھ کی کامیابی ہے۔ آپ کے خواب پاکستان کی امیدیں ہیں۔ مراد علی شاہ نے گریجویٹس اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد دی اور کامیاب کانووکیشن کے انعقاد پر ڈاکٹر صحرائی اور ان کی ٹیم کو سراہا۔






