*وزیراعلیٰ سندھ کا بارش کے بعد حیدرآباد کا تفصیلی دورہ،پیپلزپارٹی کے میئر جلد حیدرآباد کا منظرنامہ بدل دیں گے، مراد علی شاہ*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں شہری نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں آٹو بھان روڈ پر قائم آٹھ منزلہ غیر قانونی عمارتوں کا انہدام بھی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان عمارتوں کی منظوری موجودہ حکومت میں نہیں بلکہ سابقہ حکومتوں کے دور میں دی گئی تھی۔یہ بات انہوں نے صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، جام خان شورو اور میئر حیدرآباد کاشف شورو کے ہمراہ بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد میئر آفس میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ حیدرآباد کے تین دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں، جن پر کارروائی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس شہر کی تباہی کا سبب کون بنے۔ انہوں نے اس موقع پر سابق حکومتوں کی غفلت کی طرف اشارہ کیا۔وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ موجودہ حکومت اور حال ہی میں منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی کے میئر کی کوششوں کے باعث جلد حیدرآباد کے شہری منظرنامے میں نمایاں بہتری دیکھی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے اعتماد کا احترام حقیقی اور پائیدار ترقی کے ذریعے کیا جائے گا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حیدرآباد ایک نشیبی ضلع ہے جو مکمل طور پر نکاسی آب کے لیے پمپنگ اسٹیشنز پر انحصار کرتا ہے کیونکہ یہاں پانی کششِ ثقل کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔ بارش کے دوران بجلی کی بندش صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی حیسکو کو ہدایت دے چکے ہیں کہ بارش کے دوران بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، منتخب نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کو مؤثر ردِعمل پر سراہا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ علاقوں میں اب بھی پانی کھڑا ہے تاہم نکاسی آب کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے حیدرآباد سے اپنی پرانی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں حیدرآباد کو 2005–2006 سے قریب سے جانتا ہوں، اُس وقت مون سون میں میں نے کشتی کے ذریعے شہر کا سفر کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی کا عمل تیزی سے جاری ہے، نشیبی علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے جبکہ پمپنگ اسٹیشنز اور نکاسی آب کی لائنوں کی صفائی کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ حیدرآباد کی انتظامیہ ریلوے محکمے کے پمپنگ اسٹیشنز بھی چلاتی ہے۔

*سڑکوں کے ترقیاتی منصوبے*

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ آٹو بھان روڈ کے فیز1 اور فیز2 رواں ماہ جولائی کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے، جبکہ فیز 3 آئندہ سال فروری تک مکمل ہوگا۔ ایک رنگ روڈ بھی تعمیر کی جا رہی ہے جو تین فلائی اوورز کو آپس میں ملائے گا اور یہ اسکیم تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

*فلٹر پلانٹس اور دیگر منصوبے*

آئندہ منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ لطیف آباد نمبر 4 اور قاسم آباد میں فلٹر پلانٹس پر کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں حیدرآباد کے علاقے ہالا ناکہ کے قریب نئے اے ڈی پی منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیاز اسٹیڈیم کی بحالی سندھ حکومت نے مکمل کر لی ہے۔سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آئندہ سیزن میں حیدرآباد میں میچز کے انعقاد کے لیے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے بات چیت ہو چکی ہے۔ وہیل چیئر کرکٹ ایشین چیمپئن شپ کے میچز کراچی اور حیدرآباد دونوں شہروں میں منعقد ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں نیاز اسٹیڈیم میں چھ بین الاقوامی ٹیمیں میچ کھیلیں گی جبکہ اگست میں ایک نیا عوامی تفریحی پارک "ڈی پارک”، بھی افتتاح کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ بارش کو روکا نہیں جا سکتا لیکن فوری نکاسی آب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں نیویارک اور نیو جرسی جیسے ترقی یافتہ شہروں کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا۔

*حیدرآباد ہماری اولین ترجیح*

وزیراعلیٰ نے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد پاکستان پیپلز پارٹی کے ترقیاتی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور یہاں کے عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عوام کے اعتماد اور پیپلز پارٹی کے میئر کے انتخاب پر حیدرآباد کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مالی وسائل محدود ضرور ہیں لیکن حیدرآباد کے عوام کی خدمت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل چاہے جتنے بھی ہوں، عوامی خدمت میں کمی نہیں آنے دیں گے۔

*دورۂ شہر: بارش کے بعد صورتحال کا جائزہ*وزیراعلیٰ نے شہر کے مختلف اہم علاقوں کا دورہ کیا، جن میں سول لائنز، ٹھنڈی سڑک، آٹو بھان روڈ، پمپنگ اسٹیشنز اور ریلوے انڈر پاس شامل تھے تاکہ بارش کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس کے علاوہ انہوں نے نشیبی علاقوں فاطہ چوک، مکی شاہ روڈ اور قاضی قیوم روڈ قاسم آباد کا بھی دورہ کیا اور نکاسی آب کے انتظامات کا معائنہ کیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 14 جولائی کو شہر میں کلاؤڈ برسٹ (شدید بارش) کے نتیجے میں صرف ایک گھنٹے کے دوران 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ لطیف آباد میں 91 ملی میٹر اور قاسم آباد میں 55 ملی میٹر بارش ہوئی۔

کمشنر نے آگاہ کیا کہ 90 فیصد برساتی پانی 10 گھنٹوں کے اندر نکال دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ زیر تعمیر سڑکوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور جن علاقوں میں پانی باقی ہے وہاں فوری نکاسی کو یقینی بنایا جائے۔مراد علی شاہ نے بارش کے دوران ایک شہری کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور انتظامیہ کو عوامی تحفظ اور جلد بحالی کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت دی۔

*عبد الستار ایدھی فلائی اوور اور پنیاری کینال منصوبے*

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے زیر تعمیر عبد الستار ایدھی فلائی اوور کا دورہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں میں تیزی لائی جائے۔انہیں پنیاری کینال کے دونوں کناروں پر بننے والی نئی سڑکوں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ یہ دونوں سڑکیں مجموعی طور پر 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہیں۔

دائیں کنارے (رائٹ بینک) کی سڑک 7.40 کلومیٹر طویل ہو گی جو حیدرآباد بائی پاس سے گنگھارا موری تک جائے گی۔بائیں کنارے (لیفٹ بینک) کی سڑک 9.80 کلومیٹر طویل ہو گی جو پھلیلی موری ریگولیٹر سے گنگھارا موری سے ہوتی ہوئی بائی پاس تک پہنچے گی۔ان منصوبوں کا مقصد ٹریفک کے دباؤ میں کمی، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ منصوبوں کی بر وقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے، اس کے لیے مناسب مانیٹرنگ اور شفافیت ضروری ہے۔مراد علی شاہ نے عبد الستار ایدھی روڈ کی تعمیر میں غیر قانونی تجاوزات کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی اور ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔

جواب دیں

Back to top button