بیڈ گورننس دہشتگردی کو تقویت جبکہ اچھی طرز حکمرانی ریاست کو مستحکم بناتی ہے، میر سرفراز بگٹی کی ینگ پارلیمنٹرین فورم پاکستان کے وفد سے گفتگو

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ینگ پارلیمنٹرین فورم پاکستان کی صدر رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار اور جنرل سیکرٹری ایم این اے نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کی قیادت وفد نے ملاقات کی ، ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، سماجی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وفد کو کوئٹہ آمد پر خوش آمدید کہا اور بلوچستان حکومت کی پالیسیوں، ترقیاتی اقدامات اور چیلنجز پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی تناظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ریاست سے ناراضی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہتھیار اٹھا لیے جائیں آئین پاکستان ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے اور اس دائرے میں رہتے ہوئے بات کی جائے تو ہر مسئلے کا حل ممکن ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق اتفاق رائے سے ہوا تھا، جسے شاہی جرگے نے اکثریتی رائے سے منظور کیا اس کے برعکس یہ بیانیہ کہ بلوچستان کا زبردستی الحاق ہوا حقائق سے انحراف ہے ہمیں بلوچستان سے متعلق اس تاثر کو جو باہر رائج ہے درست معلومات اور حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ بیڈ گورننس دہشتگردی کو تقویت جبکہ اچھی طرز حکمرانی ریاست کو مستحکم بناتی ہے ہم بلوچستان میں گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ہر سطح پر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنا رہے ہیں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے ریاست کے ساتھ جوڑ رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوان آگے بڑھ کر قومی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست مخالف کوئی بھی بیانیہ، چاہے کتنا ہی مقبول ہو، محب وطن افراد کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا ہے تعلیم کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں 3200 سے زائد بند اسکولوں کو فعال کیا گیا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ صوبے کا کوئی اسکول بند نہ رہے انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ کے تحت قومی و مقامی معاونت کے ساتھ بلوچستان کے طلبہ کو دنیا کی دو سو ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کے لیے بھیجا جا رہا ہے اس کے علاوہ اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر افراد کے لیے بھی پہلی بار تعلیمی اسکالرشپ پروگرام متعارف کروایا گیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کابینہ میں چار خواتین کی نمائندگی ہے جو خواتین کو بااختیار بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے ملاقات میں ینگ پارلیمنٹرین فورم پاکستان کی صدر رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبہ ترقی کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کا بیانیہ ایک مضبوط پاکستان اور قومی یکجہتی کی علامت ہے وفد کے دیگر ارکان نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے اور ریاست مخالف عناصر کو کامیابی نہیں ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button