*سی ڈی اے کا اسلام آباد میں الیکٹرک ٹرام بسیں چلانے کا فیصلہ*

چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر پلاننگ ڈاکٹر خالد حفیظ، متعلقہ ڈی جیز، این آر ٹی سی کے نمائندگان اور دیگر سنئیر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شہریوں کیلئے جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرانے کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد کو جدید اور بہترین ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی فراہمی سی ڈی اے کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں الیکٹرک ٹرام بسیں چلائی جائیں اسکے علاوہ عوام کو نہ صرف ٹرانسپورٹ کی جدید سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹرام نظام کی فیزیبلٹی اسٹڈی کو حتمی شکل دی جائے تاکہ شہر کے مصروف ترین روٹس پر جدید بسسز کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرام کے ڈبے مختلف کمپارٹمنٹس پر مشتمل ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر سفر کر سکیں۔ بسوں کو معذور افراد اور خواتین کیلئے بھی موافق بنایا جائے۔اجلاس کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس منصوبے کے مالیاتی پہلوؤں سمیت اسکے آپریشنل اور فنانشل ماڈلز کے حوالے سے فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جارہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکٹرک بسوں کے منصوبے کے تحت روزانہ کی رائیڈر شپ 90 ہزار مسافروں سے تجاوز کرچکی ہے کیونکہ الیکٹرک بسیں نہ صرف ماحول دوست، کم خرچ اور وقت پر متعلقہ سٹاپ/ اسٹیشن پہنچتی ہیں جسکی وجہ سے شہریوں نے چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا شکریہ ادا کیا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے منصوبے کی مکمل فزیبلٹی رپورٹ خصوصا مالیاتی اخراجات پر مکمل ورکنگ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا فنانشل ماڈل تیار کیا جائے جو طویل مدتی خودکفالت کو یقینی بنائے۔ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔ ٹرام کے منصوبے کو حتمی شکل اور آپریشنل بنانے کے ہداف اور شیڈول طے کئے جائیں۔الیکٹرک فیڈر بسیں کے حوالے سے چیئرمین نے کہا کہ بسوں کے روٹس کا انتخاب ڈیٹا پر مبنی ہو۔ ایسے علاقوں کو ترجیح دی جائے جہاں روزانہ مسافروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تمام بس ٹرمینلز کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے۔ ڈیجیٹل اسکرینز کے ذریعے نہ صرف اشتہارات بلکہ ٹائم ٹیبل اور حفاظتی ہدایات بھی شائع کی جائیں گی۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عوامی خدمات کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ آمدنی میں اضافہ کیلئے الیکٹرک اور دیگر بسوں میں اشتہارات اور اسمارٹ ٹکٹنگ سسٹم کو فعال کیا جائے گا۔چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ اسلام آباد کے شہریوں کیلئے الیکٹرک میت بسیں بھی چلائی جائیں۔ اس منصوبے کے تحت سی ڈی اے ملازمین کیلئے بھی چار الیکٹرک بسیں چلائی جائیں۔ اجلاس میں بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شہر بھر میں 140 بس سٹاپس کی اپ لفٹنگ کا کام شروع کیا جاچکا ہے جبکہ 200 سے زائد بس سٹاپس بنائے جائیں گے جن میں اشتہارات کیلئے جدید ڈیجیٹل بورڈز نصب کئے جائیں تاکہ اس منصوبے میں نان فئیر ریونیو (بس کرایوں کے علاوہ زرائع آمدن) میں اضافے کو یقینی بنایا جاسکے۔چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ یہ تمام منصوبے جدید اور خوبصورت ٹرانسپورٹ سسٹم کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے جس میں ای ایم وی اے کارڈز اور گوگل کے ذریعے کرایہ وصولی، ڈرائیورز اور تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندگان کے ساتھ معاہدات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا یہ اقدام نہ صرف شہریوں کو معیاری ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرے گا بلکہ اسلام آباد کو ایک جدید اور ماحول دوست شہر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے ہمارے شہر کو ایک جدید، صاف، اور پُرکشش دارالحکومت بنانے کی طرف اہم قدم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ شہری بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس وژن کو حقیقت بنانے میں سی ڈی اے کی کاوشوں کا ساتھ دیں گے۔

جواب دیں

Back to top button