یقینی ہیرو: 1965 کی پاک-بھارت جنگ کا اصل فاتح "راجوری کا بادشاہ” میجر ملک منور خان اعوان

پاک-بھارت تعلقات کی پرآشوب تاریخ میں 1965 کی جنگ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جنگ میں جہاں کئی نام مشہور ہوئے، وہیں چند شخصیات ایسی بھی تھیں جنہیں دشمن کی صفوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ایسی ہی ایک غیرمعمولی شخصیت میجر ملک منور خان اعوان تھے، جنہیں پاکستان کے فیلڈ مارشل ایوب خان نے "راجوری کا بادشاہ” کا خطاب دیا۔ ان کی جنگی حکمت عملی، بے خوف قیادت اور ناقابلِ یقین فتوحات آج بھی جنگی تاریخ کا درخشاں باب ہیں۔

—ابتدائی زندگی اور غیر روایتی عسکری سفر

میجر منور خان اعوان برٹش انڈیا میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی جوانی میں ایک بہترین ایتھلیٹ کے طور پر پہچانے گئے اور 1940 میں انڈین ملٹری اکیڈمی دہرادون میں داخلہ حاصل کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما میں جاپانی فوج کے ہاتھوں قید ہوئے، مگر بجائے قیدی بنے رہنے کے، جاپانی فوج میں شامل ہو کر اسپیشل فورسز کی تربیت حاصل کی۔اس کے بعد وہ سبھاش چندر بوس کی قیادت میں انڈین نیشنل آرمی (آزاد ہند فوج) میں شامل ہوئے اور امفال کی لڑائی میں حصہ لیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں سزائے موت سنائی گئی، مگر قیامِ پاکستان کے بعد رہا کر دیے گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے ان کی عسکری صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں پاک فوج میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ 1948 کی کشمیر جنگ میں انہوں نے قبائلی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے بارہ مولا تک رسائی حاصل کی۔

–آپریشن جبرالٹر اور غزنوی فورس

1965 کی جنگ میں میجر منور نے آپریشن جبرالٹر کے تحت غزنوی فورس کی قیادت کی۔ یہ دس یونٹوں میں واحد کامیاب یونٹ تھی۔ کوڈ نیم "بریگیڈیئر رضا” کے تحت ان کی فورس نے راجوری، پونچھ، بدھال اور ریاسی میں تقریباً 2000 مربع میل علاقہ فتح کیا۔ان کی قیادت میں 17 بڑی لڑائیوں میں سات بھارتی بٹالینز کو شکست دی گئی، جن میں 7 سکھ، 3 کُماؤں اور گورکھا رجمنٹس شامل تھیں۔ ان کا کمال صرف فوجی کامیابیوں تک محدود نہیں رہا — انہوں نے ان علاقوں میں پاکستانی پرچم لہرایا، مقامی حکومت قائم کی اور انتظامی کنٹرول سنبھالا۔

–حکمتِ عملی اور ضائع شدہ مواقع غزنوی فورس کی کامیابی آپریشن گرینڈ سلیم کی بنیاد بنی، جس کا مقصد کشمیر میں مکمل پیش قدمی تھا۔ مگر جنرل اختر ملک کی جگہ جنرل یحییٰ خان کو کمان سونپنے سے آپریشن متاثر ہوا اور پاکستان نے ایک سنہری موقع گنوا دیا۔بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی کے نتیجے میں میجر منور کو جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی کے حکم پر پیچھے ہٹنے کا حکم ملا۔ پاکستان نے بدلے میں لاہور، سیالکوٹ اور حاجی پیر پاس واپس حاصل کیے۔

—اعزازات اور دشمن کی عزت

میجر منور کو نشانِ حیدر کے لیے نامزد کیا گیا، مگر انہیں ستارۂ جرات اور تمغۂ بسالت دیا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بحث کا موضوع بنا، ان کی عسکری قیادت اور شجاعت پر کوئی شک نہیں کیا گیا۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارتی فوجی مؤرخین اور افسران نے بھی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا۔ بھارتی جنگی عجائب گھروں میں ان کی تصویر "A Brave Enemy” کے عنوان سے آویزاں ہے۔ بریگیڈیئر چترنجن ساونت، کرنل ایم این گلاٹی، جنرل سکھونت سنگھ اور میجر جنرل دھرو کٹوچ جیسے بھارتی ماہرین نے ان کی حکمتِ عملی اور قیادت کو سراہا۔

—ایک بھولا بسرا مگر عظیم ہیرو

آج میجر ملک منور خان اعوان کا نام نصابی کتب یا میڈیا میں بہت کم سننے کو ملتا ہے، مگر فوجی حلقوں میں ان کا تذکرہ آج بھی فخر سے کیا جاتا ہے۔ "راجوری کا بادشاہ” صرف ایک خطاب نہیں، بلکہ ان کی غیر معمولی عسکری بصیرت، قائدانہ صلاحیت اور بے مثال شجاعت کا اعتراف ہے۔جنگی تاریخ میں جہاں نفرت، تعصب اور سیاست کا رنگ غالب ہوتا ہے، وہاں میجر منور کی کہانی ایک ایسی مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ بہادری اور پیشہ ورانہ عظمت سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔

جواب دیں

Back to top button