وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت کئی جامع اصلاحات کی منظوری دی۔ ان میں قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر گاڑیوں کی رجسٹریشن کا آغاز، میڈیکل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کی ذمہ داری کا آئی بی اے سکھر کو منتقل کرنا اور صوبہ بھر میں 3,371 محفوظ تاریخی عمارتوں کا ازسرنو جائزہ شامل ہے۔ کابینہ نے چیسز نمبر میں تبدیلی پر سرکاری تحویل میں لی گئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی اجازت دینے، گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے مراکز قائم کرنے اور عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران بھرتی کیے گئے تکنیکی و معاون عملے کی خدمات اور تنخواہوں میں آخری توسیع کی بھی منظوری دی۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز شریک ہوئے۔قومی شناختی کارڈ پر مبنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ذاتی نمبر پلیٹس
سندھ کابینہ نے محکمہ ایکسائز کی جانب سے قومی شناختی کارڈ پر مبنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ذاتی رجسٹریشن نمبروں (پر سنلائزڈ رجسٹریشن مارکس) کے اجراء کی تجویز کا جائزہ لیا۔ اس نئے نظام کے تحت رجسٹریشن نمبرز گاڑی کے چیسز نمبرز کی بجائے مالکان کے قومی شناختی کارڈ سے منسلک ہوں گے۔ اس طرح مالکان اپنی ذاتی نمبر پلیٹس گاڑی فروخت کرنے کے بعد بھی محفوظ رکھ سکیں گے اور دوبارہ استعمال کر سکیں گے۔ گاڑی کی مستقل شناخت کا ذریعہ اب بھی چیسیز نمبر ہی ہوگا۔ ذاتی نمبر پلیٹس مالکان کے پاس رہیں گی جو انہیں دوبارہ استعمال یا حکام کو واپس کر سکتے ہیں۔ یہ نظام گاڑیوں کی فوری تلاش کو ممکن بنائے گا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگا۔ قومی شناختی کارڈ سے منسلک رجسٹریشن نہ صرف ٹیکس دہندگان کے اثاثوں کی نگرانی کو آسان بنائے گی بلکہ انتظامی سہولت میں بھی اضافہ کرے گی۔

یہ ایک جدید اور مالک کو مرکزی حیثیت دینے والا رجسٹریشن نظام ہوگا جو نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی کے ساتھ مربوط ہوگا۔ اس سے صوبوں میں یکسانیت اور گاڑیوں کی تلاش میں بہتری آئے گی۔ اس ماڈل کے تحت نمبر پلیٹس گاڑی کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گی بلکہ مالک کے پاس محفوظ ہوں گی۔ گاڑی کی فروخت کے وقت نمبر پلیٹ چیسیز سے علیحدہ کر دی جائے گی اور اسے نئے مالک کو منتقل کیا جا سکے گا۔ اگر نمبر پلیٹ واپس نہ لی گئی تو اسے نیلام یا دوبارہ جاری کیا جا سکے گا۔ کابینہ نے اس قومی شناختی کارڈ پر مبنی رجسٹریشن نظام کی اصولی منظوری دے دی ہے اور اس کے لیے قانونی ترامیم بھی منظور کر لی ہیں تاکہ سندھ کا نظام بین الاقوامی معیارات اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حالیہ اصلاحات سے ہم آہنگ ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کو ہدایت دی کہ وہ اس نظام کو تیار کرے اور پہلے مرحلے میں اس کی آزمائش کرے، اس کے بعد متعلقہ قانون میں ترامیم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ نظام فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا بلکہ مکمل آزمائش کے بعد اس پر عملدرآمد کے لیے مزید اجلاس بلائے جائیں گے۔
غیر رجسٹرڈ کسٹم گاڑیوں کی ضبطگی
سندھ حکومت نے ایسی سرکاری گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) تجویز کیے ہیں جو ضبط شدہ ہوں یا جن کے چیسیز نمبر تبدیل کیے گئے ہوں یا ان میں کٹ اور ویلڈ کی ترمیمات کی گئی ہوں۔ یہ ایس او پیز صرف وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں کو ایسی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی اجازت دیتے ہیں، وہ بھی مخصوص اور ناقابلِ منتقلی رجسٹریشن سیریز میں (وفاقی اداروں کے لیے جی پی وائے/جی پی زیڈ اور صوبائی اداروں کے لیے جی ایس وائے/جی ایس زیڈ)۔
رجسٹریشن فیس گاڑی کی اصل رسید کی قیمت کے مطابق ہوگی اور رجسٹریشن سے قبل مکمل تصدیق ضروری ہوگی۔ محکمہ ایکسائز سندھ کے زیرِ قبضہ ایسی ضبط شدہ گاڑیاں پاکستان کسٹمز کے حوالے کی جا سکتی ہیں بشرطیکہ وہ مجوزہ ایس او پیز کے تحت ساٹھ دن کے اندر اندر رجسٹر کرائی جائیں۔ یہ تجویز کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کی گئی ہے۔ کابینہ نے وزیرِ ایکسائز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے تاکہ ان تجاویز کو قانونی دائرہ کار میں حتمی شکل دی جا سکے۔
تجارتی گاڑیوں کی فٹنس
سندھ کابینہ نے واہ انڈسٹریز لمیٹڈ (واہ انڈسٹریز) کی جانب سے گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے مراکز کے قیام سے متعلق حکومت سے حکومت کے درمیان ایک تجویز کا جائزہ لیا۔سندھ میں اس وقت کل تقریباً 92 لاکھ گاڑیاں موجود ہیں جن میں سے دس لاکھ تجارتی گاڑیاں ہیں۔ فٹنس کے باقاعدہ نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے حادثات، ماحولیاتی آلودگی اور گاڑیوں کی خرابی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے فٹنس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس کے لیے مزید بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ واہ انڈسٹریز کی تجویز میں سات بھاری گاڑیوں کی فٹنس مراکز شامل ہیں جن میں پانچ کراچی میں، ایک حیدرآباد اور ایک سکھر میں قائم کیے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں مزید مراکز اور پچیس ہلکی گاڑیوں کے فٹنس مراکز قائم کیے جائیں گے۔
اس نظام میں تیسرے فریق کے ذریعے نگرانی، اصل وقت پر ڈیٹا ڈیش بورڈز اور اسکرو اکاؤنٹ کی بنیاد پر آمدنی کی وصولی کے انتظامات شامل ہوں گے۔ قانونی ترامیم کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ فٹنس فیس کو موجودہ مہنگائی کے مطابق کیا جا سکے (آخری بار 2015 میں مقرر کی گئی تھی)، نجی گاڑیوں کی سالانہ فٹنس لازمی قرار دی جا سکے (تین سال بعد سے) اور واہ انڈسٹریز کو واحد مجاز ادارہ نامزد کیا جا سکے جسے نفاذ کے اختیارات حاصل ہوں۔ کابینہ نے اس تجویز کی اصولی منظوری دے دی اور فیصلہ کیا کہ صرف تجارتی گاڑیوں (بھاری و ہلکی دونوں) کی فٹنس لازمی ہوگی۔ کابینہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی کہ وہ واہ انڈسٹریز کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں یہ منصوبہ سونپنے پر غور کرے اور ساتھ ہی قانونی ترامیم کے مسودے تیار کرے تاکہ نئے فٹنس نظام کو نافذ کیا جا سکے۔
ورثہ قرار دی گئی عمارتوں کا دوبارہ سروے
سندھ کابینہ نے صوبے کی تاریخی و ثقافتی ورثے کی حفاظت کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 3,371 محفوظ قرار دی گئی عمارتوں کے ازسرِنو جائزے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک یا ایک سے زائد کمیٹیوں کے قیام کی منظوری دے دی۔یہ عمارتیں ابتدائی طور پر سندھ ثقافتی ورثہ (تحفظ) ایکٹ 1994ءکے تحت شناخت اور نوٹیفائی کی گئی تھیں۔ تحفظ کے عمل میں رہنمائی کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ بعد ازاں این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے 2008.09 میں ایک سروے کیا گیا جس کے بعد محکمہ ثقافت نے 2017.18 میں دوبارہ سروے کیا۔ ان دونوں مراحل کے نتیجے میں 3,371 عمارتوں کو ان کی تاریخی اور فنِ تعمیر کی اہمیت کے پیش نظر "محفوظ ثقافتی ورثہ” قرار دیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے کئی عمارتیں موسمی اثرات، غیر قانونی ترمیمات اور بالخصوص نجی ملکیت ہونے کی صورت میں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث شدید بوسیدگی کا شکار ہو چکی ہیں۔ بعض عمارتیں اس حد تک خستہ حال ہو چکی ہیں کہ اب وہ ممکنہ طور پر اپنی اصل تاریخی حیثیت بھی کھو چکی ہیں۔ اس تناظر میں محکمہ ثقافت نے ازسرنو جانچ کے لیے تین مختلف تجاویز پیش کیں، جن کے تحت ہر کمیٹی میں فنِ تعمیر، بحالی، شہری منصوبہ بندی، تاریخ اور اسٹرکچرل انجینئرنگ کے ماہرین شامل ہوں گے۔ کابینہ نے ان تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے کمیٹیوں کے قیام کی اجازت دے دی جو ان عمارتوں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کریں گی۔ اس اقدام کے ساتھ ساتھ، سندھ کابینہ نے اس منصوبے کے مؤثر نفاذ کے لیے دو کروڑ روپے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ان تاریخی عمارتوں کی موجودہ حیثیت کا دوبارہ جائزہ لینا، ان کی درجہ بندی پر نظرِ ثانی کرنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس فیصلے کو حکومتِ سندھ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اس کی ذمہ دارانہ دیکھ بھال کے عزم کی تجدید قرار دیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
تعلیمی بورڈز سے متعلق قانون میں ترمیم
سندھ کابینہ نے سندھ تعلیمی بورڈز انٹرمیڈیٹ و ثانوی تعلیم (ترمیمی) ایکٹ 2025ء میں ترمیم کی منظوری دے دی جس کے تحت گریڈ انیس اور گریڈ بیس کے افسران کو صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں چیئرمین تعینات کیا جا سکے گا۔ یہ ترمیم انتظامی مشکلات اور گریڈ اکیس کے افسران کی کمی کے پیشِ نظر کی گئی ہے، جو اس سے قبل چیئرمین کے عہدے کے لیے اہل قرار دیے گئے تھے۔ اب شق 15(1) کے تحت گریڈ انیس و بیس کے افسران کو تبادلے کی بنیاد پر چیئرمین مقرر کیا جا سکے گا۔ ان کی مدتِ تعیناتی تین سال ہوگی اور دوبارہ تقرری کی اجازت بھی ہوگی۔ کنٹرولنگ اتھارٹی کو براہِ راست تقرری یا تبادلے کے ذریعے تعیناتی کا اختیار حاصل رہے گا۔ اس ترمیم کا مقصد تعلیمی بورڈز کے نظم و نسق کو بہتر بنانا اور تقرری کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل سٹی لمیٹڈ کے حصص کی فروخت
کابینہ نے پاکستان ٹیکسٹائل سٹی لمیٹڈ میں حکومتِ سندھ کے سولہ فیصد حصص سے متعلق تجاویز پر غور کیا۔ یہ منصوبہ پورٹ قاسم میں 1,250 ایکڑ اراضی پر قائم ایک ناکام صنعتی منصوبہ ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی نے تمام حصص مالکان سے فی شیئر 10 روپے کے عوض حصص خریدنے اور کمپنی کے تمام واجبات ذمے لینے کی پیشکش کی ہے۔ حکومت سندھ نے اس منصوبے میں دو کروڑ روپے ایکوئٹی کی مد میں جبکہ دو سو اکہتر ملین روپے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ذریعے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیے۔ حکومت نے تین تجاویز دی ہیں:
زمین کی صورت میں معاوضہ: سولہ فیصد حصہ کے مطابق 200 ایکڑ زمین واپس لی جائے تاکہ آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہو سکے۔
مالی معاوضہ: اراضی، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے اخراجات بمعہ منافع کے عوض 12.48 ارب روپے کا مطالبہ کیا جائے۔آئندہ منصوبوں میں شراکت: اسی زمین پر بننے والے مستقبل کے منصوبوں میں حکومت سندھ کو سولہ فیصد حصص دیے جائیں۔محکمہ خزانہ اور محکمہ قانون نے ان تجاویز کو قانونی اور تجارتی طور پر قابلِ عمل قرار دیا۔ کابینہ نے ایک کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جس میں وزیرِ صنعت، وزیرِ قانون اور وزیراعلیٰ کے خصوصی معاون سلیم بلوچ شامل ہوں گے۔ کمیٹی تمام تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ کمیٹی ٹیکسٹائل صنعتکاروں سے بھی رابطہ کرے تاکہ منصوبے کی فعالیت سے متعلق رپورٹ تیار کی جا سکے۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں ترامیم
سندھ میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے، محکمہ داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں ترامیم کی تجویز دی۔ وفاقی قانون میں کئی اہم عملی نکات کی وضاحت نہیں ہے جیسے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کے لیے عمر کی حد، ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے طریقہ کار اور عدالتوں کی منتقلی یا تحلیل کا باقاعدہ نظام واضح نہیں۔ ان خلا کو دور کرنے کے لیے کابینہ نے شق 13(1) اور شق 28(1) میں ترامیم کی منظوری دی جن کا تعلق عدالتوں کے قیام اور مقدمات کی منتقلی سے ہے۔ ترامیم کے تحت انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججوں کے لیے عمر کی حد اور مدتِ ملازمت میں توسیع کا باقاعدہ طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔ عدالتوں کی منتقلی یا تحلیل کے لیے بھی منظم نظام وضع کیا جائے گا تاکہ مقدمات کے انتظام اور سیکیورٹی تعاون میں بہتری آ سکے۔ ان اصلاحات کا مقصد انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتی کارکردگی، یکسانیت اور قانونی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ منظوری کے بعد یہ ترامیم صوبائی اسمبلی کو بھیج دی گئی ہیں۔
خصوصی تعلیم کے اساتذہ کی اسامیوں کو گریڈ 14 میں ترقی
خصوصی تعلیم اور بحالی مراکز میں طویل عرصے سے ترقی کے مواقع نہ ہونے اور تنزلی کے باعث ملازمین کی مایوسی کے پیشِ نظر کابینہ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے گریڈ 8، 9، 11 اور 12 میں شامل مختلف تدریسی و تربیتی اسامیوں کو گریڈ 14 میں ترقی دینے کی منظوری دے دی۔یہ فیصلہ صوبے کے 66 فعال مراکز میں خدمات انجام دینے والے 170 ملازمین کو فائدہ دے گا جن کے لیے ترقی کے کوئی مواقع موجود نہیں تھے۔ ترقی پانے والوں میں پیشہ ورانہ تعلیم دینے والے اساتذہ ، قرآن اساتذہ ، موسیقی، بریل، ڈرائنگ، جسمانی تربیت کے اساتذہ ، نابینا، بہرے، گونگے اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے اساتذہ ، درزی، قالین، لکڑی، سلائی کڑھائی، مارکیٹنگ کے انسٹرکٹرز اور لیبارٹری اسسٹنٹس شامل ہیں۔ یہ تمام اسامیاں انتہائی مہارت طلب ہونے کے باوجود کم گریڈ میں تھیں حالانکہ ان کا کردار خصوصی بچوں کی تعلیم و بحالی میں نہایت اہم ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے معذور افراد بااختیار بنانے کے محکمے کو ہدایت دی کہ وہ 73 غیر ضروری اسامیوں کو ختم کرے اور نئی ترقیاتی اسامیوں کو موجودہ وسائل میں ایڈجسٹ کرے تاکہ صوبائی خزانے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے ایم ڈی کیٹ داخلہ پالیسی کی منظوری
کابینہ نے سرکاری و نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگراموں کے لیے جامع میڈیکل و ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) پالیسی کی منظوری دی جو پاکستان میڈیکل و ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) ایکٹ 2022ء اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ترتیب دی گئی ہے۔ صوبائی محکمہ صحت سندھ میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ اور داخلوں کو منظم کرتا ہے۔ پی ایم ڈی سی قانون کے مطابق پورے صوبے میں ہر سال یکساں داخلہ ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے لیے باقاعدہ پالیسی بنانا صوبے کی ذمہ داری ہے۔
نئی پالیسی کے تحت میرٹ کے تعین، کامیابی کی حد اور اہلیت کے لیے پی ایم ڈی سی کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائےگا، سندھ ڈومیسائل لازمی قرار دیا گیا ہے جس کی تصدیق بچہ (جوینائل) کارڈ اور بایومیٹرک تصدیق سے کی جائے گی، تمام کالجوں اور جامعات میں نشستوں کی تفصیلات سالانہ پراسپیکٹس میں شائع کی جائیں گی جن میں بعد ازاں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی، ایم ڈی کیٹ 2024 میں تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ ایجنسی کو اس وقت کی ٹیسٹنگ ایجنسی مقرر کیا گیا ہے تاہم آئندہ تقرریاں کارکردگی کی بنیاد پر کی جائیں گی۔
محکمہ صحت کو یہ اختیار حاصل رہے گا کہ وہ داخلہ عمل کو خود بھی مکمل کرے یا کسی نامزد میڈیکل یونیورسٹی کے ذریعے کروائے۔ اگر داخلہ عمل کسی یونیورسٹی کے ذریعے کروایا جائے گا تو محکمہ ایک نگران کمیٹی بھی تشکیل دے گا جو پورے عمل کی نگرانی کرے گی۔
کووڈ ملازمین کی آخری بار توسیع
سندھ کابینہ نے 2019 میں کووڈ ایمرجنسی کے دوران خدمات انجام دینے والے تکنیکی اور معاون عملے کی تنخواہوں کی آخری توسیع اور مرحلہ وار اخراج منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔محکمہ صحت کی سفارش پر کورونا ویکسینیشن مراکز میں ضلعی صحت افسران کے تحت تعینات 2423 تربیت یافتہ اور معاون عملے تیس جون 2025 تک کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس عملے میں انڈر گریجویٹ میڈیکل طلبہ، کمیونٹی ورکرز اور ڈیٹا اندراج آپریٹرز شامل ہیں جنہیں روزانہ 600 روپے کے حساب سے تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے مالی سال 2024.25 کے لیے 530.67 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ تیسرے درجے کے اسپتالوں میں کام کرنے والے 335 پیرا میڈیکل عملے کی خدمات میں بھی توسیع دی گئی ہے۔ ان اسپتالوں میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، سول اسپتال کراچی، لیاری جنرل اسپتال، بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج کراچی اور غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر شامل ہیں۔ اس کے لیے 112.56 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں پچھلی منظوری میں رہ جانے والے سروسز اسپتال کراچی کے 88 پیرا میڈیکل ملازمین کو اپریل 2023 سے تیس جون 2025 تک توسیع دی گئی ہے جس کے لیے 61.6 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
کاربن مارکیٹ کے لیے محکمہ ماحولیات کو مرکزی اتھارٹی مقرر
سندھ کابینہ نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کو صوبے میں کاربن مارکیٹ اور کاربن مالیات سے متعلق تمام اقدامات کا مرکزی ادارہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی شق نمبر4 کے تحت کیا گیا جو پاکستان کی 2024 کی قومی پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔ اس اقدام کا مقصد سندھ کو عالمی موسمیاتی مالیاتی نظام میں مؤثر شراکت دار بنانا ہے۔ اس کے ذریعے سندھ حکومت بین الاقوامی اداروں سے مالی فوائد حاصل کر سکے گی جو ماحولیاتی منصوبوں جیسے شجرکاری اور آلودگی میں کمی پر مبنی ہوں گے۔ کاربن کریڈٹس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی یہ مالیات مقامی سطح پر سبز سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کریں گی۔
فارماکوویجیلنس مرکز کی منظوری
کابینہ نے وفاقی حکومت کی سفارش پر صوبائی فارماکوویجیلنس مرکز کے قیام کی منظوری دی جو طبی مراکز میں استعمال ہونے والی ادویات کے مضر اثرات کی نگرانی اور رپورٹنگ کا کام انجام دے گا۔ جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے مستقبل میں ممکنہ نقصان دہ ادویات کے استعمال سے بچاؤ ممکن بنایا جائے گا۔کابینہ نے ضلع ٹھٹھہ کی دیہہ مکلی میں سندھ یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے لیے ایک سو ایکڑ اراضی مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ قومی ڈیٹابیس و رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو دیہہ ناصر آباد، نیو سکھر میں علاقائی دفتر کے قیام کے لیے 38 گھنٹے اراضی الاٹ کر دی گئی۔کابینہ نے سیکیورٹی یونٹ میں بریگیڈیئر (ر) انعام الحق کو داخلی سیکیورٹی ماہر مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ ساتھ ہی سندھ کی جیلوں میں 1045 اسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دی گئی ہے جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ہیڈ وائرلیس آپریٹر، ڈرائیور ہیڈ کانسٹیبلز اور قیدی محافظ شامل ہیں۔






