*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرقیادت ایجوکیشن سٹی کےلیے تاریخی معاہدوں پر دستخط*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو ایجوکیشن سٹی کے لیے تاریخی معاہدوں پر دستخط کو صوبے اور پاکستان کے لیے ایک ’’تاریخی سنگ میل‘‘ قرار دیا جس کے نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا اسپیشل ٹیکنالوجی زون قائم ہوگا اور ساتھ ہی قابلِ تجدید توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں بڑی غیرملکی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ دستخطی تقریب میں وزیر توانائی سید ناصر شاہ، چیئرمین ایجوکیشن سٹی بورڈ ڈاکٹر عاصم حسین، وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی سید قاسم نوید، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا وسیم، چیئرمین اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) عفراء منظور، سیکریٹری سرمایہ کاری خرم شہزاد، پروجیکٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن سٹی ابرار احمد، میکو اے جی/میکو ہولڈنگ کے چیئرمین بورڈ جو ہانس ڈیٹر ٹروٹسشلر، میکو اے جی/میکو ہولڈنگ کے ایکسل کیزر اور دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایجوکیشن سٹی کراچی میں 435 ایکڑ پر محیط اسپیشل ٹیکنالوجی زون اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہوگا جو سندھ حکومت کے تحت قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ زون جدت، کاروباری صلاحیت اور علم پر مبنی معاشی ترقی کا مرکز بنے گا۔پہلا معاہدہ ایجوکیشن سٹی پروجیکٹ اور وفاقی حکومت کے کابینہ ڈویژن کے تحت اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) کے درمیان طے پایا۔ زون ڈویلپمنٹ ایگریمنٹ کے تحت یہ منصوبہ شفاف فریم ورک کے ذریعے آگے بڑھے گا جس میں ماسٹر پلاننگ، مالی معاونت، تعمیرات، آپریشنز اور گورننس شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت ایجوکیشن سٹی کو ایس ٹی زیڈ اے کے مرکزی ای پورٹل سے ڈیجیٹل طور پر منسلک کیا جائے گا تاکہ لائسنسنگ، ریگولیٹری منظوریوں اور سرمایہ کاروں کی سہولت کاری کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا جا سکے۔معاہدوں کے دوسرے مرحلے میں سوئٹزرلینڈ کی معروف گلوبل کلین انرجی کمپنی میکو اے جی کو اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا۔ میکو ایجوکیشن سٹی میں قابلِ تجدید توانائی کا پلانٹ قائم کرے گی جس میں ہوا، شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی تاکہ ایجوکیشن سٹی کو بجلی فراہم کی جا سکے۔ ابتدائی دس سال تک بجلی 0.11 امریکی ڈالر فی کلو واٹ آور کے حساب سے فراہم کی جائے گی جو موجودہ فراہم کنندگان کے نرخوں کے برابر ہے جبکہ ایجوکیشن سٹی کے لیے چار فیصد رائلٹی بھی مختص ہوگی۔ دس برس بعد ٹیرف میں کمی واقع ہوگی جس سے یہ منصوبہ مزید پائیدار اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن جائے گا۔اس کے علاوہ میکو کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط ہوئے جس کے تحت ایجوکیشن سٹی اسپیشل ٹیکنالوجی زون میں جدید ترین مینوفیکچرنگ سہولت قائم کی جائے گی تاکہ توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید حل تیار کیے جا سکیں۔ اندازاً 100 ملین یورو کی غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) سے قائم ہونے والی یہ فیکٹری مقامی ضرورت کے لیے توانائی اسٹوریج ماڈیول تیار کرے گی اور انہیں بین الاقوامی منڈیوں میں بھی برآمد کرے گی۔ منصوبے سے ایک ہزار سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا اور پاکستان کی حیثیت عالمی کلین انرجی سپلائی چین میں مزید مستحکم ہوگی۔ایجوکیشن سٹی کو ’’پاکستان کے مستقبل کا ویژن‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم، ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور جدید صنعتوں کا امتزاج ایک ایسا ماحولیاتی نظام تشکیل دے گا جو پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کا ضامن ہوگا۔ انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہی کی بدولت جدت اور شمولیت سندھ کے ترقیاتی ایجنڈے کا مرکزی نقطہ بنی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button