میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ کے ایم سی کے سالانہ بجٹ کی منظوری کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اپوزیشن کے رویے نے ان کی منفی سوچ کو عیاں کردیا، یہ لوگ نہیں چاہتے کہ سنجیدگی کے ساتھ کام کیا جائے اور چیزوں میں بہتری آئے اگر بجٹ تقریر سن لیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کراچی میں پانی سمیت دیگر شعبوں میں دیرینہ مسائل کو کیسے حل کر رہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن یرغمال ہے، بعض لوگ مثبت سوچ رکھنے والے ممبران کو کام کرنے سے روک رہے ہیں جس دن انہوں نے مجھے کامیاب میئر کہہ دیا جماعت اسلامی کی سیاست ختم ہوجائے گی، یہ لوگ پریس کانفرنسیں کرتے رہیں میں کام کرتا رہوں گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ اجلاس کے بعد اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ہم جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور ہمارے اندر بہت زیادہ برداشت اور تحمل ہے، ماضی میں سٹی کونسل میں اپوزیشن کے اراکین کو مارا پیٹا گیا مگر ہم نے ہمیشہ شہری مسائل پر سیاست کی، پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی کے میئر کے ساتھ بہت سارے ایشوز پر مل کر کام کیا اور کبھی ایسا منفی رویہ نہیں اپنایا، بجٹ اجلاس سے پہلے میں نے اپنے فنانس ڈپارٹمنٹ سے پوچھا کہ آیا اپوزیشن لیڈر یا اپوزیشن اراکین کی طرف سے کوئی بجٹ تجاویز آئی ہیں مگر مجھے پتہ چلا کہ کوئی تجویز نہیں آئی اسی طرح میرے دفتر میں یا کہیں اور بھی اپوزیشن کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی تجاویز نہیں آئیں تب میں نے خط لکھ کر اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ کو ملاقات کے لئے مدعو کیا اور انہیں بجٹ کے حوالے سے تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا، میں نے ان سے کہا کہ میں چاہتاہوں کہ بجٹ اجلاس اچھے ماحول میں ہو تنقید پر مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ مجھے ان لوگوں کی فہرست دے دیں جو اجلاس میں بات کریں گے، اتنے ہی لوگ ہماری طرف سے بولیں گے، مقصد یہ تھا کہ جو شخص بھی اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہے اسے موقع دیا جائے مگر وہ میٹنگ کا بہانہ کرکے چلے گئے اور اس کے بعد میرے خلاف پریس کانفرنس کرڈالی اور مجھے کوئی لسٹ یا تجاویز نہیں دیں، مجھے بتائیں کہ کس پارلیمانی روایت میں بجٹ سیشن میں پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت دی جاتی ہے، اپوزیشن نے سنہری موقع گنوا دیا کیونکہ ہم نے انہیں بولنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا تھا مگر یہ لوگ پہلے پلے کارڈ لے کر آئے تھے اور ان کی نیت نہیں تھی کہ بجٹ سیشن کا ماحول ٹھیک رکھیں، مگر ہم گورنمنٹ ہیں ہم تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور ہم نے کیا، حالانکہ پیچھے دو اجلاس بہت بہتر ماحول میں ہوئے تھے اور عیدالاضحی پر بھی ہم نے مل کر کام کیا تھا لہٰذا میں توقع کر رہا تھا کہ بجٹ کے موقع پر یہ لوگ ہمارے ساتھ اچھے طریقے سے بحث و مباحثہ کریں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا، بہرحال اب ہم نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت بجٹ منظور کرالیا ہے اور ہم اسی طرح شہر میں کام کرتے رہیں گے اور ہمارا کام خود بولے گا، تنقید کرنے والوں کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اب میئر کراچی اختیارات کا رونا نہیں روتا بلکہ موجودہ وسائل کو بھی بہتر بنا کر شہریوں کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔






