سندھ کے بلدیاتی ادارے مفلوج!لیگل رائٹس فورم اور آواز فاؤنڈیشن کی جانب سے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیرین اعجاز اور طاہر ملک نے وائٹ پیپر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں منتخب بلدیاتی ادارے عملاً غیر فعال اور بے اختیار ہیں۔

حلف برداری میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، صوبائی فنانس کمیشن 2017 سے غیر فعال ہے اور 55 ارب کے ڈویلپمنٹ فنڈز کا بڑا حصہ غیر منتخب بیوروکریسی خرچ کر رہی ہے۔ شیرین اعجاز اور ملک طاھر اورایم پی اے فرح سھیلُ نے میڈیا سے گفتگو 🔹 مطالبات پیش کئے کہ منتخب کونسلز کو فوری فعال کیا جائے۔صوبائی فنانس کمیشن بحال ہو۔کے ایم سی اور دیگر اداروں کو دوبارہ بااختیار بنایا جائے۔ڈویلپمنٹ فنڈز براہِ راست منتخب کونسلز کو دیے جائیں۔میئرز کا براہِ راست انتخاب یقینی بنایا جائے۔یہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے، صوبائی حکومت کو جمہوری اداروں کو فوری بااختیار بنانا ہوگا۔






