*بورنگ مافیا اور پانی کی چوری کا گھناؤنا کاروبار کراچی میں عروج پر*

کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ) شہر میں بورنگ مافیا اور غیر قانونی پانی کی چوری اپنے عروج پر ہے،پانی کی فراہمی کا ریکارڈ نہ ہونے پر پانی چور وں کا گھناونا کاروبار تیزی سے جاری ہے دن دوگنی ترقی کررہے ہیں اور شہر کو کھنڈر میں تبدیل کرتے جارہے ہیں واٹر کارپوریشن کے ذرائع نے تصدیق کیا ہے بورنگ مافیا میں سب سے بڑا ادارہ بحریہ ٹاون بن گیا ہے 2017ء سے تاحال پانی کے واجبات میں 13ارب 85کروڑ روپے تک پہنچ گیابحریہ انتظامیہ ایک روپے 64بور کے واجبات ادا نہیں کیئے سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران بحریہ انتظامیہ نے 64بور کااعتراف کیا تھااور 8سال گزر جانے کے باوجود واٹر کارپوریشن واجبات وصول کرنے میں ناکام رہی ہے اس دوران واٹر کارپوریشن کے سب سوئل واٹر کے قوانین دو مرتبہ تبدیل ہوچکے ہیں تاہم بحریہ ٹاون سے بورنگ کے واجبات کے بجائے افسران انڈر ڈیل پر توجہ تھی،کارپوریشن کے ایکٹ 2023ء پر عملدآمدکرانے میں مکمل ناکام ہوگئے اس بارے میں سب سوئل سیل کے کسی افسر یا اہلکار کو شوکاز نوٹس یا نہ کسی کی معطلی کا پروانا جاری ہوا تھا کارپوریشن کے انتی بڑی رقم کے باوجود کئی چیف ایگز یکٹو آفیسر یا مینجنگ ڈائریکٹر نے کو ئی ایکشن نہیں لیا اور واٹر کارپوریشن نے تصدیق کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر بحریہ ٹاون کے خلاف کاروائی کرتے تو نوکری سے برطرف ہونے کا خدشہ تھا اب بحریہ ٹاون کے خلاف مختلف ادارے کاروائی کررہے ہیں تو واٹر کارپوریشن کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاون کے واجبات کا نوٹس ارسال کردیا گیا ہے اس بارے میں چیف سیکورٹی آفیسر و سب سوئل سیل کے نگران انجم توقیر ملک نے نمائندہ کو بتایا ہے کہ بحریہ ٹاون میں پہلے بورنگ سے پانی استعمال کیا ہے ان کے کئی بور اب بند ہوچکے ہیں بورنگ کے تمام واجبات اوسط بلنگ جاری کردیاگیا ہے بحریہ ٹاون انتظامیہ جلد واجبات وصول کیا جائے گاانہوں نے بورنگ کے گھناونے کاروبار پر خاموشی اختیار کرلیا ہے اور کاروائی سے اجتناب کررہے ہیں چیف سیکورٹی آفیسر انجم توقیر ملک کا کہنا تھا کہ ہم نے لاینوں کے ذریعہ پانی چوری کرکے بورنگ مافیا پر نظر رکھا ہوا ہے ایک بھی شکایات نہیں مل رہی ہیں تاہم انجم توقیر نے بتایا کورنگی میں ایک کمپنی 44بور کرکے اطراف کمپنیوں کو پانی فروخت کررہے ہیں ان کے پاس نہ لائسنس ہے نہ کوئی اجازت نامہ ہے ماضی میں ڈیل کیا جارہا تھا،

ایسی طرف کئی کورنگی،بن قاسم ،لانڈھی ، نارتھ کراچی، فیڈریل بی ایریا، سائٹ میں پانی کی چوری کی شکایات موجود ہے، مجاز اتھارٹی کاروائی کی اجازت دیں گے تو بھرپور کاروائی کیا جائے گا تفیلات کے مطابق تین ہٹی پل کے نیچے لیاری ندی میں کئی طاقتور سب سوئل کے ٹھکداروں نے بیک وقت بورنگ کرنے کا انکشاف ہو ا تھااور سب سوئل واٹر(بورنگ مافیا) بغیر کسی لائسنس اور بغیر کی ں NOCکے دیدہ لیری سے غیر قانونی کام کررہے تھے مبینہ طور پر کارپوریشن کے کسی اہلکار نے چھان بین کرنے کی ضرورت محسوس کیااور کسی خلاف کوئی ایکشن ہوا، نہ کسی خلاف مقدمہ درج کیا گیا، مال مفت دل بے رحم،کراچی شہر، واٹر کارپوریشن کی دولت لوٹ مار کی کھلی اجازت ہے، صرف ہمارا خیال رکھو، ایک مصروف شاہراہ تین ہٹی پل لیاری ندی میں بڑے پیمانے پر بورنگ کیاجارہا ہے،کمپنی کا نام شرف ڈی بلوچ (فیم سکندر جتوئی) کا نام لیتے ہوئے ایک اہلکار کاکہنا تھاکہ وہ بورنگ کا م کررہے ہیں لا ئسنس، این او سی کے بارے میں نہیں جانتا،پہلے جان محمد بلوچ کانام لیاجارہاا ہے پہلے ہی شکیل مہر کے درجنوں بور پل کے نیچے نظر آرہے ہیں، اس طلاع پر سب سوئل واٹر کی فہرسست جانچ پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ اشرف ڈی بلوچ کمپنی کانام نہیں، لائسنس دیکھایا لائسنس حاجی اجمل خٹک کا نام لیا جارہا ہے، محمد اعظم بھی ے نام پر ہے وہ موجو دتھا کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو ز آفیسر احمد علی صدیقی کو تمام ثبووڈاسپ کیا گیا تھا اس کے باوجود سب سوئل بورنگ مافیا کے خلا ف ایک ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی نہ کسی افسر یا اہلکار کے خلا ف کاروائی کیا گیا بورنگ مافیا طاقتور ور بن گئے انہیں پولیس کا بھی خو ف ہے نہ عدالت کوئی ڈر ہے ادارے کے افسر ان بورنگ مافیا سے اپنا مال بٹورنے میں لگے ہیں،اس بارے میں مکمل خاموشی ہے واضح رہے کہ شہر میں کارپوریشن کی سب سوئل واٹر نے 70کمپنی کو لائسنس جاری کیا جنہوں نے 292بورکی تصدیق کیا ہے تااہم بور مجموعی تعداد 12سے تجاوز کرگئی ہے اوررپورٹ کے مطابق شہر ے مختلف مقامات بور کرکے کراچی میں 10رب روپے ذائد کمارہے ہیں اور ادارے کے آمدن ساڑھے پانچ کروڑ روپے آمدن بتایاجارہا ہے، کسی کمپنی کے خلاف ایکشن لیا گیا ملیر ندی اورلیاری ندی کے واقعہ پرسب سوئل واٹر کے نام پر لاقونیت کا راج ہے کارپوریشن کے افسران کا کوئی معلومات نہیں،شہر کو بورنگ مافیا کے رحم پر چھوڑ دیا گیا ہے، زیرزمین پانی نکال کر کراچی کا پانی چوری کرکے منگاداموں میں فروخت کررہے ہیں دوسری جانب زیرزمین پانی نکال کر زمین کھکلا کرکے زلزلہ، قدرتی آفات کے ساتھ موسمی تبدیلی کے دوران ان خطرات کی دعوت دیا جارہا ہے جانی مالی نقصانات اور بڑھی تباہی ہوسکتاہے،ارباب اقتدارمیں موجود تمام حکام سے کراچی کے شہریوں نے زیرزمین پر کمپنیوں کے خلاف شفاف تحقیقات کامطالبہ کیاجارہا ہے،

جواب دیں

Back to top button