صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام نجکاری ملازمین کو مستقل ملازمین کے مساوی حقوق دینے جائیں،انصاف میونسپل ورکرز یونین ڈبلیو ایس ایس پی پشاور

انصاف میونسپل ورکرز یونین ڈبلیو ایس ایس پی کے سرپرست اعلٰی ناصر خان افریدی چیئرمین عدنان مخلص جنرل سیکرٹری عادل زمان صدر نعمان خان سینیئر وائس چیئرمین راحیل خان سینیئر نائب صدر حسن خان خلیل اور یونین کے باقی کابینہ جمال بابر صادق آفریدی عمران مسیح دلاور مسیح جمشید خان خالد خان عدنان یوسفزئ نے تمام صوبائی فیڈریشنوں اور یونینوں سے مطالبہ کیا ۔نجکاری ایک ایسا آئینی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے کوئی بھی فیڈریشن، تنظیم یا یونین چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ 2014ء میں سب سے پہلے لوکل گورنمنٹ ٹی ایم اے کے اندر نجکاری پر دستخط ایک صاحب نے کیے۔ جو آج بھی اگیگا کے ساتھ مل کر نجکاری پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔یہ ایک کھلا تضاد ہے کہ موصوف ڈبلیو ایس ایس پی کے اندر 4 ہزار ملازمین کے سی بی اے کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں، کئی برسوں سے ریٹائر ہیں، لیکن بدقسمتی سے فیصلے حاضر سروس ملازمین کے مستقبل پر مسلط کر رہے ہیں۔ ان 4 ہزار ملازمین میں سے تقریباً 2 ہزار نجکاری ملازمین ہیں، جن کی بدولت حالیہ انتخابات میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ مگر افسوس کہ ان ملازمین کے مسائل پر کبھی آواز نہیں اٹھائی گئی۔اگیگا کے حالیہ پوسٹروں اور بیانات سے بھی یہ حقیقت عیاں ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی یا دیگر اداروں کی نجکاری کے بجائے صرف ایجوکیشن اور ایم ٹی آئی کی نجکاری پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ اس رویے سے واضح ہے کہ اصل درد مستقل ملازمین کے مفاد کے لیے ہے، جبکہ نجکاری ملازمین کی مشکلات محض سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں بار بار احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں، مگر نجکاری برقرار رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ کسی بھی ادارے کو نجکاری میں لاسکتی ہے۔ لیکن ایسا کوئی قانون نہیں جس میں ملازمینوں کا استحصال ہو1. نجکاری کو ختم کرنا ممکن نہیں، مگر اس کے اندر ہونے والے ملازمین کے استحصال کا خاتمہ ہو سکتا ہے 2. نجکاری ملازموں کو مستقل کر کے مستقل ملازموں کی طرح ڈیپوٹیشن پر حوالہ کرے3. ان ملازمین کو صرف ای او بی آئی اور ای ایس ایس آئی جیسے کمزور اداروں سے منسلک کرنا کھلی حق تلفی ہے۔

ہمارا واضح مطالبہ

صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام نجکاری ملازمین کو مستقل بنیادوں پر مستقل ملازمین کے مساوی حقوق دیے جائیں۔جس طرح گزشتہ دس سالوں سے مستقل ملازمین ڈیپوٹیشن پر نجکاری کے اندر کام کر کے سرکاری تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں، اسی طرح نجکاری ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 9، 18، 25 اور 27 کی روشنی میں نجکاری کے اندر ہونے والی ناانصافیوں کا سدباب کیا جائے۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر کم سے کم اجرت 50 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے تاکہ فیکٹریوں اور کارخانوں کے مزدور بھی باعزت زندگی گزار سکیں۔اگر حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ صرف مزدوروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button