میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عباسی شہید اسپتال کے اطراف سڑکوں کی تعمیر، پیور بلاکس منصوبےاورانتہائی نگہداشت یونٹ کی نئی سہولت کا افتتاح کر دیا

میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے عباسی شہید اسپتال کے اطراف سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور پیور بلاکس کی تنصیب سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور عباسی شہید اسپتال کے نوزائید انتہائی نگہداشت یونٹ (NICU) کی نئی سہولت کا افتتاح کر دیا،اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، سردار خان، عباسی شہید اسپتال کی انتظامیہ اور کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے اسپتالوں کے اطراف بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے، جب کہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی مکمل ہونے کے بعد اطراف کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی، عباسی شہید اسپتال میں پیڈیٹرک سہولتوں کی بہتری شہریوں کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے،پیدائشی امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کے لیے این آئی سی یو میں 25 نئے بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اس یونٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے چار نئے وینٹیلیٹرز کی فراہمی کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور ٹراما سینٹر میں بھی سہولیات کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے،

انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے اطراف مختلف سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ یو سی 47، 48، 49، 50 اور 51 میں پیور بلاکس بچھانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، منصوبے میں سب بیس کورس اور ایگریگیٹ بیس کورس کے مجموعی طور پر 75 ہزار مکعب فٹ بلاک استعمال کیے جائیں گے، 80 ملی میٹر کے 2 لاکھ 25 ہزار اسکوائر فٹ جبکہ 60 ملی میٹر کے 80 ہزار اسکوائر فٹ پیور بلاکس بچھائے جائیں گے، کارپٹنگ کے لیے 1 لاکھ 55 ہزار اسکوائر فٹ رقبہ مختص کیا گیا ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے اطراف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں جنہیں بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اب اس وعدے کی تکمیل کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں طویل عرصے بعد شہر بھر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں،گزشتہ ڈیڑھ سال میں عباسی شہید اسپتال میں پیڈیائٹرک شعبے میں چار سے پانچ اہم انٹروینشنز کی جا چکی ہیں جن کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کو صرف بیس روپے کی پرچی پر بچوں کے علاج کی معیاری سہولت میسر آ رہی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ ٹراما سینٹر کے اوپر پچاس بیڈز پر مشتمل ایک نئی سہولت قائم کی جا رہی ہے جس پر عنقریب کام شروع کر دیا جائے گا، ان اقدامات کا مقصد عوام کو معیاری، تیزتر اور قابلِ رسائی طبی خدمات فراہم کرنا ہے، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے حوالے سے ماضی میں تو وعدے ہوئے لیکن ڈسٹرکٹ سینٹرل کی عوام کے لیے سرکاری یونیورسٹی کے قیام کا عملی قدم پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اٹھایا، کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کا بل سندھ اسمبلی سے منظور کرایا گیا اور اب یہ یونیورسٹی مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے،میئر کراچی نے اعلان کیا کہ چند ہفتوں میں مکمل ہونے والے نئے قائد بلاک کے لیے کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے تعاون سے نیا سینٹر آف ایکسیلینس برائے ہیلتھ سروسز قائم کیا جائے گا، اس مرکز میں ذیابیطس، اسکن کے امراض، فزیوتھراپی اور خصوصی بچوں کے علاج کی تمام سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کی جائیں گی تاکہ مریضوں کو جنرل اسپتال جانے کی ضرورت نہ پڑے اور انہیں عزت اور باوقار ماحول میں خدمات مل سکیں،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں اسفالٹ کارپٹنگ کا کام باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے،ہم پیپلز پارٹی کے لوگ جو بات کرتے ہیں وہ پوری کرتے ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے تمام اثاثے اور آمدنی شہر کی عوام کی امانت ہیں اور انہی کی بہتری کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں،انہوں نے جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز سے کہا کہ ان کے پاس روڈ کٹنگ کی مد میں موجود 14 سے 15 ارب روپے کی رقم اکاؤنٹس میں رکھنے کے بجائے شہر کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے تاکہ یکسوئی کے ساتھ ترقیاتی کام آگے بڑھے،میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ہم سب کا شہر ہے، اسے بہتر بنانے کے لیے اجتماعی سوچ اور یکسوئی ضروری ہے، یہ اسپتال شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 میں تعمیر کرایا تھا اور اس کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر مصطفی کمال کی جانب سے اگر عباسی شہید اسپتال کے لیے کوئی بڑا پیکیج لانے کی کوشش کی جائے تو اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے وہ اس پر ان کے شکر گزار ہوں گے، انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین سازی اسمبلی اور عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے۔ بہت سے لوگ حقائق کے برعکس پروپیگنڈا کرتے ہیں جبکہ ہر چیز آئین میں درج ہے،انہوں نے اسپتالوں میں چلنے والی فارمیسیز اور بلڈ بینکس سے متعلق واضح کیا کہ جو بھی ادارہ اسپتال کی عمارت استعمال کرے گا، اسے کرایہ ادا کرنا ہوگا، چاہے وہ فارمیسی ہو یا بلڈ بینک۔ ادویات سے متعلق مسائل بھی جلد حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے عباسی شہید اسپتال میں غیر ذمہ داری پر دو ڈاکٹرز کو معطل کرنے کی ہدایت کی جس پر سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ دونوں کو پہلے ہی شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں،میئر کراچی نے شہرمیں پارکوں کے گرد بنائی گئی دیواریں عوام کے لیے رکاوٹ بنتی ہیں، میرا ماننا ہے کہ پارکس کی دیواریں نہیں ہونی چاہئیں تاکہ شہری ہریالی سے لطف اندوز ہو سکیں، انہوں نے فریئر ہال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب سے بہترین پارک ہے کیونکہ اس کے گرد کوئی دیوار نہیں، اسی فلسفے کے تحت بے نظیر بھٹو پارک، باغ ابن قاسم اور بیچ ویو پارک کی دیواریں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے ایمپریس مارکیٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کی بہتری کا کام تیزی سے جاری ہے، 15 دسمبر کو اسے مکمل کرکے کھول دیا جائے گا جبکہ ہوتی مارکیٹ 30 نومبر تک کھول دی جائے گی۔ مزید ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز بھی جاری کردیئے گئے ہیں، یہ ترقی اور بہتری کا سال ہے اور جو وعدے کراچی والوں سے کیے تھے، وہ پورے کیے جائیں گے،کام ہو رہا ہے اور کراچی میں تبدیلی نظر بھی آ رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button