محکمہ بلدیات پنجاب کے پی ایم یو کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد،پی آئی ٹی بی سے معاہدہ سائن

محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔جس میں پنجاب کے 41 اضلاع کے 110 سے زائد ٹاؤن پلانرز نے شرکت کی۔جن میں بلدیاتی اداروں کے علاوہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے ٹاؤن پلانرز شامل ہیں۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ معاہدہ بھی سائن کیا گیا جس کے مطابق وی ڈی ایس سیٹلائیٹ بیسڈ سسٹم پلیٹ فارم سے غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی اور نشاندہی ہو سکے گی۔خصوصی طور پر وزیر اعلٰی مریم نواز شریف کے ویژن، وزیر بلدیات ذیشان رفیق، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں زرعی اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔زرعی اراضی پر کوئی تعمیر ہو گی تو متعلقہ مقامی حکومت یا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو فوری نشاندہی اور آگاہ کیا جائے گا۔جس کے لئے پلاننگ سپورٹ سسٹم، ای کنسٹرکشن اور ای بیز پورٹل سے مدد لی جا سکے گی۔فاٹا کی طرف سے بھی ورکشاپ کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا گیا۔

ورکشاپ میں *ہینڈ آن لرننگ، لائیو ایشوز کو حل کرنے، اور افسران کو بہتر پبلک سروس ڈیلیوری کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی*۔پی آئی ٹی بی کی ٹیکنیکل ٹیم نے ڈی جی کی نگرانی میں شرکاء کو رہنمائی فراہم کی اور فیصلہ کیا گیا کہ شرکاء کی طرف سے اٹھائے گئے اور اجاگر کئے گئے مسائل کو حل کرنے کے لئے پی آئی ٹی بی کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ محکموں کو بھی شامل کیا جائے گا۔لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، پنجاب پی ایم یو کی پروجیکٹ ڈائریکٹر

ام لیلیٰ نقوی نے بتایا کہ یہ سیشن ایک وسیع تر تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ پنجاب کی منصوبہ بندی کا منظر نامہ ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی، شفاف عمل اور ہر شہری کے لیے بہتر فیصلہ سازی کی طرف بڑھتا ہے۔وزیر بلدیات، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کی ہدایات کے مطابق لینڈ یوز پلانز مکمل ہو چکے ہیں۔پنجاب میں وزیر اعلٰی مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق نمایاں بہتری آئے گی۔غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں میں کمی ہو گی اور زرعی اراضی پر مزید غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہوگی۔دو روزہ ورکشاپ میں بریفنگ،تربیتی سیشن،پی آئی ٹی بی سے ایم او یو سائن کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button