وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی سکیموں میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ایڈیشنل سیکرٹری قراۃ العین نے بریفنگ دی۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) اور مری ڈویلپمنٹ پروگرام (ایم ڈی پی) کے ٹائم فریم کا خیال رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فلاح کے جاری منصوبوں میں وزیراعلی مریم نواز کی ہدایات اور وژن کو لازمی مدنظر رکھا جائے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران وزیراعلی کے ضلعی دیرپا ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) پروگرام کے تحت 52 ارب سے 2800 سکیمیں مکمل کی گئیں۔ الحمداللہ ایس ڈی جیز کی یہ تمام سکیمیں گزشتہ سال شروع ہوکر ایک سال کے اندر مکمل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مری ترقیاتی پروگرام کے تحت 2.6 ارب کی لاگت سے 32 سکیمیں مکمل کی گئیں۔ اسی طرح مری میں بارانی پانی کے ذخیرے اور مال روڈ کی اپ لفٹنگ کی سکیموں پر کام جاری ہے۔ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلٰی کے مریم نواز مثالی گاؤں پروگرام کے تحت 800 دیہات میں سیوریج، نکاسی آب کی سکیمیں مکمل ہوں گی۔ دیہات میں واٹر سپلائی اور روایتی چھپڑوں کی بحالی کے اس منصوبے پر 60 ارب لاگت آئے گی۔ ابتدائی طور پر پنجاب کے 550 دیہات کو ماڈل ویلیج پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ دیہات میں کچی گلیوں کو پختہ کرنے کے ساتھ چلڈرن پارک بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں لاہور کے تاریخی ورثے کی حفاظت اور ترقی کے منصوبے ”لہر“ LHAR کی سکیموں پر بھی غور کیا گیا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ”لہر“ کے تحت نئے پارکنگ پلازوں اور بجلی کے انڈر گراؤنڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر ہوگی۔ قدیم شہر کے لئے نکاسی آب، فصیل، سرکلر گارڈن اور نیلا گنبد ایریا کی بحالی سمیت 32 ارب کی 16 سکیمیں بنائی گئی ہیں۔ مغلیہ دور کے شاہکار شالامار گارڈنز اور ناصر باغ کے نزدیک بھی زیر زمین پارکنگ اور آرکیڈ بنائے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ والڈ سٹی لاہور اتھارٹی قدیم تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے منصوبے نہایت احتیاط کے ساتھ مکمل کرے۔





